دل دریا سمندروں ڈونگھے۔۔۔۔حسن نثار

ابھی کل ہی امریکن دورے کی کامیابی پر لکھا تھا کہ جشن ضرور منائو لیکن ذرا کینڈے کنٹرول میں رہ کر تو دیکھ لو ابھی سہرے کے پھول بھی نہیں سوکھے کہ وہاں سے ’’حق مہر‘‘ کا مطالبہ آ گیا۔امریکہ کا تازہ ترین ارشاد یہ ہے کہ ….’’پاکستان سے مذاکرات کامیاب رہے، اب عمل کا وقت آ گیا‘‘ یعنی اب سارا زور ’’عمل‘‘ پر ہو گا۔بقول شخصے ’’ٹرمپ کے یوٹرن نے حیران کر دیا‘‘ تو دھیان میں رہے کہ جسے یوٹرن کی عادت ہو وہ کسی بھی وقت کوئی سا بھی یوٹرن لے سکتا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کا مائنڈ سیٹ سمجھنا ہو تو اس کا یہ بیان ہی کافی ہے جو 23جولائی کو مقامی اخبارات میں شائع ہو چکا اور اس میں عقل مندوں کیلئے بہت سے اشارے موجود ہیں یعنی ….’’ایک ہفتہ میں افغان جنگ جیت سکتا ہوں مگر ایک کروڑ افراد کو ہلاک نہیں کرنا چاہتا ‘‘۔ ٹرمپ بہت جلدی میں ہے اور بہت فرسٹریٹیڈ بھی جبکہ ہم ذرا ’’سلوموشن‘‘ قسم کا مزاج رکھتے ہیں اور منیر نیازی کا یہ مصرعہ کم و بیش ہمارے منشور کا سا درجہ رکھتا ہے ۔’’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں‘‘لیکن شاید امریکہ سے مذاکرات کی کامیابی کے نتائج پر ’’عمل‘‘ کیلئے ہمیں ذرا مختلف قسم کے کردار اور رفتار کی ضرورت ہو گی ورنہ یاد رہے یہ وہی ڈونلڈ ٹرمپ ہے جس نے ماضی قریب میں نواز شریف کو ’’زبردست بندہ‘‘ قرار دیا تھا لیکن

آج اسے یاد بھی نہ ہو گا کہ اس کا یہ ʼʼTERRIFIC GUYʼʼکس حال میں کس جیل کے اندر ’’گھریلو خوراک‘‘ کے ایک ایک لقمے کو ترس رہا ہے اور ہر وقت اس سہم میں مبتلا رہتا ہے کہ اس حبس اور تنہائی کے عالم میں اس سے ایئرکنڈیشنز اور ٹی وی نہ چھین لیا جائے کیونکہ ہمارا یہ سرخ و سفید نیلسن منڈیلا نازک مزاج بہت ہے ۔رہ گئی کشمیر کے معاملہ میں ثالثی کی ٹافی تو بھارئی ردعمل کو چھوڑیں ۔ خودکسی یو ایس اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بیان یا پریس بریفنگ میں بھی اس کا کہیں ذکر نہیں ۔مختصراً یہ کہ’’لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام‘‘سو جتنا ’’جشن‘‘ منا لیا کافی ہے اب ’’کام‘‘ کی طرف آئو کہ امریکہ نے اپنے مخصوص انداز میں کہہ دیا ہے کہ ’’پاکستان سے مذاکرات کامیاب رہے، اب ’’عمل‘‘ کا وقت آ گیا ‘‘۔کامیاب قومیں ’’اقوال زریں‘‘ نہیں صرف عمل اور اعمال پر توجہ دیتی ہیں۔دعا ہے کہ تبدیلی سرکار بھی اس طرف بھرپور توجہ دے ورنہ ʼʼTERRIFIC GUYSʼʼ تو آتے جاتے رہتے ہیں ۔ٹرمپ کا مسئلہ آنے والے انتخابات ہیں جن میں کامیابی کی ایک کنجی افغانستان میں پائی جاتی ہے ۔قارئین!امریکہ کے کامیاب کالمی دورے کے بعد اب پاکستان پہنچتے ہیں جہاں کی سب سے اہم اور تازہ ترین خبر یہ ہے کہ ہوم میڈ خادم اعلیٰ عرف میاں مائیک توڑ شہباز شریف نے زلزلہ متاثرین کو دی گئی امداد چوری کے الزام پر برطانوی اخبار کو قانونی نوٹس بھیج کر کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ویل ڈن شہباز شریف ….بلاشبہ شہباز نے پہلا رائونڈجیت لیا ہے کیونکہ مجھ سمیت بہت سوں کا خیال تھا کہ شہباز شریف ایسی جرات، حماقت ہرگز نہیں کرے گا لیکن ایسا ہو چکا جس پر شہباز کو دل کھول کر داد نہ دینا کم ظرفی ہو گی لیکن وہ جو ’’آخری قہقہہ‘‘ والی بات ہے، ابھی باقی ہے ۔شہباز شریف کو چاہئے پوری قوت، شدت، حکمت کے ساتھ اس کیس کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچائے کہ اس کیس کی جیت کئی کیسز کی جیت کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے ۔میں ذاتی طور پر ان لوگوں میں سے ہوں جن کے نزدیک سیاست دانوں کا کرپٹ ہونا کوئی خبر ہی نہیں لیکن اس کے باوجود نجانے کیوں شہباز کرپشن کے قصے سن کر مجھے اک عجیب سا دکھ ہوا تھا کیونکہ جس شہباز سے کبھی شناسائی تھی اس سے ایسی باقاعدہ کرپشن کی بو کبھی نہ آئی تھی ۔میری دعا ہے شہباز سرخرو ہو۔آخری سے پہلی بات جو مسلسل رڑک رہی ہے اور چین سے بیٹھنے نہیں دے رہی ۔بات چند روز پہلے ہمارے چیف جسٹس نے کی تھی جن کی باتوں میں قانون کےساتھ ادب، فلسفہ اور حکمت و بصیرت کی چاشنی بھی ہوتی ہے ۔آپ نے کہا ’’تحریک بحالی عدلیہ کی کامیابی کے بعد تحریک بحالی عزت وکلاء کی اشد ضرورت ہے‘‘ اس جملہ میں ایک لفظ کے اضافہ کی بھی گنجائش نہیں۔صرف چینیوں کا ایک ہولناک قول یاد آتا ہے کہ ’’اعلیٰ اور پاکیزہ کلام کا نزول صرف پاک دلوں پر ہوتا ہے ‘‘ عجیب بات ہے جو آج تک مجھے پوری طرح سمجھ آنے کے باوجود سمجھ نہیں آئی کہ ’’دماغوں‘‘ کی بجائے ’’دلوں‘‘ کو یہ مقام کیوں بخشا گیا۔مزید کہتے ہیں …..’’دین، طب اور قانون کے شعبوں میں دھوکے بازی کی گنجائش نہیں ‘‘۔سوچتا ہوں باقی کیا رہ گیا ؟سلیس ترجمہ تو یہ ہوا کہ زندگی میں ہی دھوکے بازی کی کوئی گنجائش نہیں لیکن یہاں تو’’دھوکہ دینے والا یہ کہتا ہے اس نے کچھ تو دیا‘‘ایسی باتیں کرنا کس کی ذمہ داری تھی ؟سیاسی رہنمائوں کی ؟فکری رہنمائوں کی ؟مذہبی رہنمائوں کی ؟یا باپوں اور مائوں کی ؟جن کی بھی ذمہ داری تھی ….افسوس وہ ذمہ دار ثابت نہ ہوئےصرف کرپٹ اور سزا یافتہ ہی قوم کو گمراہ نہیں کر رہے،یہاں تو سادھو، سنت اور جوگی بھی اس ’’کارخیر ‘‘ سے باز نہ آئے ۔’’دل دریا سمندروں ڈونگھے کون دلاں دیاں جانے ہو‘‘عجیب بات کہ یہاں بھی دماغ نہیں دل کا رونا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *