لادینیت، سیکیولرازم اور مذہبیت کے نام پر شدت پسندی۔۔۔ منصور ندیم

پاکستان میں جہاں تعلیم اور شعور کی کمی کی وجہ سے کثیر مسائل کا سامنا آئے دن رہتا ہے وہاں ایک مسئلہ پاکستان میں ناقدانہ سوچ کی صحیح تفہیم کا نہ ہونا بھی ہے، پاکستان میں کسی بھی تعلیمی سطح پر ناقدانہ سوچ کی اصولی تعلیم کا کوئی تصور نہیں ہے۔
یہاں ہر فرد کا اپنا ایک سیاسی موقف تو ہے لیکن وہ موقف اتنا متشدد ہے کہ وہ کسی دوسرے کی سیاسی بصیرت یا تفہیم کو کسی صورت قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، ایسے ہی یہاں مذہبی جماعتوں اور مسالک کی اپنی اپنی مذہبی تعبیرات اور تشریحات ہیں جن میں کسی دوسری تفہیم اور تعبیر کی قبولیت کی کوئی صورت نہیں ہے، یہ افراد اپنی تشریحات اور فہم اسلام کی بنیاد پر اتنی شدت پسندی رکھتے ہیں کہ مخالف سوچ کے لئے فقط کفر کا فتویٰ ہی موجود ہے۔
بد قسمتی سے اسلامی جماعتوں کے اس رویے اور عالمی سطح پر نائن الیون کے بعد پوری دنیا میں اسلام کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا اور پاکستان میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوگئے جو ہر چیز کے رد عمل میں اسلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ بلکہ عالمی سطح پر ہی مذہبیت دم توڑتی جا رہی ہے، اس وقت لا دینوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے، مسلم ممالک میں بھی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد دین بے زار ہو رہی ہے یا اُن کی دین سے وابستگی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔اس کے مقابلے میں اگر پاکستان میں کسی عام فرد کا مذہبی شدت پسندی کی طرف راغب ہونا ایک عمومی سی بات ہے تو اس کے مقابلے میں ایک بات جس سے صرف نظر کیا گیا کہ پاکستانی معاشرہ لادین افراد کو بھی ایک عمدہ زمین فراہم کرتا ہے۔

بنیادی طور پر میرے مخاطب وہ افراد ہیں جو سیکولرازم کی آڑ لے کر اپنی لادینیت یا مذہب بیزاریت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ میرے ناقص علم کے مطابق سیکولرازم کسی بھی صورت اسلام یا کسی بھی فرد کے مذہب اور عقائد پر بلا وجہ غیر منطقی تنقید کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

سیکولرازم کیا ہے ؟

سیکولرازم کی ہمارے ہاں جو تشریح کی جاتی ہے کہ ’’ لفظ سیکولر کا اردو ترجمہ شرارتاً’’ لادینیت‘‘ کیا گیا ہے۔ جو کہ غلط ہے ، سیکیولر ہونے کا مطلب کسی بھی طرح مذہب کا انکاری ہونا نہیں ہے۔‘‘ جیسے جمہوریت شہریوں کے مساوی حقوق اور ووٹ کی برابری (Equality of Vote)سے مشروط ہے ۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب معاشرے میں تمام شہریوں کو یکساں حیثیت حاصل ہو۔ یکساں حیثیت سے مراد بلاامتیاز رنگ، نسل، لسان، عقیدہ اور صنف برابری ہے، جو صرف سیکولر ازم ہی فراہم کرتی ہے۔

لادینیت کیا ہے ؟

بالاصل جب کوئی فرد تمام مذاہب ترک کرتا ہے تو اس کا بنیادی دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ اخلاقیات و قوانین کے لئے اسے کسی مذہبی ضابطے کی ضرورت نہیں ہے اب وہ اپنے عقل و شعور میں اس منزل تک پہنچ چکا ہے جہاں وہ اخلاقیات کے تمام پیمانے خود طے کرسکتا ہے، یہ فرد کسی بھی سزا کے خوف اور جزا کے قانون سے ماورا، انسانیت کی بھلائی اور درست راستے کے انتخاب کےلئے اپنی ذاتی زندگی کو معاشرے میں اپنے مثالی کردار کو ترجمان بنادیتا ہے ۔

شدت پسندی کیا ہے؟

ضروری نہیں ہے کہ یہی سمجھا جائے کہ شدت پسندی کے مظاہر کے لئے کوئی داڑھی رکھے ہوئے مسلمان یا کسی ہندو یا یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والا فرد ہی ہوگا جو اپنے نظریات یا خیالات کو دنیا پر اپنی مرضی سے لاگو کروانا چاہتا ہے۔ بلکہ شدت پسندوں کی ایک قسم ان لادین افراد یا مذہب بیزاروں کی بھی ہے جو بظاہر خود کوجدت پسند ، لبرل یا سیکیولر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئےمذہب پر تنقید کرکے انسانیت کا دم بھرتے ہیں ۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑا طبقہ جو خود کو سیکولر ہونے کا دعویٰ تو کرتا ہے، یا لادینیت کے نام پر مختلف آراء یا خیالات پیش کرتے ہیں، یہ تمام دانشور اصلاً لادین نہیں بلکہ دین مخالف ہیں، ان تمام افراد کا کام بھی یہی ہے کہ وہ اپنے خیالات دوسروں پر ایسے ٹھونستے ہیں جیسے کوئی شدت پسند مذہبی اپنی رائے اور اظہار رائے کو دوسروں پر لاگو کرنا چاہتا ہے( حالانکہ یہ رویہ کسی طور بھی سیکولر تصور کی ترجمانی نہیں کرتا ہے)۔
خصوصاً سوشل میڈیا پر ان افراد کی وال پر آپ کو بلاوجہ اسلام کے احکامات پر تنقید، فقہی اختلافات کی بنیاد پر تنقید، اور پھبتیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ایسے تمام دانشور جو بزعم خود تو عقل و شعور کا دم بھرتے ہیں، اور اخلاقیات کے چیمپین بھی بنتے ہیں اکثر تو نہ صرف علمی طور پر پست ہوتے ہیں بلکہ عموما ًاخلاقی طور پر بھی ان کا کردار چھوٹا اور گھٹیا ہوتا ہے۔کسی بھی خیال یا رائے کو جب آپ ایک نظریہ بنادیتے ہیں تو پھر وہ سوال سے ماورا ہوجاتا ہے، اور اس کا نتیجہ استحصال کی صورت نکلتا ہے، جہاں فرد اپنی جستجو، سوچ، فکر اور سوال کو پس پشت ڈال دیتا ہے اور اپنے خیال کو مثال بنا کر پیش کرے تو سمجھ لیجئے کہ شدت پسندی نے جنم لے لیا ہے۔

یہ دعوی ٰکہ مجھے کسی نظریے کی ضرورت نہیں ہے خود ایک تشکیل شدہ بیانیہ ہے۔ حالانکہ ہر اختلاف، دلیل یا علم کی روشنی میں ہی پروان چڑھ سکتا ہے، علمی اختلاف کے لئے گھٹیا اور بے جا تنقید کی ضرورت نہیں بلکہ فکری سوچ اور علمی دلائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلکہ دوسرے شدت پسند کی گھٹیا فکر یا عمل کو دلیل  بنا کر  اپنےگھٹیا اور بھونڈے استدلال کو جائز قرار دینا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتا۔
اختلاف رائے کی معراج یہی ہے کہ باوجود اختلاف کے دوسرے کی آراء کا احترام اور مخالف کے بیانیہ پر مدلل اور اصولی سوال کرنا ہی شدت پسندی کے خاتمے کی   ایک واحد صورت ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *