محبت کُھرک ہے،سے اقتباس۔۔۔سلیم مرزا

مقدر کا عروج ملاحظہ ہو، ،پومی بٹ کی چھ دکانوں میں سے ایک ملی
کرائے دار بھی ہوئے تو کس کے؟
نہ کوئی ایگریمنٹ، نہ ایڈوانس، سیدھا کرایہ پوچھا اور گھس گئے، مدت  معاہدہ کا بھی  کوئی تکلف نہیں تھا، پوچھا تو کہنے لگے
“جب جی چاہے خالی کر دینا ”
“اگر جی لگ گیا تو “؟
“تو ہم خالی کروالیں گے ”
شیخوپورہ موڑ پہ کام خوب چلا، اسی دکان کی وجہ سے میرا رشتہ ہوا، جو کچھ زیادہ ہوگیا ۔
سب سامنے واقع مندر اور سائیڈ پہ واقع طوطیانوالی مسجد کی برکت تھی۔حالانکہ مسجد میں کوئی طوطا نہیں تھا اور مندر میں بھگوان کی جگہ ایس ایچ او تھانہ سبزی منڈی تعینات تھا،تھانیدار کے آگے جس کی پراتھنا اثر نہ کرتی وہ مسجد میں سفارشی دعا مانگنے پہنچ جاتا۔
میری شادی گوکہ میرے لئے بھی ایک دھچکا تھی مگر اس سانحے کو بھی نظر لگ گئی،بٹ صاحب نے دکان خالی کروالی،
میرے دکان پہ دھرنے کے ساتھ پومی بٹ نے وہی کیا ،جو بہت سالوں بعد عمران خان کے لانگ مارچ کے ساتھ کیا تھا، اسے ایک سو پچیس کی  سپیڈ سے ہیڈکوارٹر پہنچایا، مجھے گدھا گاڑی پہ ورکشاپ لدوا کر سیدھا سیالکوٹی دروازے۔
شیخوپورہ موڑ پہ سامنے مندر تھا، سیالکوٹی پھاٹک پہ گرودوارے میں جگہ ملی،
ہم برآمدے میں اور اردگرد کمروں میں ڈھول والے، کھسرے، بنیان والے، فقیر اور نجانے کون کون تھا،۔اور تو اور گردوارے میں گرو بھی تھا ،مگر وہ کھسروں کا تھا ۔
ٹریڈ سنٹر والے حنیف بٹ آئے تو گلے مل کے مبارکباد دی”وکی اب گروپ آف کمپنیز کا مالک تھا ”
اب اگرلائٹ والا سائن بورڈبنتا تو شارٹ سرکٹ چیک کرنے کو ٹیسٹر ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں تھی، ایک ڈھولچی کو آواز دیتے،
“یار ذرا یہ سائن ایک طرف کروانا “وہ پکڑتا تو کہتے”چل یہیں پڑا رہنے دے “۔۔
یہ معاملہ تب تک چلتا رہا جب تک معذور فقیر تک سب کو کرنٹ نہیں لگ گیا۔۔
آخر کار بیس روپے کا ٹیسٹر خرید لیا،
سائن کمپنی مسلسل بحران کا شکار تھی، چنانچہ مالیاتی بحران سے نبٹنے کیلئے اکثر اپنےاسٹیفن ہاکنگ ٹائپ فقیر سے مدد لینی پڑتی،
جو سیالکوٹی پھاٹک پہ لکڑی کی ریڑھی سیلف ڈرائیو کرکے بھیک مانگتا تھا،
ایل جی ٹیلیویژن کا کام ملا تو کراچی سے ان کا ایڈورٹائزنگ منیجر ہماری استعداد دیکھنے آیا ۔
انہیں گاڑی تک چھوڑنے جا رہا تھا، پھاٹک پہ فقیر پانچ روپے والے لیمن سوڈے سے دل بہلا رہا تھا۔مجھے دیکھتے ہی بوتل لہرا کر کہا ۔۔”وکی صاحب، کچھ ٹھنڈا ہوجائے “؟
میں شرمندہ سا ہوا، اور اسے اشارہ کرکے کہا”نہیں، میرے ساتھ کچھ مہمان ہیں ”
“جناب مہمانوں کو بھی پلاتے ہیں، یہاں کون سی کمی ہے “؟
لعنتی کا منہ توڑ دیتا اگر دس ہزار کا مقروض نہ ہوتا،
ایک بار ایک رکشے والے کو کرایہ دینے لگا تھا پانچ روپے کم تھے، پاس ہی زمین پہ پیٹھا تھا، میں نے اس کے سامنے سے پانچ والا سکہ اٹھا کر رکشے والے کو دیدیا،اور آگے بڑھ گیا،،
شام کو مجھے  سٹیفن نے بتایا کہ وہ اسے دس روپے دیکر گیا ،
اور مجھے دس گالیاں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *