معافی کا فلسفہ اور غلط فہمیاں۔۔۔حافظ صفوان محمد

کل جمعہ کے بعد ایک دیندار دوست عار دلانے کے لیے تشریف لائے اور زور دیتے رہے کہ اپنے فلاں کام پر مجھے خدا سے معافی مانگنی چاہیے۔ میں نے پوچھا کہ اس کام کا گناہ ہونا کہاں لکھا ہے اور اس گناہ پر کتنی سزا ہے؟ سوال کا جواب ان کے پاس ہوتا تو دیتے، لیکن چونکہ آئے ہی اس مقصد کے لیے تھے سو کمال ڈھٹائی سے اپنا ایجنڈہ پورا کرتے رہے۔ کہنے لگے کہ ایک وقت آنا تھا کہ لوگ گناہ کو گناہ ہی نہیں سمجھیں گے۔ عرض کیا وہی تو دریافت کر رہا ہوں کہ اس کام کا گناہ ہونا کہاں لکھا ہے اور اس پر جو عذاب دیا جائے گا اس کی کیا مقدار ہے اور کہاں ارشاد فرمائی گئی ہے؟

لاجواب ہوئے تو محترم نے پینترا بدلا اور فرائضِ دین میں کوتاہی پہ معافی مانگنے کا وعظ شروع فرمایا۔ میں ان کے تھمنے کا انتظار کرتا رہا لیکن دریائے اصلاح تھا کہ طغیانی پر تھا۔ بارے مجھے پسیجتا دیکھا تو ٹیپ کا مصرع ارشاد ہوا کہ ہم مجرم ہیں اور جرم کے باوجود خدا کے سامنے اکڑتے پھرتے ہیں۔

جرم کا لفظ سنتے ہی میں نے پھریری لی اور عرض کیا کہ زندگی میں حج ایک بار فرض ہے جو میں ایک نہیں تین کرچکا ہوں اور متعدد عمرے بھی جو صرف مستحب ہیں، زکوٰۃ ریاست کو سالانہ دیتا ہوں اور ساتھ ہی صدقہ خیرات بھی اکثر و بیشتر، رمضان کے روزے چالیس سال سے رکھ رہا ہوں اور ہر ہفتے ایک روزہ بھی معمول ہے، فرض نماز پنجوقتہ پڑھتا ہوں اور نفل و تراویح بھی۔ جب میں خدا کے سارے فرض نہ صرف پورے کر رہا ہوں بلکہ ہر فرض کے ساتھ کچھ نہ کچھ بلامطالبہ بھی کر رہا ہوں تو خدا سے معافی کس جرم کی مانگوں؟ میرا جرم کیا ہے؟ فرائض کے علاوہ اسلام کا مطالبہ کیا ہے؟ کیا فرائض کے ساتھ یہ مالی و جانی نفلی عبادات کرنا جرم ہے؟

محترم پہلے تو مبہوت ہوئے لیکن اس ہکے بکے پن میں بھی لنچ ڈکوس گئے۔ اس کے بعد جو کچھ وہ کہتے رہے اسے اردو کے روزمرے میں اول فول بکنا اور جو کچھ وہ کرتے رہے اسے چول مارنا کہتے ہیں۔ بالآخر محترم گئے تیل لینے۔

معافی کے بارے میں ذہن صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ معافی کسی خطا پر مانگی جاتی ہے نہ کہ عادۃً۔ معافی اور استغفار میں فرق ہے۔ استغفار ایک عبادت ہے جو بہرحال کرنی چاہیے لیکن یہ معافی مانگنا نہیں ہے۔ گناہ مذہب کا معاملہ ہے اور جرم انسانیت کا، یعنی گناہ کی معافی خدا دے گا جب کہ جرم کی معافی انسان سے مانگنا ہوگی۔ مثلًا آپ نے خدانخواستہ کسی کا حق مارا ہے تو اس جرم کی معافی خدا کیسے دے سکتا ہے؟ نمازیں پڑھنے اور حج عمرے کرنے سے کسی کا مارا ہوا حق معاف نہیں ہوتا۔ حقدار کو حق دے کر اسے راضی کیجیے اور پھر خدا کا شکر ادا کیجیے، معافی کاہے کی؟ خوب واضح سمجھ لیجیے کہ جیسے نماز نہ پڑھنے کا گناہ کوئی انسان معاف نہیں کرسکتا ویسے کسی کا حق مارنے کا جرم خدا معاف نہیں کرسکتا۔

بغیر جرم کیے ہر وقت خود کو مجرم سمجھنا ایک نفسیاتی مرض ہے۔ ہمہ وقت Regression کی تعلیم دینا یا اس کیفیت کے حصول کا پرچار کرنا برین واشنگ کی مکروہ ترین صورت ہے۔ اگر جرم سرزد ہوجائے تو فوراً اور غیر مشروط معافی مانگیے لیکن جرم کی صفائی دے کر معافی کو برباد نہ کیجیے۔ گناہ ہوجائے تو توبہ استغفار کریں، جرم ہوجائے تو معافی مانگیں۔ بغیر جرم کیے معافی کس بات کی؟

معافی اور استغفار کا فرق اگر سمجھ نہ آئے تو regret اور repentance کا فرق کسی اچھی  لغت سے اور کسی غیر مسلم انگریز دوست سے سمجھ لیجیے کیونکہ یہ انگریزی کے لفظ ہیں!

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *