سالگرہ مبارک ۔۔۔ ایمان شاہ

گفتگو کے معیار سے جو گرجائے
چیخ چیخ کر جہالت اپنی دکھلائے
ایسے لوگوں کو تم صحافی کہتے ہو؟؟؟

پچھلے دنوں کسی خاص چینل کی ملازم ڈاکٹر پلس خواہ مخواہ کی صحافی کا کلپ وائرل ہوا جس میں وہ بانی ایم کیوایم الطاف حسین کے خلاف واہیات زبان استعمال کرتے ہوئے اپنی غلیظ زبان کااستعمال فقط شہرت کے حصول کے لئے کررہی تھی۔ فقط شہرت کا حصول اس لئے لکھا کہ اس کی اور اس کے چینل کی ریٹنگ نہ آتی اگر وہ اپنے اختلاف کو مہذب انداز میں بیان کرتی، اس نے کردار کشی اور الزامات لگانے کے لئے جو طریقہ اختیار کیا وہ صرف اس کی نہیں، اس کے مالکان کی روزی روٹی کا ذریعہ تھا۔
کچھ شک نہیں کہ الطاف حسین سے اختلاف کے لئے اس ملک کے بہت سے لوگوں نے خود کو اپنے مقام سے گراکر ہی شہرت کی بلندیوں پر پہچنا چاہا
لیکن ہر بار اس حقیقت سے آشنائی ہوئی

“میری ذات سے اختلاف
میرے ہونے کا اعتراف”

قارئین آج با نی  ایم کیوایم الطاف حسین کی سالگرہ ہے

اس کی سالگرہ ہے جس کے لئے آج بھی کراچی کا بچہ بچہ کہتا ہے

“اسی نے ہم کو جینا سکھایا اسی پہ ہم کو ناز”

وہ اس لئے کیوں کہ پاکستانی سیاست میں الطاف حسین وہ پہلا نوجوان تھا جو اپنے ساتھ بہت سے لڑکوں کا قافلہ لے کر ممکت خداداد یا ملکیت امیران کے ایوانوں میں جابیٹھا اور اپنے عوامی مطالبات پیش کرکے ملکی سیاست میں تھرتھری مچا دی۔

الطاف حسین نے پاکستان بھر میں چند ہی سالوں میں اپنی مدد آپ کے تحت وہ تنظیمی نظام قائم کیا جس کی مثال دشمن بھی تعریفی اوصاف بیان کرتے ہوئے دیتے رہے۔

الطاف حسین نے اپنی جماعت میں شامل ہونے والی ہر خاتون کو باجی کے رتبے پر فائز کرکے عورتوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں عزت و احترام کے ساتھ سیاسی ماحول دیا۔

آج جب میں سیاسی دنگل میں عورتوں کی بے حرمتی ہوتے ہوئے دیکھتی ہوں تو بے اختیار 2014 کا وہ جلسہ یاد آجاتاہے جب  اتفاقی طور پرجناح گراؤنڈ سے گزرتے ہوئے، عوام کا جوش و خروش دیکھتے ہوئے میرے کہنے پر چھوٹے بھائی نے گاڑی جناح گراؤنڈ کی جانب موڑ لی۔

بڑے بھائی غصے کے کافی تیز واقع ہوئے ہیں اس لئے دل میں ایک ڈر بھی تھا  کہ اگر کہیں کچھ غلط ہوا جیسا کہ عام طور پر ہمارے یہاں جلوس میں  خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک کی روایت رہی ہے تو بھائیوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔

لیکن میرے ذہن میں چلتی کشمکش  کانوں میں پڑتے ان الفاظوں کے ساتھ ہی ختم ہوگئ
“باجی آپ یہاں سے داخل ہوں، انٹری گیٹ پر کھڑے کچھ جھکی نظروں والے لڑکے ہم سے مخاطب تھے”

پھر ہم اعتماد سے گراؤنڈ میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ ایک رسی کے ذریعے عورتوں اور مردوں کے مجمعے کو تقسیم کیا گیا ہے۔
اور نظم و ضبط کا یہ عالم تھا کہ کوئی آدمی یا لڑکا، اس کمزور سی رسی کو کراس کرنے کی جرأت کرکے دوسرے حصے میں نہیں آسکتا تھا، میرے اپنے بھائی ہماری حفاطت سےبے پرواہ مردوں کے سیکشن میں تھے اور لڑکیاں، عورتیں، بچیاں سب ہی ان بھائیوں کی موجودگی میں محفوظ تھیں جن سے صرف ان کا تنظیمی تعلق تھا۔
اس تحفظ نے  اور الطاف حُسین کی عورتوں کو دی گئی اس عزت افزائی نے ایک عظیم لیڈر ہونے کا خیال دل میں پیوست کردیا۔

آج نام نہاد صحافی نما خواتین جب چیخ چلاکر الطاف حسین کے خلاف زہر افشانی کرتی ہیں تو خیال پیدا ہوتا ہے
کہ وہ لیڈر اچھے ہیں جو ماڈل ٹاؤن میں دن دیہاڑے عورتوں کے چہروں پر گولیاں برسواتے ہیں؟؟؟
وہ لیڈر اچھے ہیں جو ملک کو انتشار کی طرف گامزن کرکے اپنی خواتین کی عزت پامال کرتے ہوئے دھرنے دیتے ہیں؟؟
وہ لیڈر اچھے ہیں جو عوام کو کفن پہناکر خود کینڈا روانہ ہوجاتے ہیں؟؟؟
وہ لیڈر اچھے ہیں جو آدھا ملک توڑتے ہیں اور آدھا ملک کھاجاتے ہیں؟؟؟؟
وہ ادارے اچھے ہیں جو عوام کو جنگی جنون دےکر اس کی معیشت تباہ کرکے اپنے شہر، اپنے سینما بناتے ہیں؟؟؟
وہ ادارے اچھے ہیں جو اپنا کام چھوڑ کر ذاتی شہرت کی خاطر عوام کو چندہ چندہ میں الجھاتے ہیں؟؟؟؟؟

ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا؟؟؟؟

افسوس الطاف حُسین پر لگائے گئے الزامات آج بھی اس ملک میں کوئی حتمی رائے قائم نہ کرسکے جہاں کا انصاف دنیا بھر میں مشہور ہے لیکن ذاتی عناد کی بناء پر تمام پاکستان میں الطاف حسین کا نام دہشت گرد رکھ دیا گیا۔

الطاف حُسین نے اس ملک نہیں ملکی نظام کو مردہ باد کہا تھا، جہاں مسنگ پرسنز پر مقدمہ چلانے کے بجائے انہیں مسخ شدہ لاش بنادیا جاتا ہے۔
الطاف حُسین نے اس نظام کو مردہ باد کہا تھا جہاں جغرافیائی حدوں کےلئے انسانی حدیں توڑی جاتی ہیں۔
الطاف حسین پر لگایا جانے والا ہر الزام جناح پور کے الزام کی طرح ہے، جس کی حقیقت الزام لگانے والے بیان کرچکے ہیں۔
الطاف حُسین وہ واحد سربراہ سیاسی جماعت ہیں، جنہوں نے اپنی ذات کے لئے اقتدار کی جنگ نہیں لڑی، بلکہ کچرے سے عوامی نمائندے چن کر انہیں اپنے رنگ میں  عاجزی میں ڈھال کر  اس ملک کے ایوانوں میں بھیجا، آج وہ کچرے سے نکلنے والے اس شہر کو کچرا کرکے خود کی عزت عوام کی نظروں میں کھوچکے ہیں۔
کیونکہ وہ کچھ نہ تھے الطاف حُسین کا نام چلتا تھا، آج ان کی بدزبانیاں بتاتی ہیں کہ وہ واقعی کچھ نہ الطاف حسین کا نام لے کر جانے کیا کچھ کرتے رہے، اور اس نام کو بدنام کرکے عوامی مطالبات سے دستبردار ہوکر اقتدار سے جالپٹے۔۔۔۔

آخر میں الطاف حُسین اور انکے اب بھی حامیوں کو الطاف حسین کی سالگرہ کی بہت بہت مبارک۔
ہم نہ ہوں ہمارے بعد الطاف الطاف۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”سالگرہ مبارک ۔۔۔ ایمان شاہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *