• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • عرب کی اک داستان محبت، ہجر و وصال ، زینب و ابوالعاص ۔۔۔ منصور ندیم

عرب کی اک داستان محبت، ہجر و وصال ، زینب و ابوالعاص ۔۔۔ منصور ندیم

اس کے خوبصورت چہرے پر پسینہ چمک رہا تھا، وہ حال دل کہہ چکا تھا، اب اس کی نگاہیں سامنے کھڑے اپنے خالو کے چہرے پر مرکوز تھیں، دل کی دھڑکنیں بڑھ رہی تھیں، اس کے سماعتیں منتظر تھیں، کچھ دن پہلے ہی وہ اپنے دل کا حال اپنی خالہ سے بھی کہہ چکا تھا، والدہ بھی راضی تھیں، اور خالہ بھی اپنے بھانجے کی اس خواہش سے خوش تھیں، خوش کیوں نہ ہوتیں، ان کی بیٹیوں میں سب سے بڑی بیٹی کے لئے اس سے بہتر داماد کیونکر ہوسکتا تھا، وہ اس کا اظہار اپنے شوہر سے کرچکیں تھیں، وہ قبیلے کے خوشحال لوگوں میں سے تھا، تجارت کرتا تھا، نہایت عاقل، بہادر، جری اور خوش اخلاق تھا، ۔تجارت کے قافلوں کا راہنما تھا، چھوٹے تاجر اس پر بھروسہ کرتے تھے، اپنا مال اسباب اس کے حوالے کرتے اور تجارت میں سرمایہ کاری کرتے تھے، اسی نسبت سے وہ “امین” بھی کہلاتا تھا، اس کا شمار قبیلے کے صاحب ثروت لوگوں میں ہوتا تھا۔ قبیلے کے سرداروں میں سے کسی کی بھی بیٹی سے نکاح کی خواہش کرتا تو اس سردار کے لئے یہ خوشی کا باعث ہوتا۔

خالو کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگے۔ “مجھے خوشی ہے کہ تم نے میری بیٹی کا ہاتھ مانگا ہے،  مگر اس معاملے میں اپنی بیٹی کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔ مجھے اس کی رضامندی جاننا بہت ضروری ہے”۔

یہ کہہ کر خالو گھر کے بالائی حصے میں داخل ہوئے اور بیٹی کو پاس بلایا اور کہا “بیٹی ! تیری خالہ کے بیٹے نے تیرا نام لیا ہے، وہ تجھ سے نکاح کا خواہشمند ہے ، کیا تم اس پر راضی ہو؟”

بیٹی کا چہرہ شرم سے سرخ ہوگیا اور مسکرا دی، بس باپ بیٹی کے دل کی رضا جان گیا تھا، وہ بیٹی کے پاس سے اٹھ کر باہر آیا اور نوجوان کو مسکرا کر دیکھا اور کہا ، مجھے زینب کے لئے تیرا ساتھ قبول ہے۔

نکاح کے بعد یہ لازوال داستان محبت شروع ہوتی ہے، یہ نوجوان ابوالعاص کے نام سے شہرت رکھتا ہے، جس کا تاریخ میں نام باختلاف مورخین ’’لیقط ،مقسم ،یا ہشم ‘‘ ملتا ہے، اس کا تعلق قریش کی ایک مشہور شاخ ’’بنو امیہ ‘‘سے تھا۔ اس کا سلسلہ نسب ابوالعاص ؓ بن ربیع بن عبدالعزیٰ بن عبد ِشمس بن عبدِمناف بن قصّی ‘‘۔اور یہ سلسلہ نسب عبد مناف پر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم  اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے جاملتا ہے ۔

 ابو العاص کی والدہ ماجدہ ہالہؓ بنت خویلد اور ام المومنین سیدہ خدیجہ الکبریٰ ؓ ابو العاص کی خالہ تھیں ۔ اس نوجوان کی منکوحہ زینب، اس کے خالو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم  کی سب سے بڑی صاحب زادی سیدہ زینب ؓ  تھیں،  یہ نکاح محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبل از بعثت نبوی ہوا تھا۔ اس شادی کے بعد ابو العاص سے سیدہ زینب کا ایک بیٹا “علی” اور ایک بیٹی”امامہ” پیدا ہوئے تھے، جب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول بن گئے، اس وقت ابو العاص تجارتی سفر میں تھے جب ابولعاص تجارتی سفر سے واپس لوٹے اور گھر میں داخل ہوئے تو بیوی نے کہا “میرے پاس تمہارے لیے ایک عظیم خبر ہے میں اپنے بابا کے دین اسلام کو قبول کر چکی ہوں”۔
یہ سن کر ابوالعاص کو کچھ سمجھ نہ آیا اور اٹھ کر گھر سے باہر نکل گئے، سیدہ زینب خوفزدہ ہو کر ان کے پیچھے پیچھے باہر نکلیں ہے اورکہا کہ “میرے بابا نبی بنائے گئے ہیں اور میں اسلام قبول کر چکی ہوں”۔
ابو العاص : تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟
سیدہ زینب : میں کیسے بتاتی بابا اور آپ دونوں کے درمیان ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوجاتا ، یہ عقیدے کا مسئلہ تھا۔ مگر میرے سامنے اپنے بابا کی  ساری زندگی موجود ہے ، وہ بھی امانتوں کے “امین” اور سچے”صادق” ہیں، میں انہیں جھٹلا نہیں سکتی، نہ ہی میرے بابا کبھی جھوٹے تھے ، اور میں اکیلی نہیں ہوں میری ماں اور بہنیں بھی اسلام قبول کر چکی ہیں، میرے چاچا زاد بھائی علی بن ابی طالب، اور آپ کے چاچا زاد عثمان بن عفان اور آپ کے دوست ابوبکر بھی اسلام قبول کر چکے ہیں۔
ابو العاص: مگر میں نہیں چاہتا کہ لوگ مجھے یہ کہیں کہ میں نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا،اور  اپنے آباو اجداد کے دین کو جھٹلایا۔ میں تیرے بابا کو نہ ہی ملامت کرتا ہوں اور نہ ہی مخالفت۔ لیکن میں تیرے بابا کے دین کو بھی قبول نہیں کرتا۔
ابوالعاص نے اسلام تو قبول نہ کیا۔ اسلام قبول نہ کرنے کے باوجود اپنی بیوی سے شدید محبت کی وجہ سے اس کے اسلام قبول کرنے کے باوجود کبھی سیدہ زینب کو اس حوالے سے کوئی تکلیف نہ دی۔
جب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی الاعلان اپنے دین کی دعوت دینی شروع کی تو آہستہ آہستہ اہلِ مکہ کے رویّوں میں تبدیلی آتی گئی _ وہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم  کو بُرا بھلا کہنے لگے ، طرح طرح کے الزامات عائد کرنے لگے ، کاہن ، ساحر ، شاعر ، رشتوں میں دراڑیں ڈالنے والا اور نہ جانے کیا کیا کہنے لگے، کچھ عرصے کے بعد  مشرکینِ مکہ نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم  کو پریشان کرنے کے لیے ابو العاص  کو ورغلانے لگے اور کہا کہ ” تم زینب کو طلاق دے دو ، مکہ کی جس عورت سے بھی چاہو گے ، تمھارا نکاح کروادیا جائے گا ”۔ عتبہ اور عتیبہ کے نکاح میں بھی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں رقیہ اور ام کلثوم تھیں، قریش کے ورغلانے پر انہوں نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں بیٹیوں کو طلاق دے دی، مگر ابوالعاص اپنی بیوی سیدہ زینب سے شدید محبت کی وجہ سے خاموش رہے۔
تب قریش نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے حامی ہاشمی اور مُطلبی افراد سے مکمل معاشرتی معاقطہ کردیا، تو مجبورا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے مصاحبین کو شعب ابی طالب میں محصور کردیا گیا، ان مصائب میں بھی ابو العاص کو گھاٹی میں مقیم افراد کا خیال رہتا اور کبھی کبھی چھپ کر وہ   اونٹ پر اشیائے خورد ونوش ڈال کر شعب ابی طالب کی گھاٹی کی طرف ہنکا دیتے تھے۔
اس واقعے کو ایک شیعہ مورخ محمد تقی اپنی کتاب (ناسخ التواریخ ) میں  لکھتا ہے کہ : محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم  نے ابوالعاص کی اِس خدمت کا اعتراف ان الفاظوں میں فرمایا:
’’ابوالعاص نے ہماری دامادی کا حق ادا کردیا ۔‘‘

اس دوران مدینہ ہجرت کا وقت آن پہنچا تو  سیدہ زینب اپنے بابا محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس گئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول!  مجھے اپنے شوہر اور بچوں سے بہت محبت ہے۔ کیا آپ مجھے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہنے کی اجازت دیں گے؟
محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں زینب تم اپنے شوہر اور بچوں کے پاس ہی رہو۔

وقت گزرتا گیا اور دونوں اپنے بچوں کے ساتھ مکہ میں ہی رہے مکہ کے قیام کے 13 سالہ عرصے میں زوجین میں کبھی کوئی منافرت پیدا نہیں ہوئی،شوہر اپنے عقائد پر قائم رہا اور بیوی اپنے ایمان پر اور دونوں بخوشی زندگی گزارتے رہے۔
یہاں تک کہ ہجرت کے دوسرے سال مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان بدر کے مقام پر جنگ ہوئی۔ اس میں مشرکین کی طرف سے متعدد ایسے لوگ بھی شریک تھے جو قبائلی عصبیت یا سماجی دباؤ کی وجہ سے چلے آئے تھے۔ ابو العاص بھی قریش کی فوج کے ساتھ اپنے سسر کے خلاف لڑنے کے لیے روانہ ہوا تھا، زینب خوفزدہ تھی کہ اس کا شوہر اس کے بابا کے خلاف جنگ لڑے گا اس لیے روتی ہوئی کہتی تھی”اے اللہ ! میں ایسے دن سے ڈرتی ہوں کہ میرے بچے یتیم ہوں یا کہیں  میں اپنے بابا کو کھو دوں “۔  جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہوئے جنگ ختم ہوئی تو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم  کے چچا عباس اور داماد ابو العاص اپنے سسر کے قیدی بنے ۔ یہ خبر مکہ بھی پہنچ گئی کہ ابو العاص جنگی قیدی بنالئے گئے ہیں۔ زینب پوچھتی پھر رہی تھی کہ میرے بابا کا کیا بنا؟
لوگوں نے بتایا کہ مسلمان تو جنگ جیت گئے ہیں، پھر پوچھا “میرے شوہر کو کیا ہوا؟” لوگوں نے کہا “اس کو اس کے سسر نے جنگی قیدی بنالیا ہے”۔  مدینہ میں انھیں عام قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا تھا اور انھیں کچھ بھی سہولت نہیں دی گئی- مدینہ میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے گا۔ قیدیوں کی مالی اور سماجی حیثیت کو دیکھتے ہوئے فی قیدی ایک ہزار سے  چار  ہزار درہم لینے کا فیصلہ ہوا۔ یہ خبر مکہ پہنچی سیدہ زینب کو بھی خبر کی گئی کہ اپنے شوہر کا فدیہ (دیت)بھیج کر اپنے شوہر کو چھڑوالو، تب قیدیوں کے عزیزوں نے قاصدوں کے ذریعے زرِ فدیہ بھیجنا شروع کیا۔
مدینہ میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصاحبین کے ساتھ بیٹھے تھے، قاصد آتے، اپنے اپنے قیدی کا زر فدیہ ادا کرتے اور اپنے عزیز قیدی کو چھڑا لے جاتے۔
ایسے میں ایک شخص محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا، “میں عمرو بن الربیع ہوں میرا بڑا بھائی آپ کے پاس قید ہے، مجھے اس کی بیوی نے وکیل بنا کر بھیجا ہے اس کے پاس زر فدیہ کے لئے زیادہ کچھ نہیں ہے، فقط اپنا یہ زیور بھیجا ہے” یہ کہہ کر اس نے ہاتھ آگے بڑھا دیا، اس کے ہاتھ میں ایک یمنی عقیق کا ہار تھا۔ ہار دیکھ کر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ہار دیکھ کر کسی کی یاد آگئی۔
محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا “یہ کس کا فدیہ ہے؟”
عمرو بن الربیع نے کہا: یہ میرے بڑے بھائی ابو العاص بن الربیع کا زر فدیہ ہے”۔
یہ سن کر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم جو ضبط کئے بیٹھے تھے روپڑے گزشتہ تین دہائیوں کے مناظر یاد آنے لگے، اپنی بیوی خدیجہ کی محبت ، اطاعت شعاری ، راہِ دعوت میں تائید و حمایت ، دین کے لیے قربانی ، بیٹی سے محبت ، بھانجے سے اس کا نکاح ، داماد کی شرافت ، بیٹی کی بے بسی کہ شوہر کی محبت میں اپنی ماں کی نشانی کو قربان کردیا، چند لمحات میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذہن نے نہ جانے کتنا ہی سفر کرلیا، مصاحبین نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں آب دیدہ دیکھا تو پریشان ہوگئے، اور پوچھا کہ ” اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہماری جانیں آپ پر قربان، کیا بات ہے، کس بات نے آپ کو یوں رنجیدہ کردیا ؟ “
محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تو میری بیوی خدیجہ کا ہار تھا ، پھر کھڑے ہوگئے اور مصاحبین سے کہا ” اے لوگو!  یہ شخص برا داماد نہیں ہے، کیا مجھے اجازت دو گے کہ میں اس کو رہا کردوں؟ اور  اگر تم اجازت دو میں اس کا ہار بھی اس کو واپس کردوں اور بغیر فدیہ لئے قیدی کو چھوڑ دوں؟
مصاحبین نے کہا “کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہماری جانیں آپ پر قربان۔
محمد عربی نے ابوالعاص کو بلوایا اور ہار ابوالعاص کو تھما دیا اور کہا کہ “میری بیٹی زینب سے کہنا کہ یہ تمہاری ماں یعنی میری بیوی خدیجہ کا ہار ہے اس ہار کا خیال رکھنا”-
پھر ابو العاص سے کہا ” مجھے تم سے کچھ تنہائی میں باتیں کرنی ہیں۔
پھر تنہائی میں لے جا کر کہا “ابو العاص “اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ کافر شوہر اور مسلمان بیوی ساتھ نہیں رہ سکتے، ان کے درمیان جدائی کا حکم دیا ہے اس لیے میری بیٹی کو واپس جا کر مدینہ بھیج دینا” ۔ ابو العاص نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو تسلیم کرلیا۔
ابو العاص قید سے رہائی کے بعد مکہ روانہ ہوگئے،  وہاں مکہ میں سیدہ زینب بے قرار تھیں، اپنے شوہر کے استقبال کے لیے گھر سے نکل کر مکہ کے داخلی راستے پر ابوالعاص کی راہ تک رہی تھیں ۔ جب ابو العاص کی نظر اپنی بیوی پر پڑی تو دکھ و تکلیف سے کہا “زینب ہم میں جدائی کا وقت آگیا ہے، تمہیں جانا ہوگا”۔
زینب نے کہا “کہاں ؟”
ابو العاص: “تم اپنے بابا کے پاس مدینہ جانے والی ہو۔”
زینب : “کیوں؟”
ابو العاص: ” میری اور تمہاری جدائی کا لمحہ آگیا ہے، میں نے تمہارے بابا سے عہد کیا ہے اس لئے تم اپنے بابا کے پاس مدینہ جاو گی”۔
زینب: ” آہ ! کیا تم میرے ساتھ نہیں جاو گے کیا تم اسلام قبول نہیں کرسکتے ؟”
ابو العاص: “نہیں۔”
ابو العاص نے اپنے چھوٹے بھائی عمرو بن الربیع کو سیدہ زینب کو مدینہ پہنچانے کی ذمہ داری دی، مکہ کے مشرکین کو یہ خبر ہوگئی انہوں نے راستہ روکنا چاہا تو ابو العاص کے بھائی نے دھمکی دی کہ “اگر کوئی آگے بڑھا تو میرے تیروں سے نہیں بچ سکے گا – ”
اسی واقعے میں سیدہ زینب کو اونٹنی پر نیزے کی برچھی لگی تھی،
بالآخر زینب اپنے بیٹے اور بیٹی کو لے کر مدینہ منورہ چلی گئی۔ جہاں  چھ سال تک جدائی کا  عرصہ رہا اور اس دوران چونکہ نکاح ختم ہوگیا تھا، سیدہ زینب کے لئے کئی رشتے آئے مگر سیدہ زینب نے کوئی بھی رشتہ قبول نہیں کیا اور اسی امید پر انتظار کرنے لگی کہ ان کا شوہر ابوالعاص کبھی نہ کبھی اسلام قبول کرلے گا۔

ان چھ برسوں میں سیدہ زینب  کے مدینہ آنے کے بعد قریش کے سرداران نے حضرت ابوالعاص سے کئی بار کہا کہ ایسے اکیلے کب تک رہو گے “تم زینب بنت محمد  کو طلاق دیدو، تم قریش کی جس عورت سے کہو گے ہم تمہاری شادی اس سے کروادیں گے”۔  مگر ابوالعاص تو سیدہ زینبؓ  کی محبت کو کبھی بھول ہی نہ پائے تھے۔زینب کے مدینہ چلے جانے کے بعد ابوالعاص زینب کی یاد میں ہر وقت بے چین رہتے تھے، انہوں نے قریش کے لوگوں کو جواب دیا: اے قریش والوں سن لو “مجھے قسم ہے ! میں زینب کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتا، قریش کی کوئی بھی عورت میری زینب کی برابری نہیں کرسکتی۔”

ابو العاص نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے گئے عہد کو نبھا تو دیا تھا مگر زینب کو کبھی بھول نہ پائے تھے، ایسے ہی ایک بار ابوالعاص تجارتی قافلے میں سفرِ کے دوران زینب کی محبت میں ایسے بے چین ہوئے کہ دل کی فریاد شعر میں ڈھل گئی اور بہت ہی  پُر سوز آواز میں یہ اشعار پڑھے :

ذکرت زینب لما درکت ارما
فقلت سقیاً لشخص یسکن الحرما
بنت الامین  جزاھااللہ صالحہ
و کل بعل یشنی ما الّذی علما

ترجمہ : جب میں ارم سے گزرا تو زینب ؓ کو یاد کیا، اور کہاکہ خدا اس شخص کو شاداب رکھے جو حرم میں مقیم ہے، امین کی بیٹی کو خدا جزائے خیرعطا کرے ،اور ہر خاوند اسی بات کی تعریف کرتا ہے جس کو وہ خوب جانتا ہے۔

ہجرت کے چھٹے برس (صلح حدیبیہ سے پانچ ماہ قبل) ابو العاص ایک تجارتی قافلے کے ساتھ  اپنا سامانِ تجارت لے کر مکہ سے شام گئے، وہاں سے خوب منافع کما کر مکہ واپس آ لرہے تھے کہ مسلمانوں کی ایک گروہ نے ان کے قافلہ پر حملہ کردیا، قافلہ کے کچھ محافظین کو گرفتار کرلیا اور کچھ بھاگ کھڑے ہوئے سارا مال بطور مالِ غنیمت  لے لیا اور مدینہ جاکر سارا مال مسلمانوں نے تقسیم کرلیا۔ کچھ روایت کے مطابق انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا مدینہ لے جائے گئے اور کچھ روایات کے مطابق یہ خود مال لوٹے جانے کے بعد وہاں سے مدینہ پہنچے، جب مدینہ پہنچے تو فجر کا وقت تھا، وہ گلیوں میں سب سے زینب بنت محمد کے گھر کا پتہ پوچھتے پھر رہے تھے،  پتہ معلوم کرکے دروازے پر پہنچے تو فجر کی اذان ” حی الالصلاتہ خیر من النوم” کی صدا آرہی تھی،  دروازے پر دستک کے بعد دروازہ کھلتے ہی جب سیدہ زینب کی نظر ان پر پڑی تو دونوں کے دلوں کی حالت غیر ہونے لگی، ، سیدہ زینب روتے ہوئے پوچھنے لگی، “ابو العاص مجھے معلوم تھا، میرا دل گواہی دیتا تھا، تم ضرور آو گے، ابوالعاص کیا تم نے اسلام قبول کرلیا ہے؟
ابو العاص: نہیں
زینب: کوئی بات نہیں ، اند آجاو،  تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے تم میرے خالہ زاد ہو، ، میرے گھر میں میرے خالہ زاد کو خوش آمدید، میرے گھر میں میرے بیٹے علی کے بابا کو خوش آمدید، میری بیٹی امامہ کے بابا کو خوش آمدید۔

وہاں مسجد نبوی میں نماز فجر ہورہی تھی، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم امامت کررہے تھے، اور جیسے ہی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد سلام پھیرا ، پچھلی صفوں سے سیدہ زینب بنت محمد کی آواز آئی ۔
“انّی قد اجرت اباالعاص بن الرّبیع” ۔
ترجمہ :  ’’مسلمانو ! میں نے ابوالعاص بن ربیع کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے‘‘ ۔

محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہوکر کہا:
’’ لوگو! تم نے کچھ سنا ہے، کیا تم نے بھی وہی سنا ہے جو میں نے سنا ہے؟ ‘‘
صحابہ ؓ نے عرض کیا :جی ہاں، ہم نے بھی وہی سنا ہے۔

تب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : اللہ کی قسم ،اس سے پہلے مجھے اس واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں تھی ۔

    پھر سیدہ زینب ؓ نے اپنے بابا سے کہا : ابو العاص میرا خالہ زاد ہے اور میرے بچوں کا باپ ہے میں اس کو پناہ دیتی ہو۔

محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے کہا :  مسلمانوں میں سے کوئی بھی ، چاہے مرد ہو یا عورت ، کسی کو پناہ دے تو تمام لوگوں کو اسے قبول کرنا چاہیے”-

زینب : اے اللہ کے رسول،  میری درخواست ہے کہ میں نے جسے پناہ دی ہے اس ابوالعاص کا  لوٹا ہوا سامان اسے واپس کردیا جائے۔

  تب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے نے صحابہ ؓ سے کہا :
’’ تم میرے اور ابوالعاص کے رشتہ سے واقف ہو، اس شخص نے مجھ سے جو بھی بات کی ہمیشہ سچ بولا اور جو عہد کیا وہ نبھایا۔ اگر تم چاہتے ہو کہ اس کو اس کا مال واپس کر کے اس کو چھوڑ دیا جائے یہ اپنے شہر چلا جائے تو یہ بات مجھے پسند آئی گی۔ اور یہ تمہارا احسان ہوگا اور میری خوشی کا باعث ہوگا، اگر نہ کرو گے تو یہ اللہ کا عطیہ اور تمہارا حق ہے، میری طرف سے کوئی بھی ملامت نہیں ہے ‘‘۔

اصحاب نے کہا: ہماری جان آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، ہم ابو العاص بن الربیع کا مال اس کو واپس کرتے ہیں اور اس کو جانے کی اجازت دیتے ہیں”۔ اس کے  فوراً بعد تمام مال واسباب جمع کیا گیا اور ابو العاص بن الربیع کو واپس کردیا گیا۔

محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مسرّت سے کِھل اُٹھا تھا اور آپ نے بیٹی سے کہا : اے زینب ! تم نے جس کو پناہ دی ہم بھی اس کو پناہ دیتے ہیں۔ اور خود بیٹی کے ساتھ زینب کے گھر گئے اور کہا ” زینب بیٹی ! ابوالعاص کی خاطر تواضع کرو،  وہ تمھارا خالہ زاد بھائی ہے، تمھارے بچوں کا باپ ہے، بس یاد رہے کہ اس سے اب تمھارا رشتہ باقی نہیں رہا بس یہ تمہارے قریب نہ آئے کیونکہ یہ تمہارے لیے حلال نہیں”-
سیدہ زینب ابوالعاص کو گھر لے گئی، گھر پہنچ کرسیدہ زینب نے ایک بار پھر امید اور محبت سے ابوالعاص بن الربیع سے کہا: “اے ابو العاص:  کیا ہماری جدائی نے تجھے ابھی تک نہیں تھکایا،  کیا اسلام قبول کر کے میرے ساتھ نہیں رہو گے؟
ابو العاص : نہیں۔

ابوالعاص اپنا لٹا ہوا مال واپس لے کر مکہ پہنچے اور تمام لوگوں کا مال واپس کردیا۔
پھر تمام لوگوں سے بآواز بلند پوچھا : ” کیا کسی کا کوئی مال یا حق میرے ذمہ باقی ہے؟
تمام اہل مکہ نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا : ’’بالکل نہیں! خدا تمہارا بھلا کرے ،تم ایک نیک اور باوفا شخص ہو ‘‘۔

یہ جواب سن کر ابوالعاص نے کہا:
’’تو قریش والو اب سن لو !  اب میں مسلمان ہوتا ہوں۔
“اشھد ان لا الہ الا اللہ ، و اشھد ان محمداً رسول اللہ “
ترجمہ : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
خدا کی قسم! مجھے مدینہ میں اسلام قبول کرنے صرف یہی امر مانع تھا کہ تم مجھے خائن نہ سمجھو، میں  مکہ تمہاری امانتیں لوٹانے کے لے آیا ہوں اور میں محبت حجاز نے تمہاری امانتیں لوٹا دی ہیں-“

اس کے بعد پھر مدینہ کو روانہ ہوئے اور جب مدینہ پہنچے تو پھر فجر کا وقت تھا ۔سیدھا بارگاہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر پہنچے اور کہا: کل آپ نے مجھے پناہ دی تھی اور آج میں یہ کہنے آیا ہو کہ
“اشھد ان لا الہ الا اللہ ، و اشھد ان محمداً رسول اللہ “
ترجمہ : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آ گئی، پھر ابو العاص بن الربیع نے  محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول کیا آپ مجھے زینب کے ساتھ رجوع کی اجازت دیتے ہیں؟
محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوالعاص کا ہاتھ پکڑا اور کہا : آو ابو العاص میرے ساتھ آو، اور زینب کے گھر کے دروازے پر لے جا کر دروازہ کھٹکھٹایا اور زینب سے کہا : زینب یہ تمہارا خالہ زاد ابو العاص واپس آگیا ہے اور تم سے رجوع کی اجازت مانگ رہا ہے کیا تمہیں قبول ہے؟
ابو العاص پلک چھپکتے ہی ایک بار پھر ماضی کے اس لمحے تک پہچ گیا، جب پہلی بار زینب کا ہاتھ مانگا تھا، اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی بیٹی زینب کی رضامندی سے مشروط کیا تھا۔ آج پھر وہی لمحے دہرائے جارہے تھے،  سیدہ زینب کا یہ سن کر خوشی سے دل دھڑک اٹھا تھا شرم و حیا سے چہرہ سرخ ہوگیا اور وہ اپنے محبوب شوہر سے چھ برسوں کی جدائی کے بعد  ملنے پر مسکرا اٹھی تھیں۔

ابو العاص نے ساتویں ہجری میں اسلام قبول کیا اور اس کے صرف ایک سال بعد (سیدہ زینب مدینے سے ہجرت کے وقت ہبار ابن اسود کے نیزے کی برچھی کے زخم لگنے کے باعث اسی زخم کی وجہ سے انتقال کرگئی)،  سیدہ زینب کا آٹھویں ہجری کو  انتقال ہوگیا، ابوالعاص ؓ کو سیدہ زینب کے انتقال سے بے حد صدمہ پہنچا، لیکن انہوں نے صبرو استقامت سے کام لیا ۔ سیدہ زینب ؓ سے یوں وفا کی کہ ان کے بعد کسی اور عورت سے نکاح نہیں کیا ،آپؓ اپنے بچوں کی پرورش میں لگ گئے ۔مگر اکثر لوگوں کے سامنے ابو العاص شدت غم سے اکثر روتے رہتے، انہیں اکثر اللہ  کے رسول  ﷺ سر پر ہاتھ پھیر کر تسلیاں دیتے تھے، مگر ابو العاص ہمیشہ یہی کہتے:
اے اللہ کے رسول:  اللہ کی قسم زینب کے بغیر میں دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتا اور ایک سال کے بعد ہی ابو العاص بھی انتقال کر گئے۔

داماد رسول ؐحضرت ابوالعاص بن الربیع کی وفات پر بعض مورخین کا اختلاف ہے ان کے نزدیک ابو العاص بن الربیع خلافت صدیق اکبر ؓ میں ذوالحجہ 12ھ میں ہوئی اور بعض مورخین کے نزدیک وہ یوم الیمامہ میں شہید ہوئے (بنات اربعہ )۔

ریفرنسز :
روائع من التاریخ الاسلامی
تاریخ ابن عساکر
تاریخ طبری

نوٹ :  سیدہ زینب ؓ کے بطن سے حضرت ابوالعاصؓ کی دو اولادیں تھیں۔
1 – بیٹا علی
سیدناعلی ؓ بن ابوالعاص امویؓ  حضور کو بہت محبوب تھے اور فتح مکہ کے موقع پر یہی سبطِ رسول ؐ  حضور کے ہمراہ اونٹنی پر سوار (ردیف) تھے۔اس وقت ان کی عمر مبارک 14یا15برس کی تھی (الاصابہ)۔
تاریخ ابن عساکر کے مطابق جنگ یرموک 15 ہجری میں اس سبطِ رسول سیدنا علی ؓبن ابوالعاصؓنے جام ِشہادت نوش کیا۔

2 – بیٹی امامہ
حضرت امامہ ؓبنت ابوالعاص ؓ سے بھی حضور کو بڑی محبت تھی۔ یہی وہ نواسی تھی، جسے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اپنی کاندھوں پر بٹھا کر مسجد میں نماز پڑھبے جاتے تھے۔
ایک بار شاہ نجاشی نے ایک انگوٹھی آپ کی خدمت میں بطور تحفہ ارسال کی۔ آپ نے فرمایا:
لا دفعتھا الی احبُّ اہلی الیَّ۔
’’یہ انگوٹھی میں اس کودونگا جو مجھے اپنے اہل میں سے سب سے بڑھ کر محبوب ہے”۔
صحابہ کرام ؓ  کا خیال تھا کہ شاید حضرت عائشہ صدیقہ ؓ  کو دیں ،لیکن آپ نے یہ انگوٹھی حضرت امامہ ؓبنت ابوالعاص  ؓ کودی۔حضرت فاطمۃالزہراؓ کی وفات کے بعد حضرت علی المرتضیٰ ؓ نے امامہ ؓ بنت ابوالعاص  سے نکاح کیا ،حضرت علی ؓ کی شہادت کے بعد حضرت امامہ ؓ کانکاح حضرت مغیرہ بن نوفل سے ہوا ۔

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *