• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سبق پھر پڑھ مارچ، کا جلسے کا، دھرنے کا۔۔۔محمد منیب خان

سبق پھر پڑھ مارچ، کا جلسے کا، دھرنے کا۔۔۔محمد منیب خان

مولانا فضل الرحمن نے کل جلسے سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان کو استعفی دینے کے لیے دو دن کی مہلت دے دی ہے۔ میں کوئی کاہن، نجومی یا ستارہ شناس نہیں کہ بتا سکوں اگر وزیراعظم مستعفی نہیں ہوتے تو آگے کیا ہو گا۔ نہ ہی میں کسی چینل سےوابستہ کُل وقتیباخبراینکر ہوں کہ ہر گزرتے گھنٹے  میں ایک  پیشن گوئی کر کے آپ کی گفتگو کا موضوع بنتا رہوں۔ نہ ہی میں کسی روزنامے سے وابستہ کوئی صحافی جو اسلام آباد میں اقتدار کی غلام گردشوں سے کوئی خبر لا کر آپ کی توجہ حاصل کروں۔نہ ہی میں کوئی بلاگر ہوں کہ یوٹیوب پہحقائقسے اپنی خواہش کے تابع غیر منطقی نتیجہ نکال کر آپ کی روحوں کو آسودگی فراہم کروں۔ لہذا میرے پاس نہ تو خبر ہے نہ تجزیہ اور نہ کوئی پیشن گوئی۔ البتہ طالب علم کے  طور پہ حالات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے اوراس جائزے سے حاصل ہونے والے نتائج کو سب کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دھرنے کی روایت زیادہ پرانی نہیں ہے۔ گو احتجاجی سیاست اور پاکستان کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن احتجاجی سیاست میں دھرنا ایک نئی روایت ہے۔ ملک کی بہتّر سالہ تاریخ میں بیش بہا تحریکیں اُٹھیں، اَن گِنت جلسے جلوس اور مارچ ہوئے۔ دسیوں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتالیں ہوئیں۔ لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سارے طالب علم اور اساتذہ اس بات پہ مکمل نہیں تو کم از کم کسی حد تک متفق ضرور ہوں گے کہ پاکستان کی ہر احتجاجی تحریک  کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ رہا ہے۔ اور یہ فیصلے بھی بہرحال اسٹبلشمنٹ  کی ہی دسترس میں رہے کہ کونسی احتجاجی تحریک کو کتنا کامیاب بنانا ہے اورکتنا ناکام اور اس کامیابی کے بطن سے مزید کیا کچھ نکالنا ہے۔ حتی کہ  فوجی آمر جنرل مشرف کے ہوتے ہوئے بھی احتجاجی تحریک اسٹبلشمنٹ کی آشیر باد سے ہی چلی اور ایسی چلی کہ منزل کے حصول پہ جا کر ختم ہوئی۔

اس سارے سیاسی احتجاج کی تاریخ میں بہت سے جلسے جلوسوں کا حال بیان کیا جا سکتا ہے بہت سی ہڑتالوں کی کہانی سنائی جا سکتی ہے۔ لیکن جس لمحے ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ  تحریک نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہو یا ججوں کی بحالی تحریک،اس کو اسٹبلشمنٹ کی آشیر باد حاصل تھی تو یہ محض آشیر باد نہیں تھی بلکہ یہ تحریکیں کسی نہ کسی  طرح  اسٹبلشمنٹ کاہیبرین چالڈتھیں۔ یہی نہیں نوّے کی دہائی میں جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان بلی چوہے کا کھیل جا ری تھا تواس وقت بھی پاکستان کی غیر سیاسی اشرافیہ محض تماشائی نہیں تھی بلکہ ان کا اس ساری صورتحال میں اپنا کردار تھا۔

گذشتہ ستّر سال کے بالعموم اور گزشتہ چالیس سال کی بالخصوص احتجاجی تحریکیں نا صرف اسٹبلشمنٹ کی مرہون منت رہیں بلکہ ان میں سیاستدانوں کو بھر پور استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کسی داڑھی والے کو مذہب کے نام پہ اور کسی کلین شیو کو لبرل ازم کے نام پہ،مقصود کو ان کی سوچ سے قریب تر کر کے دیکھایا اور بتایا جاتا رہا۔ مُلّاؤں کو سمجھایا گیا کہ دین خطرے میں ہے اور دوسروں کوبتایا گیا کہ جمہوریت کو بہت خطرہ ہے لہذا سب اپنی اپنی جگہ خلوص دل سے نہ صرف ڈٹے رہے بلکہ استعمال ہوتے رہے۔

اسی سیاسی احتجاجی تحریک کی سوچ کو نیا رنگ سن 2013 میں دیا گیا۔ علامہ طاہر القادری چند سال کے وقفے کے بعد یکدم سیاسی قرطاس پہ نمودار ہوئے اور اس وقت کی جمہوری حکومت کے خلاف طبل جنگ بجا دیا۔ آپ کو کبھی فرصت ہو تو آپ اس دھرنےکے مطالبات ضرور پڑھیے گا۔ اس جلوس کی لاہور سے اسلام آباد تک لمحہ با لمحہ لائیو کوریج بھی کی گئی۔علامہ صاحب کا قافلہ،قافلہ حسینی بنا کر پیش کیا گیا۔ مریدین جنوری کی ٹھٹھرتی سردی میں کھلے آسمان کے نیچے راتیں گزارتے رہے۔ اسی دوران یوسف رضا گیلانی کی عدالت سے معزولی کو علامہ صاحب نے اپنی فتح کے طور پہ ڈکلیئر کیا لیکن نتیجہ کیا نکلا؟وہی ڈھاک کے تین پات۔چند دن مذاکرات کا ڈھول بجتا رہا اور پھر علامہ صاحباوپرسے حکم ملتے ہی اپنا دھرنا سمیٹ کر واپس چلے گئے۔ یہ قرین قیاس ہے کہ پاکستان میں احتجاجی سیاست کا یہ پہلا دھرنا تھا۔

اسی سال مئی کے مہینے میں  نئے الیکشن کے نتیجے میں مسلم لیگ ن نے واضح برتری سے حکومت قائم کی تو عمران خان صاحب کوچار حلقوں کی دھاندلی کا غم ستانے لگا۔ وہ غم روز بروز اس قدر گہرا ہوتا گیا کہ خان صاحب نے اگست 2014 میں حکومت وقت کےخلاف آزادی مارچ اور دھرنے کا اعلان کر دیا۔ اس سے چند ماہ پہلے لاہور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن ہونے کی وجہ سے علامہ طاہر القادری ایک بار پھر مرکز نگاہ بنے رہے اور جہاں ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کا قصاص لینا انہوں نے خود پہ فرض کیا وہاں گزشتہ ایجنڈے کی تکمیل اور انقلاب کے خواب سجائے وہ بھی عمران خان کے ہم رکاب ہو گئے۔ اس کے بعد 126 دن کیا ہوتا رہا وہ سب کی یادداشتوں میں محفوظ ہے اور ٹی وی چینلز کی آرکائیو اس سے بھری ہوئی ہیں۔

پاکستانی سیاست پہ نظر رکھنے والا کوئی شخص بھی دونوں دھرنوں کے پیچھے اسٹبلشمنٹ کے ملوث ہونے کی نفی نہیں کر سکتا۔یہ بات کوئی راز نہیں کہ عمران خان کو کسی ایمپائر کی انگلی کا انتظار تھا۔ یہ بات بھی قابل انکار نہیں کہ اس سے پہلے کی ججزبحالی تحریک میں بھی گوجرانوالہ میں میاں نواز شریف سے کس ادارے نے بات کر کے ججوں کی بحالی کی نوید سنائی۔ اور  علامہ خادم رضوی کے فیض آباد دھرنے پہ تو عدالت عظمیٰ کا فیصلہ تک موجود ہے۔  ان سارے دھرنوں میں آپ کو پاکستان کی غیر سیاسی اشرافیہ کا کردار ہر جگہ نظر آئے گا۔

یہی وہ اسباق ہیں  جو گزشتہ چار دہائیوں سے سیاستدانوں کو پڑھائے گئے اور اس آخری دہائی میں دھرنے کا نیا سبق شامل کیا گیا۔مولانا فضل الرحمن ماضی کے ان سارے اسباق کے چشم دید  گواہ ہیں۔ جبکہ دوسری طرف میاں نواز شریف سے زیادہ اسٹبلشمنٹ کو کون جانتا ہوں گا جو خود کئی سال ان کے حواری رہے بلکہ ان کا ہراوّل دستہ تھے۔ اب یہ دونوں اصحاب خم ٹھونک کر میدان میں نکل آئےہیں۔ مولانا نے کمال ہوشیاری سے اپنا کوئی پلان ظاہر نہیں کیا۔ حکومت نے جہاں جلسے کی اجازت دی،مولانا نے قبول کر لی۔ مولانا نےستائیس اکتوبر کو مارچ کا آغاز کیا اور مارچ کئی شہروں میں قیام کرتا ہو اکتیس کو اسلام آباد پہنچا۔ اس جلسے کے پیچھےاسٹیبلشمنٹ کے کردار بارے چہ مگوئیاں ضرور ہوئیں۔ لیکن یکم نومبر کو جلسہ ہوا تو مولانا کی تقریر سے یہ بات طشت از بام ہوئی کہ کم از کم اس احتجاجی تحریک کے پیچھے اسٹبلمشنٹ کا کوئی کردار نہیں۔ بلکہ یہ تحریک تو شاید عمران خان سے زیادہ اسٹبلشمنٹ کے خلاف ہے۔ اور تقریر میں واضح پیغام بھی دیا جا چکا ہے۔ آگے کیا ہوتا ہے اللہ بہتر جانتا ہے۔ میڈیا نے چاہے لمحہ بالمحہ کوریج نہیں دی لیکن عوام کا جم غفیر اسلام آباد میں جمع ہُو ا ہے۔ جلسے، جلوسوں اور دھرنوں سے حکومت کو گھر بھیجنا نہ کل مستحسن عمل تھا نہ آج اس عمل کی پذیرائی کی جا سکتی ہے۔ لیکن آگے کنواں ہے اور پیچھے کھائی،  یا تو ملک کو کنڑولڈ جمہوریت کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا جائے یا پھر جلسے،جلوس اور دھرنے دے کر حقیقی جمہوریت کو اپنا لیا جائے۔ یقیناً دھرنوں کی روایت غلط ہے لیکن سانپ کا سر کچلنے کے لیے لاٹھی اٹھانی پڑتی ہے۔

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *