• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • آپ کے خیال میں ایک استاد کتنا عظیم ہو سکتا ہے ؟۔۔۔منور حیات سرگانہ

آپ کے خیال میں ایک استاد کتنا عظیم ہو سکتا ہے ؟۔۔۔منور حیات سرگانہ

ایک نوجوان اپنے ایک دوست کی شادی میں شمولیت کے لئے   تقریب میں پہنچا،تو اس کی نظر مہمانوں کے درمیان بیٹھے ہوئے اپنے شفیق استاد پر پڑی۔وہ باقی مہمانوں کے بیچ سے گزرتا ہوا اپنے استاد محترم کے سامنے جا پہنچا اور ادب سے انہیں سلام کیا۔آپ نے مجھے پہچانا سر؟شاگرد نے بڑے ادب سے استسفار کیا۔
نہیں نوجوان میں نے بالکل نہیں پہچانا،استاد نے معذرت خواہانہ لہجے میں جواب دیا۔شاگر نے اپنا تعارف کروایا۔
اوہ بہت خوب !آپ تو تیسری کلاس میں میرے شاگر تھے،بہت دنوں بعد دیکھا،بہت خوشی ہوئی،کتنے بڑے ہو گئے ہوتم ،کیسی گزر رہی ہے زندگی،کیا کر رہے ہو آج کل ؟ محترم استاد نے خوشگوار حیرت سے ایک ہی باری سارے سوال کر ڈالے۔
میں ایک ٹیچر ہوں سر ،شاگرد نے موُدب ہو کر جواب دیا۔
بہت خوب! میری طرح؟ آخر کس سے متاثر ہو کر تم نے استاد بننے کا فیصلہ کیا؟ استاد نے مسکراتے ہوئے دریافت کیا۔
سر یہ آپ ہی تھے جن سے متاثر ہو کر میں نے استاد بننے کا فیصلہ کیا۔
بہت خوب! لیکن برخوردار ،آپ آخر میری کونسی خصوصیت سے متاثر ہوئے تھے ،استاد نے پر اشتیاق لہجے میں پوچھا۔
سر آپ کو وہ جماعت میں ایک طالب علم کی گھڑی کی گمشدگی کا واقعہ تو اچھی طرح یاد ہو گا؟
یاد نہیں آ رہا تم دہرا دو ، محترم استاد کا اشتیاق بڑھ گیا۔
سر میرے ایک امیر ہم جماعت کو اس کے والدین میں سے کسی نے ایک خوبصورت سنہری گھڑی لے کر دی تھی،جسے وہ ہر وقت اپنی کلائی پر جمائے رکھتا تھا۔اس گھڑی کی خوبصورتی اور چمک نے میری آنکھیں خیرہ کر دی تھیں۔میں اس وقت ایسی شاندار گھڑی خریدنے کی طاقت نہیں  رکھتا تھا،سو میرے دل میں اس گھڑی کے حصول کی خواہش جاگی اور میں اسے حاصل کرنے کی تمنا دل میں لئے ہمیشہ موقع کی تاک میں رہنے لگا۔ایک دن میں نے وہ گھڑی اس وقت بڑی صفائی سے ُاڑا لی جب اس ہم جماعت نے اسے کلائی سے اتار کر اپنے کوٹ کی جیب میں رکھا ہوا تھا۔تھوڑی دیر کے بعد ہی اسے گھڑی کی گمشدگی کا علم ہو گیا اور اس نے آپ کے پاس آ کر شکایت لگا دی کہ اس کی گھڑی چوری ہو چکی ہے۔آپ نے ساری جماعت میں اس واقعے کا اعلان کیا،اور بڑے مشفقانہ انداز میں سب سے درخواست کی کہ اگر کسی کے پاس وہ گھڑی ہو تو براہ کرم اسے اس کے مالک کو لوٹا دے۔
مجھے ایڑیوں پسینہ آ گیا،میرے لئے یہ سخت شرمندگی کی بات تھی کہ گھڑی میری جیب سے برآمد ہو جائے،اور پوری جماعت میں میں ایک چور کی حیثیت سے پہچانا جاؤں ۔میرا ذہن ماؤف ہو چکا تھا،جبکہ جماعت میں ایسی خاموشی چھا چکی تھی کہ ،سوئی گرنے کی آواز بھی سنائی دے جائے۔بالآخر آپ نے سب کو مطلع کیا کہ کمرے سے باہر کوئی نہیں جائے گا،اور آپ نے ایک طالب علم کو کمرہ جماعت کے دروازے بند کرنے کا حکم دے دیا۔
سب طالب علم اپنی نشستوں سے اٹھ کر ایک قطار میں کھڑے ہو جائیں،آپ سب کی تلاشی ہو گی،آپ کی سپاٹ آواز کمرہ جماعت میں گونجی۔سب طالب علموں نے ایسا ہی کیا۔آپ نے حکم دیا کہ سب اپنی اپنی آنکھیں بند کر لیں کوئی آنکھ نہیں کھولے گا جب تک میں نہ کہوں،سب نے اپنی آنکھیں بند کر لیں آپ نے ایک ایک طالب علم کی تلاشی لینا شروع کی،اور آپ میرے تک پہنچ گئے،آپ نے میری جیب سے گھڑی نکال لی ،اور آگے بھی سب طالب علموں کی تلاشی لیتے گئے،اور قطار کے ختم ہونے پر آپ نے سب کو آنکھیں کھولنے کا حکم دیا ،اور مسکراتے ہوئے گھڑی کے مالک طالب علم کو اس کی گھڑی تھما دی۔
میں پسینے میں نہا چکا تھا،لیکن آپ نے ایک لفظ بھی نہ ہی تو اس وقت اور نہ ہی اس کے بعد اس چوری کے بارے مجھ سے،نہ ہی کسی اور سے،حتیٰ کہ نہ ہی گھڑی کے مالک سے کہا۔
اس بات نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ،کوئی شفیق ہستی دنیا میں اس سے بڑھ کر بھی ہو سکتی ہے،جو ایک غلط کام کرنے والے بچے کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کے باوجود ،چور،جھوٹا،بدفطرت اور مجرم نہ کہے؟جو کسی بچے کی معصومیت اور اس کی روح کی حفاظت کرے اور اسے سب کے سامنے ذلیل ہونے سے بچا لے؟۔۔میرے دل نے اس کا جواب پا لیا۔پیغام واضح تھا،کہ صرف استاد ،ایک شفیق استاد ہی ایسا ہو سکتا ہے۔سو مجھے آپ کے اس عمل نے اتنا متاثر کیا ،کہ میں نے بھی ایک استاد بننے کا فیصلہ کر لیا،جو کہ میں آج ہوں۔
اوہ ! بہت خوب تو یہ بات تھی؟۔محترم استاد مسکرائے،سچی بات تو یہ ہے کہ میں اس بارے زیادہ نہیں جانتا تھا۔
اوہ سر! مجھے پورا یقین تھا کہ آپ کو یہ واقعہ بھولا نہیں ہو گا ،اور آپ اب مجھے بہت اچھی طرح سے پہچان گئے ہونگے۔
نہیں  جوان،یقین کرو مجھے بالکل پتا نہ چلتا ،اگر آج تم اس بارے نہ بتاتے،دراصل جب میں نے جماعت کے تمام طالب علموں کی تلاشی لینا شروع کی تھی تو میں نے طالب علموں کی آنکھیں بند کروانے کے ساتھ ہی خود اپنی آنکھیں بھی بند کر لی تھیں۔

نوٹ: یہ مضمون ایک یہودی ربی (استاد)کے ویڈیو بیان سے ماخوذ ہے،ان کی ویڈیو میری ٹائم لائن پر موجود ہے۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *