خامہ بدست غالب(غالب کے فارسی اشعار)۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

۰قرب کعبہ چہ حظ ؟
؎ دگر ز ایمنیٗ راہ و قرب کعبہ چہ حظ ؟
مرا کہ ناقہ ز رفتار ماند و پا خفتست
۔ غالب

رات بھر برف گرتی رہی ہر طرف
میں کہ بیمار تھا
بار بستر تھا اس گھر کے اندر، جہاں
روشنی تھی ابھی، کچھ حرارت بھی تھی
ایک مدھم سی لو ٹمٹماتی ہوئی
جل رہی تھی کہیں جسم کے غار میں
اور باہر سے یلغار کرتی ہوئی
جسم کی کھڑکیاں کھڑکھڑاتی ہوئی
برف تھی، موت تھی

فون کی بیل بجی
دوسری سمت، دنیا کی اُلٹی طرف
(ممبئی شہر میں)
دوستی، خیر خواہی کا مارا ہوا
ایک شاعر تھا ۔ گلزار
خوش خلق، شیریں بیاں

پیار سے، سچے جذبے سے اس نے کہا۔
اس علالت سے گھبرایئے گا نہیں
آپ شاعر ہیں، فن میں اماں ڈھونڈھیے
اس سرِ نو بحالی کی خاطر، میاں
شاعری کی ہی مالا جپیں ہر گھڑی
رات دن بس یہی ورد کرتے رہیں
شاعری، شاعری، شاعری، شاعری‘

بات کرنے کی ہمت نہیں تھی، مگر
کھڑکیوں میں سے یلغار کرتی ہوئی
برف کی سمت دیکھا، کہا ۔’ ’مہرباں
شعر سنیے اسد اللہ خاں کا، کہ یہ
ترجمانی کرے گا مرے حال کی
شعر پڑھ کر سنایا تحمل سے، اور
فون کو ساتھ کے میز پر رکھ دیا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۰ اب مجھے راستے کے تحفظ اور کعبہ کے قریب پہنچ جانے کا کیا فائدہ؟ جبکہ تھکاوٹ سے مارے اونٹ کی رفتار ماند پڑ گئی ہے اور میرے پاوں سو گئے ہیں۔
۰یہ نظم پراسٹیٹ کینسر کی بیماری کے دوران، ان دنوں میں لکھی گئی جب بچنے کی امید بہت کم رہ گئی تھی ۔ ممبئی سے گلزار اور پاکستان سے کچھ دوست لگ بھگ ہر ہفتے فون کیا کرآتے تھے۔

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *