مکالمہ کو سالگرہ مبارک ہو۔۔۔محمد منیب خان

کوئی بھی چیز ہو وہ پیدائش کے بعد سب کے سامنے ہوتی ہے لیکن پیدائش سے پہلے یہ کن مراحل سے گزرتی ہے اور پیدائش کے بعد اس کو کتنی نگہداشت اور توجہ چاہیے یہ اس چیز کا خالق ہی بہتر جان سکتا ہے۔ مکالمہ جیسی بلاگنگ سائٹ جو تین سال سے ہمارے درمیان لکھنے والوں کو ایک توانا پلیٹ فارم مہیا کیے ہوئے ہیں۔ اس کی تخلیق اور اس کی نگہداشت پہ معمور سب ہاتھوں کے لیے آج کا دن بہت خاص ہے۔ اور یہ سب ہاتھ اور اذہان جانتے ہیں کہ ان کی کتنی محنت کے نتیجے میں مکالمہ آج اس مقام پہ کھڑا ہے۔

بظاہر “ویب سائٹ چلانے” کا سادا سا لگنے والا کام بھی بے  شک بہت محنت اور وقت طلب ہے۔ اور مکالمہ کی ٹیم نے انعام رانا کی سربراہی میں اس ویب سائٹ کو چلانے میں جس محنت اور جانفشانی سے کام کیا اور کر رہی ہے وہ قابل تحسین ہے۔ مکالمہ کی دو خصوصیات اس کو اپنی معاصر ویب سائٹس سے ممتاز کرتی ہیں۔ نمبر ایک تو یہ کہ مکالمہ کی پوری ٹیم مجھ ایسے نوخیز لکھاریوں کی بھی دسترس میں ہے۔ اور کسی بھی قسم کے  ناز نخرے کے بغیر ہمہ وقت راہنمائی اور مدد کے لیے دستیاب ہوتی ہے۔ نمبر دو مکالمہ ابھی تک اس میں بھرپور کامیاب ہوا ہے کہ اس پہ کسی مخصوص سوچ یا نظریات کی چھاپ نہ لگ سکے۔

ایسے معاشرے میں جہاں سیاسی عصبیت روز بروز جڑ پکڑ رہی ہے مکالمہ ہمیں راہ دکھا رہا ہے کہ آؤ اس گہری ہوتی خلیج کو دلیل اور محبت کی مٹی سے بھریں۔ ہم اس شکست و ریخت کا شکار ہوتے معاشرے میں اپنا کردار ادا کریں۔ مکالمہ کی ساری ٹیم بالخصوص انعام رانا، معاذ، اسماء، احمد رضوان اور باقی سب جو کسی نہ کسی کیپسٹی میں مکالمہ کو اپنا وقت اور ہنر دے رہے ہیں ان سب کو مکالمہ کی تیسری سالگرہ مبارک!

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *