بادبان!ٹمٹماتے چراغوں کی داستان(قسط8)۔۔۔۔محمد خان چوہدری

گزشتہ قسط:

اصغر اور ذیشان واپسی ڈرائیو میں بے اے کے امتحان بارے پلان بناتے رہے کہ مضامین ، بکس ۔نوٹس، داخلہ پرائیویٹ امتحان کے فارم اور دیگر کام کیسے کریں گے کالج میں کلاسز اور ٹیوشن کیسے ممکن ہو گی، راستے میں اصغر کے ذہن میں جھماکہ  ہوا کہ وہ دن کو اپنی ڈائری اور پاؤچ تو  رولے میں میجر صاحب کے گھر بھول آیا۔ اس نے ذیشان کو ڈراپ کیا اور سیدھا میجر صاحب کے بنگلے پر پہنچا۔ ڈرائیو وے پر جیپ پارک کی تو وہ فیملی لان میں ٹی پارٹی کر رہے تھے۔
اسے دیکھ کر سب خوش ہوئے بیگم صاحبہ نے تالی بجا کے کہا کہ میں شرط جیت گئی۔۔
انہوں نے پاؤچ۔ڈائری سنبھالی تھی ، اعلان کیا کہ اصغر آج دوبارہ آئے گا میجر صاحب نہ مانے، شرط لگ گئی اور اب وہ جیت گئیں۔۔ برادری اور خاندان میں مل جل کر رہنے کا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بچے سب بڑوں کی محبت اور تربیت سے فیضیاب ہوتے ہیں، ۔۔۔بیگم صاحبہ نے پاؤچ ڈائری اصغر کو لا کے دی اور شرط جیتنے پر دعاؤں سے بھی نوازا ۔
باوا جی کے سامنے تو ماحول پر تکلف اور مؤدبانہ ہوتا۔ لیکن ویسے میجر صاحب کے ہاں اصغر گھر کا فرد ہوتا۔

میجر صاحب سے اس نے کہا کہ انکل اس تاجی شاہ کا باوا جی سے مکُو آپ نے ٹھپوانا ہے، اور منشی انکل کی ڈھبریاں بھی ٹائیٹ ہونی چاہیئں ۔۔ اتوار کو میں صبح آ کے آنٹی اور بچوں کو لے جاؤں گا۔ آپ تاجی شاہ کو لائن اپ کریں،اور آپ اسے اپنے ساتھ لائیں گے۔

آٹھویں قسط:

باوا وقار شاہ کی شروع سے روٹین تھی ملتان ہوتے تو جمعرات کو وہاں کے کسی دربار پہ حاضری دینے ضرور جاتے۔اس بار مصروفیت کی مقدار اور رفتار اتنی رہی کہ دو جمعراتیں گزریں ، فرصت ندارد۔ ہفتے کی صبح انہوں نے بیٹے سے سرسری سا تذکرہ کیا، اصغر شاہ نے فوری شیڈول طے کیا، دونوں نے تیاری کی ، منشی کو ساتھ لیا اور جیپ پر دوپہر تک چاروں بڑے مزاروں پہ حاضری ہو گئی، مزاروں کے متولی اور اہلکار تو سب باوا جی کے جان پہچان والے تھے، خاطر مدارات پر مُصر تھے، باوا جی صحت کے عذر پہ  معذرت ، بس زیارت پہ اکتفا کرتے واپسی پہ  چک میں رُکے، منڈی میں لوگوں سے ملاقات کی، شیخ جی کی آڑھت پہ  چائے پی۔ کرم شاہ والی دکان، حاطے کے مکان اور اپنے گھر جہاں منشی کی بیٹی مقیم تھی ، جائزہ لیا، اس دوران اصغر نے منشی کے بیٹوں ، داماد اور بیٹی کو اگلے روز مربعے والے ڈیرے پر دعوت کی اطلاع دی ، سب کو آنے کی ہدایت کی، ڈریس کوڈ سمجھایا، ٹینٹ سروس والے کو بھی ضروری سامان کی لسٹ بنا دی ۔ یہ آرڈر بھی دیا کہ صبح نو بجے تک بندوبست مکمل ہونا چاہیے ۔

اتوار کی صبح باوا وقار شاہ کے ڈیرہ پر فوجی پریڈ کی تیاری کا منظر تھا۔
گیٹ پر ملازم گارڈ اور ڈرائیور ملیشیا کی شلوار قمیض میں ملبوس ، کمر پہ گولیوں بھری بیلٹ، ایک کے پاس بندوق دوسرے کے گلے سے لٹکی کلاشنکوف ، چوکس کھڑے تھے، صحن میں چھولداری لگی تھی، جس کے نیچے چارپائیاں اور ان پر دریاں بچھی ہوئی  ، سرہانے پڑے ہوئے تھے۔ برآمدے میں ٹیبل پر سفید چادر ، کراکری سجی ہوئی  اور درجن
بھر کرسیاں، کونے پہ  ٹیبل پر دو بڑے پانی بھرے کُولر، جگ گلاس ، غرض لنچ کا پراپر ڈیکور تھا۔
منشی کے گھر میں چک کے مستقل کُک نائی  کھانا پکا رہے تھے،اصغر شاہ کینٹ سے میجر صاحب کی فیملی کو لے کے دس بجے واپس پہنچا ۔ بیگم اور بچے اتنے خوش تھے کہ کہیں بیٹھنے کی بجائے منشی کی بیٹی کے ساتھ باغ میں چلے گئے، بیٹھک سے ملحق نوکروں کے کوٹھے اور مویشی خانہ تھا۔
پرانے پیپل کے بڑے درخت پہ  ملازموں کے بچوں نے جھولے بھی ڈال رکھے تھے، بچوں کے شوق کی ہر شے تھی،وہ کھیل کود میں مشغول ہو گئے بیگم صاحبہ منشی کی بیوی ، بیٹی، اور ملازم گھروں کی خواتین کے ساتھ گپ شپ میں مصروف ہو گئیں۔
میجر صاحب کی کار دور سے آتی دکھائی  دی تو اصغر شاہ نے منشی اور اسکے بیٹوں کو بھی گیٹ پر کھڑا کر دیا۔
کار گیٹ کے باہر رُکی ، اصغر نے میجر صاحب کو فارمل طریقے سے ریسیو کیا، دوسری طرف سے تاجی شاہ کار سے اُتر آیا ۔ گیٹ کھولا گیا ، کار کی چابی ڈرائیور کو پارکنگ کے لئے دی،
میجر صاحب درمیان میں ایک طرف تاجی شاہ دوسری  طرف اصغر، پیچھے گارڈ ، منشی اور اسکے بیٹے ، دیگر ملازم ،پورا ڈرائیو وے چل کے ، صحن میں چھولداری کے نیچے پہنچے ۔ باوا جی پلنگ پہ  براجمان تھے، وہ بھی پرانے فوجی تھے ، سب دیکھ کے اصغر کے پروٹوکول کے بندوبست کی غرض سمجھ گئے، پلنگ سے اٹھ رہے تھے کہ ۔۔
میجر صاحب نے ان کے گھٹنے چھُو کے سلام کیا، تاجی شاہ نے بھی جھک کے گھٹنے چھوئے ، باوا جی نے شفقت سے اس کے کاندھے پہ ہاتھ رکھا ۔ اب یہ کہنا بنتا ہے کہ واہ سید واہ ۔
باوا جی نے تاجی شاہ کو بہت محبت بھرت لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔
بسم اللہ ۔ پُتر آیا ، جی آیاں نوں، تُم صفدر شاہ کے بیٹے، مزمل شاہ کے پوتے ، نورعالم شاہ کے نواسے ہو ناں؟
تاجی شاہ لاکھ ہشیار فنکار ہو گا، لیکن کار سے اترنے سے یہاں پہنچنے تک اور اب باوا جی نے جو تعارف دیا،اس کی “میں” مر گئی، کپکپاتی آواز میں بس یہ کہہ پایا، باوا آپ مُرشد ہو میں آپکا بھی بچہ ہوں ۔
باوا جی نے اسے پکڑ کے پلنگ پہ ساتھ بٹھایا ، اس کے کاندھوں پہ بازو لپیٹے فرمانے لگے ،
بچڑا تم بھی مشہدی ہو ، تمہارا پردادا ہمارے والا گاؤں چھوڑ کے نیا گاؤں بسانے کو نکلا تھا۔
میجر صاحب نے تاجی شاہ کی کیفیت بھانپ لی۔ اصغر کو اشارہ کیا، اس نے منشی کو مخاطب کرتے کہا کہ چاچا آپ کھانے کا بندوبست دیکھیں ، سب ملازمین بھی وہاں سے اپنی اپنی ڈیوٹی پر واپس ہو گئے۔
باوا جی سے میجر صاحب نے کہا کہ آپ چاچا بھتیجا اپنا جغرافیہ، تاریخ اور ڈاکخانے اپ ڈیٹ کریں میں اصغر کے ساتھ مربعے کا چکر لگا لوں ۔
تاجی شاہ نے باوا جی کو اپنی زندگی کی کہانی سنائی، کہ اس کے تایا جی جج تھے، انہوں نے اسے پالا، لاہور ایف سی کالج میں پڑھایا ، ملتان پوسٹنگ ہوئی  تو وہ ان کے ساتھ یہاں آیا، پہلے زمینوں کا اور بعد میں آئل کمپنی کے ساتھ بزنس کیا۔
تایا کی بیٹی سے شادی ہوئی ، بزنس اچھا چلا۔ تایا جی کی پوزیشن سے بھی فائدہ ہوا، اب اپنے دو پٹرول پمپ ہیں ، کمپنی کے ساتھ سپلائی  کا ٹھیکہ بھی ہے۔
باوا جی نے اس کے لئے نوکر سے پانی منگوایا، مسکرا کے اسے بتایا کہ یہ سب امور انکے علم میں ہیں،پانی کے دو گلاس پی کے اور باوا جی کے شفقت بھرے رویئے سے تاجی شاہ کی ہمت بحال ہوئی  ۔
اس نے کوئی  بہانہ گھڑنے کے بجائے کرم شاہ مرحوم کی زمین بارے اپنی غلطی تسلیم کی اور باوا جی کے پاؤں پکڑ کے معافی مانگ لی، یہ توجیح ضرور پیش کی کہ لاہور ۔ ملتان رہتے وہ خاندان بارے زیادہ باخبر نہیں  تھا، باوا جی کا نام سنا تھا لیکن قرابت داری معلوم نہیں تھی۔

اتنی دیر میں میجر صاحب اور اصغر گیٹ سے واپس آتے نظر آئے ، میجر صاحب تو بہت مطمئن اور خوش تھے۔انہوں نے اصغر کو کہا کہ بابا تو بابا ہے، ایک شاٹ میں چوکا اور چھکا کتنی آسانی سے مارا ہے، تاجی تو تیر کی طرح سیدھا ہو گیا ہے،میجر صاحب کی فیملی بھی بیٹھک پہ  آ گئی، بچوں اور بیگم سے تاجی شاہ کا تعارف اصغر نے ہنستے ہوئے کرایا کہ یہ ہمارا بھائی  کہیں میلے میں بچھڑ گیا تھا ۔ آج مل گیا ہے، ماحول گھریلو بن گیا، کھانا لگا، رونق میلے میں باقی رشتہ داروں کو یاد کرتے کھانا کھا چکے، تو تاجی شاہ نے باوا جی اجازت طلب کی، کہ میجر صاحب تو رکیں گے اصغر بھائی  مجھے ڈراپ کر دیں ۔ اس سے بات چیت بھی ہو جائے گی۔

اصغر شاہ کے ڈرائیور نے جیپ گیراج سے نکال کے بیٹھک کے سامنے ریورس کر کے پارک کی،تاجی شاہ نے باوا جی کو تعظیمی رکوع کیا، میجر صاحب اور فیملی کو سلام کیا۔اصغر نے اسے احترام سے فرنٹ سیٹ پر بٹھایا، گارڈ اور ڈرائیور پچھلی سیٹ پر اور اصغر نے خود ڈرائیو کی۔ راستے میں عمومی گفتگو رہی، پٹرول پمپ بارے بھی بات ہوئی ، تاجی شاہ بھی کینٹ میں رہتا تھا، نئی سڑک سے تو پندرہ منٹ میں اس کا گھر آ گیا،وہ ضد کر کے اصغر شاہ کو اندر لے گیا۔ فیملی سے ملوایا، تعارف یوں کرایا کہ یہ ہمارے مشہدی مزار کے گدی نشین باوا جی کے سب سے چھوٹے فرزند ہیں، ساتھ ہنس کے کہا کہ یہ عمر میں چھوٹے لیکن عقل میں مشہدی فراست کے ولی عہد ہیں، اصغر شاہ نے بچوں کو پیار کیا اور انکے ہاتھ میں سو سو روپے تھماتے تاجی شاہ کی بیگم کو آداب کہتے رخصت ہوا، تو سب فیملی گیٹ تک الوداع کہنے آئی ، تاجی شاہ نے جپھی ڈالی، کان میں کہا، بھائی  اگر پمپ لگانا ہو تو مجھے حکم کرنا۔۔

میجر فیملی دو تین گھنٹے کی سیر و تفریح کے بعد کھانا تناول کر کے چھولداری کے نیچے پڑی چارپائیوں پر لیٹ کے اونگھنے لگی، باوا جی برآمدے میں اپنی نشست پر نیم دراز تھے اور میجر صاحب آرام کرسی پہ  بیٹھے تھے۔پُر سکون ماحول میں خاندانی امور پر مشاورت جاری تھی۔

خاندان برادری میں جتنی قرابت داری ہو اتنا ہی حسد بھی غیر محسوس طریقے سے جاگزیں ہوتا ہے۔میجر صاحب باوا جی کے فرسٹ کزن تھے، یوں تو سادات قبیلہ کے سب لوگ خوش حال تھے درجنوں افسر تھے،لیکن چار پانچ پشتوں سے دربار کی گدی نشینی باوا جی کی شاخ میں ہی آ رہی تھی، دربار سے ملحق جائیداد، مریدوں کی بڑی تعداد کے ساتھ گدی کا شرف اور بزرگی دیگر رشتہ داروں کی سماجی حیثیت پر بھاری تھی۔نازک ترین پہلو یہ بھی تھا کہ باوا جی کے جانشین بڑے بیٹے اکبر شاہ کی ابھی تک نرینہ اولاد نہیں  تھی تین بیٹیاں تھیں،میجر صاحب بھی نادانستہ طور پر ذہن میں ان عوامل کے اسیر تھے، انہوں نے باوا جی کی وراثت کی تقسیم کا ممکنہ نقشہ پیش کیا، مختلف آپشن بیان کئے، یقینی طور پر انکی نیت میں اخلاص تھا، جس وجہ سے وہ مستقبل کی پیش بینی کر رہے تھے ۔۔

باوا وقار شاہ کی حلیم طبع، شفقت ۔ صلہ رحمی، رشتوں کا احترام اپنی جگہ مسلم سہی لیکن خاندانی جاہ  و جلال بدرجہ اُتم موجود تھا، وہ روحانی طور پر بہت بالیدہ شخصیت تھے، ساتھ زیرک اتنے کہ دو جملوں میں بڑے سے بڑے مسئلے نپٹا دیتے، وہ بہت سکون سے میجر صاحب کی باتیں سنتے رہے،  میجر صاحب کے دلائل مکمل ہوئے تو بولے ۔۔۔
“ میرے بھائی  میں اللہ کی رضا پہ  راضی ہوں، جب تک زندہ ہوں یہی بندوبست بدستور رہے گا “
اس پہ  میجر صاحب سمجھ گئے کہ یہ کیس داخل دفتر ہو گیا۔۔
اصغر شاہ واپس پہنچ گئے، وہ  ساتھ بیکری سے بچوں کے لئے تازہ چکن پیٹیز ، بسکٹ اور کیک رس لائے سب کے لئے چائے بن کے آ گئی، اب محفل برخاست کا ٹائم ہو گیا۔
باوا جی نے منشی کو حکم دیا کہ ایک ڈول میں تازہ دودھ، مکئی گندم اور باجرے کے مکس آٹے کا توڑا، گُڑ کا توڑا،میجر صاحب کی گاڑی میں رکھوائے، انکی بیگم اور بچوں کو شاپنگ کے لئے پیسے پکڑائے ، باوا جی اور اصغر نے گیٹ سے باہر آ کے انہیں رخصت کیا، تو بیگم نے دعاؤں کی فرمائش کے ساتھ اگلے ہفتے باوا جی اور اصغر شاہ کو دعوت دی کہ کرنل صاحب زیارات سے آ رہے ہیں ، آفیسر میس میں فیملی گٹ ٹوگیدر ہو گا، کار میں بیٹھتے بیگم صاحبہ نے اصغر کو بہت پیار سے آنے کی تاکید کی، باوا جی کے چہرے پر خاص مسکراہٹ آئی  جیسے وہ ممکنہ اصل بات سمجھ گئے تھے ۔۔۔ظاہر ہے اصغر شاہ کی جس طرح رونمائی  ہو رہی تھی، لڑکیوں والوں کی دلچسپی لازم تھی!

جاری ہے

سید ہو تو سوہنا ہو گا، نوجوان ہو ، ذہین ہو کہ بی اے کا امتحان پرائیویٹ پاس کرنے کے قابل ہو بیس سال عمر ہو اور راتوں رات پچیس ایکڑ زرعی رقبہ خرید لے، لینڈ روور جیپ چلاتا ہو، تھانہ کچہری عدالت کے امور جانتا ہو، تو ایسا داماد تو ہر بیٹی کا باپ پسند کرے گا ۔ ساتھ سادات فیملی سے ہو جو غیر سادات میں بیٹی نہی بیاہ سکتے، اب دیکھنا ہے کہ اصغر شاہ پر رشتوں کی یلغار باوا وقار شاہ کیسے ہینڈل کرتے ہیں یہ تفصیل اگلی قسط میں آئے گی، ابھی آپ یہ صورت احوال تو دیکھیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *