تڑپ۔۔۔۔حسن کرتار

گرو آپ سچ کہتے ہیں جیون دکھ ہے

ہمم۔۔۔

گرو مجھے معاف کر دیجیے،

کس بات پر؟

کہ میں اب تک آپ کو نہیں سمجھا تھا

تو اب کیا سمجھے ہو؟

یہی سمجھا ہوں کہ آپ کی ایک ایک بات درست تھی۔

یہ تو تم مجھے اکثر کہتے تھے۔ تب جھوٹ بولتے تھے یا اب جھوٹ بول رہے ہو؟

نہیں گرو تب میں بنا سمجھے سر ہلاتا تھا ،صحیح سمجھ اب مجھے آئی ہے

خوب۔ تو یہ نروان کیسے ملا؟

رادھا میرے ساتھ دھوکہ کر رہی تھی۔ آج میں نے اسے دامودر کے ساتھ ہنستے کھیلتے دیکھا۔۔۔

تو اس میں کیا ہے۔ ہوسکتا ہے وہ دونوں اچھے دوست ہوں۔۔

نہیں گرو۔ میرے آگے رادھا ہمیشہ دامودر کی برائیاں کرتی تھی۔ کہا کرتی تھی اسے کسی چیز کا کچھ پتہ نہیں ایسے ہی شاعر بنا پھرتا ہے اور لمبی لمبی چھوڑتا ہے۔۔۔

تو تمہیں رادھا کی بے وفائی کا دکھ ہے یا رادھا کی اپنے دشمن شاعر سے دوستی کا دکھ ہے؟

گرو مجھے اپنے وجود کا دکھ ہے۔ یہ ہمیشہ مجھے گمراہ کرتا ہے۔ مجھے اجازت دیجیے کہ میں خودکشی کر لوں۔

پر خودکشی کرنے سے تمہیں مُکتی نہیں ملے گی۔۔۔ ہوسکتا ہے اگلے جنم تم بھی کوئی رادھا سی ناری بن کر شاعروں کو دھوکے دیتی پھرو۔۔۔

ہمم۔ گرو مگر آپ تھوڑی کرپا کریں تو مجھے مکتی مل سکتی ہے۔۔۔

میری کرپا سے کچھ نہیں ہوگا۔ ہر جیوت کو اپنے کرموں کا پھل مل کر ہی رہتا ہے۔ زندگی گیت نہیں راگ ہے۔ اس کے کچھ اصول ،ضابطے ہیں جنہیں سمجھنا شاید ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔۔۔

مگر گرو میں اب اور جینا نہیں چاہتا۔ میری زندگی ناکام و نامراد ہے۔۔۔ نہ میں دامودر سا بڑا کوی بن سکا اور نہ ہی رادھا کا دل جیت پایا۔۔۔ اب جی کر کیا کروں گا جب دل ہی ٹوٹ گیا۔۔۔

تم حسد کا شکار ہو۔۔ اور حسد کرنے والا سدا اندر ہی اندر جلتا کڑھتا  رہتا ہے ۔ شانتی حاصل کرنے کیلئے بہت تپسیا کرنی پڑتی ہے۔۔۔

گرو اس سمے میرے دماغ میں آندھیاں چل رہی ہیں۔ مجھے بس خودکشی کرنے کی اجازت دیجیے۔۔۔

ہمم۔ چلو اجازت دے دیتا ہوں مگر یہ بتا دوں کہ آج سے دو ڈھائی ہزار سال بعد تم پھر ایک لیکھک بن کر اس دنیا میں آؤ گے۔ اور بہت مشہور آدمی ہوگے۔ لوگ تمہاری ہر فضول بات پر واہ واہ کریں گے۔ مگر تم گیان سے خالی ہی رہو گے۔۔۔

ہیں گرو۔۔ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ کوئی  گیان  بِنا کیسے مشہور ہوسکتا ہے۔

بس وہ زمانہ ہی ایسا ہوگا۔۔ تب تقریبا ً تمام مشہور لیکھک تمہارے جیسے ہی ہونگے۔ معلومات اور باتیں تو سب کے پاس ہونگی پر گیان کسی کسی کے پاس ہی ہوگا۔ تب لوگ لکھنے کیلئے مشینیں استعمال کریں گے۔ سارا سارا دن باتیں کریں گے پر سمجھیں سمجھائیں گے کچھ بھی نہیں۔۔۔

گرو کیا ایسا سمے بھی انسانوں پہ آۓ گا؟

جہاں تک میری سوچ کام کرتی ہے شاید اس سے بھی برا سمے آسکتا ہے۔۔۔

گرو مگر میں وہ سمے دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں دیکھنا چاہوں گا کہ میں مشہور ہو کر کیا کرتا ہوں۔۔۔ لوگ مجھے کتنا سراہیں گے ۔ یقینا ً وہ سمے اس سمے سے بہتر ہوگا۔۔۔

تو پھر اٹھو اس سامنے والے کنویں میں چھلانگ لگا دو۔۔۔

گرو تب کیا آپ سے بھی ملاقات ہوگی۔۔

کیا کہہ سکتے ہیں۔۔۔ شاید ہو جائے شاید نہ ہو۔ ہوئی بھی سہی تو شاید تم مجھے پہچان نہ پاؤ گے۔۔۔

نہیں گرو یہ تو زیادتی ہوگی۔ کوئی تو ایسی نشانی دے دیں کہ میں آپ کو تب پہچان لوں۔۔۔

نہیں یہ میں نہیں بتا سکتا کہ یہ بتانے کا مجھے اختیار نہیں۔۔۔

اچھا گرو کیا میں تب واقعی بہت مشہور آدمی ہوں گا۔۔۔

ہاں کہہ دیا ناں۔ تمہاری فضول سے فضول بات پر بھی لوگ سینکڑوں کمنٹس کریں گے اور تمہاری پوسٹس پر دل شل دیں گے۔۔۔

یہ کمنٹ پوسٹس دل یہ کیا چکر ہوگا گرو؟

یہ اگلے جنم میں اچھے سے جان جاؤ گے۔ فی الحال یہ سب سمجھانا ناممکن ہے۔۔۔

اچھا گرو الوداع۔ میں چلا چھلانگ لگانے۔۔۔ بہت بہت دھنے واد۔۔۔ کھل جائے گا قسمت کا تالا میں بھی ایکٹر بنوں گا نام والا۔۔۔

الوداع ۔بھگوان تمہیں بہت مشہوری دیں۔۔۔
حسن کرتار۔ 333BC

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *