پولیس کا عام آدمی اور وکلاء سے ناروا سلوک۔۔۔محمود شفیع بھٹی

اس وقت پنجاب کے حماموں سے لیکر چاۓ خانوں تک کشمیر ایشو کو پس پشت ڈال کر عوام پولیس کے رویے کو لیکر خاصی تشویش میں مبتلا ہے۔ پولیس جس کے لغوی معنی “مدد آپ کی” کے بنتے ہیں، اپنے بنیادی معنوں اور حدود سے تجاوز کرچکی ہے۔ پنجاب پولیس محافظ فورس کم ایک غنڈہ گینگ زیادہ نظر آتی ہے۔ پولیس قانون کا کندھا استعمال کرکے اپنے ہر ناجائز کام کو ایف آئی آر کی شکل میں قانونی حیثیت دے رہی ہے۔ پولیس کے افسران بالا اس بابت مکمل فراخ دلی سے اسکے ممدو معاون ثابت ہورہے ہیں۔

1985 سے پنجاب پولیس روبۂ زوال ہے۔ ہر سیاستدان اور وڈیرے نے اسکو اپنا عسکری ونگ بنا کر استعمال کیا۔ ماضی میں میرٹ کو بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ پنجاب پولیس  میں کی جانے وا لی بھرتیاں پولیس کے تشخص کو تارتار کر گئیں۔ ہماری پولیس اوردوسرے ممالک کی پولیس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پولیس کا مقصد کونسلنگ کرنا ہوتا ہے نا کہ ڈنڈے کے زور پر عوام کی ہڈیاں توڑنا۔ پولیس کی عادتوں کو بگاڑنے میں پولیس کے اعلی افسران اور دوسرے اداروں کی نااہلی اور رکھ رکھاؤ کا عمل دخل ہے۔ جب میرٹ پر سزا اور جزا نہیں ہوگی تو پولیس کیسے سدھرے گی؟

پنجاب پولیس کی یزیدی صفت کی ایک داستان ہے۔ زیادہ دور نہیں ساہیوال میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، بچوں کے سامنے والدین کا قتل، کیا بنا ؟کچھ بھی نہیں!
صلاح الدین کیس کیا بنا؟
کچھ بھی نہیں !

اور قریب آجائیں، فیروز والا بار کا واقعہ لے لیں۔ وکیل صاحب روزانہ اپنی گاڑی ایک مخصوص جگہ پر کھڑی کرتے تھے۔ پولیس کانسٹیبل اور وکیل صاحب کے درمیان تکرار اور پھر محترمہ فائزہ نواز کا اس تکرار میں حصہ ڈالنا، وکیل احمد مختار کا میل کا نسٹیبل کو دھکا دینا اور اسکا فیمیل کے اوپر گرنا اور پھر اسی دھکے کو تھپڑ بنا کر قانون کی دھجیاں اڑا دینا۔ اور تو اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 95 کےتحت تھپڑ مارنا قابل دست اندازی جرم نہیں ہے ۔ پولیس گردی کا یہ عالم ہے کہ وکیل احمد مختار کیخلاف ایف آئی آر  دفعہ 354،506 ،186 ،34 تعزیرات پاکستان کے تحت درج کی گئی۔ یہ تمام جرائم قابلِ ضمانت ہیں۔

اخلاقی بانکپن کا یہ عالم ہے کہ قابلِ ضمانت جرائم میں وکیل احمد مختار کو دوہری ہتھکڑی لگا کر مدعی مقدمہ فائزہ نواز کو پکڑ کر فوٹو سیشن کیا گیا۔ یہ ہماری پنجاب پولیس، کونسا قانون ہے ، جس کے مطابق ناقابل دست اندازی جرائم میں دوہری ہتھکڑی لگا کر پیش کیا جاتا ہے؟ کونسا اندھا قانون ہے جس کیمطابق مدعی مقدمہ خود ہتھکڑی پکڑ کر روبرو مجسٹریٹ پیش کرے گا؟ سادہ الفاظ میں یہ قانون نہیں یہ غنڈہ گردی ہے، وہ غنڈہ گردی کہ جس کو1985سے حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔

مزید تفصیل میں جاۓ بغیر وکلاء کو اس غنڈہ گردی کیخلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔ریاست کو جگانا ہوگا، پولیس کا نشہ اتروانا ہوگا۔ پنجاب پولیس ظلم، بربریت اور وحشت کا دوسرا نام بنتی جارہی ہے۔ پولیس کے اندر ایک خاص مائنڈ سیٹ کو ترتیب دے دیا گیا ہے کہ جہاں بھی کوئی پڑھا لکھا بندہ یا پھر وکیل ملے اسے عوامی طور پر اتنا نیچا دکھاؤ کہ وہ پھر سے بات کرنے اور اٹھنے کی جرأت نہ کرے۔

میرے ذہن میں ایک تازہ واقعہ آگیا۔ میرا ایک کلاس فیلو تھا، آٹھویں جماعت  کے بعد اس نے پڑھنا چھوڑ دیا، کاروبار سے منسلک ہوگیا۔ اسکی تکرار اس وقت کے پولیس انسپکٹر سے ہوئی، اس پر ناجائز منشیات کی ایف آئی آر درج ہوئی، ٹرائل ہوا وہ بَری ہوگیا۔ اسی انسپکٹر نے اپنا رنج دور کرنے کے لیے اسے پولیس مقابلے کے نام پر قتل کردیا۔ ورثاء نے کافی شور مچایا، پولیس نے اسکی والدہ اور بڑے بھائی  سے(اُن کے مطابق) اپنی مرضی کا بیان لکھوایا۔ وہ  انسپکٹر تاحال تھری سٹار ہے اور عوام کی خوب چمڑی ادھیڑ رہا ہے۔ یہ لکھتے ہوۓ میں خود کو بھی عدم تحفظ کا شکار محسوس کررہا ہوں۔

محمود شفیع بھٹی
محمود شفیع بھٹی
ایک معمولی دکاندار کا بیٹا ہوں۔ زندگی کے صرف دو مقاصد ہیں فوجداری کا اچھا وکیل بننا اور بطور کالم نگار لفظوں پر گرفت مضبوط کرنا۔غریب ہوں، حقیر ہوں، مزدور ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *