• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • شام میں دہشتگردوں کے حامی رخ موڑنے لگے ہیں۔۔۔ ثاقب اکبر

شام میں دہشتگردوں کے حامی رخ موڑنے لگے ہیں۔۔۔ ثاقب اکبر

جوں جوں شامی افواج کی گرفت اپنے ملک پر مضبوط ہوتی چلی جا رہی ہے اور دہشت گرد گروہوں کے علاقے سمٹتے چلے جا رہے ہیں، ان کے حامی ان سے رخ موڑتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ گذشتہ منگل (22 اگست2017) کو ریاض میں ہونے والی نشست میں یہی صورت حال سامنے آئی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک خبر کے مطابق شامی حکومت کے مخالف نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ اب کسی نئی حکمت عملی کے بارے میں غور و فکر کریں۔ عادل الجبیر نے اگرچہ واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ بشار الاسد شام میں صدر کے طور پر باقی رہیں گے، تاہم ان کا یہ کہنا ضرور تھا کہ بدلی ہوئی صورت حال میں نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ یورپی نمائندوں کا بھی کہنا تھا کہ شامی حکومت کے مخالف نمائندوں کو کسی پیشگی شرط کے بغیر ستمبر  میں ہونے والے جنیوا مذاکرات میں شرکت کرنا چاہیے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ قبل ازیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا اس پر اصرار رہا ہے کہ مذاکرات کے لئے بشار الاسد استعفٰی دیں۔ شام مخالف گروہ کئی ایک نشستوں میں بلاواسطہ شامی حکومت کے نمائندوں سے مذاکرات سے انکار کرچکے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات اور بھی اہمیت اختیار کر جاتی ہے کہ خود بشار الاسد کے مخالف کئی ایک شامی گروہ بھی اس میٹنگ میں کسی پیشگی شرط کے بغیر مذاکرات پر رضا مندی ظاہر کرچکے ہیں۔

ریاض میں حکومت مخالف گروہوں کے اس اجلاس میں بڑے پیمانے پر اختلاف سامنے آیا۔قاہرہ پہنچنے والے مخالفین کے نمائندہ جمال سلیمان کا کہنا تھا کہ بشار الاسد کے مستقبل کے بارے میں ہماری ماسکو سے آنے والے وفد سے ہم آہنگی تھی، جبکہ دیگر گروہوں کے نقطہ نظر کو ہم نے قبول نہیں کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شامی بحران کے حل کے لئے جنیوا کے آئندہ مذاکرات کے لئے پیشگی شرائط عائد نہیں کرنا چاہئیں۔ ایک اور حکومت مخالف گروہ کے نمائندہ قدری جمیل نے ریاض سے واپسی پر ماسکو میں بتایا کہ تمام گروہوں نے محسوس کیا ہے کہ سعودی عرب نے شام کے بارے میں اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔ اس بدلتے ہوئے موسم کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ حماۃ اور حمص صوبوں کے سرحدی علاقے داعشیوں کے ہاتھ سے مکمل طور پر نکل چکے ہیں اور اب بشار الاسد کی وفادار فوجوں کے قبضے میں ہیں۔ شام کے مرکزی علاقوں کا بڑا حصہ بھی داعش کے ہاتھوں سے نکل کیا گیا ہے۔ شام اور لبنان کے سرحدی علاقوں پر بھی داعش کو شکست فاش ہوچکی ہے۔ اس طرح داعش کے زیر قبضہ بیشتر علاقے آزاد کروا لئے گئے ہیں۔ اس وقت داعش صوبہ دیرالزور میں محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ فوجی ذرائع کو توقع ہے کہ آئندہ دو ہفتوں میں داعش کو شام میں مکمل شکست ہو جائے گی۔ اس وقت شامی فوج بیک وقت تین سمتوں سے داعش پر حملہ آور ہوسکتی ہے۔

چند روز قبل روس کے وزیر دفاع سرگئی شائگو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کی داخلی جنگ عملاً اپنے انجام کو پہنچ گئی ہے۔ یقینی طور پر ان کا یہ بیان میدان نبرد سے ملنے والی اطلاعات اور شواہد کی بنیاد پر سامنے آیا ہے۔ اگرچہ شام میں روسی فوج کے کمانڈر کرنل سرگئی سورویکن نے اعلان کیا ہے کہ شام میں دہشت گردوں کے مکمل خاتمہ تک کارروائی جاری رہے گی۔ شام اور عراق میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں بنیادی فرق شاید عوام کی جنگ میں پرجوش شرکت کا رہا ہے۔ عراقی فوج کو جو عظیم الشان کامیابیاں حاصل ہوئیں، ان میں عوامی رضاکار فورسز کا بڑا عمل دخل ہے۔ جبکہ گذشتہ کئی برس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ آزما شامی فوجوں کو اپنے قبائل کی اس سطح کی حمایت دکھائی نہیں دی، تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب شامی قبائل بھی کھل کر شامی افواج کے ساتھ شریک ہو رہے ہیں۔ اس فرق کی کئی وجوہات ہیں، تاہم شامی قبائل کی حمایت اور تعاون کی وجہ سے بشار الاسد کی حامی افواج کو یقینی طور پر بہت تقویت حاصل ہوگی۔ شام میں دہشت گردوں کی عددی قوت بھی اب پہلے کی نسبت خاصی محدود ہوگئی ہے۔ مختلف قومیتوں کے دہشت گرد اب کم ہوتے جا رہے ہیں۔ مقامی بھرتی پر بھی بہت اثر پڑا ہے۔ شامی حکومت کے خلاف مصروف جنگ دہشت گردوں کی تعداد کسی وقت ایک لاکھ سے زیادہ تھی، جو اب ایک تہائی بھی نہیں رہ گئی۔

داعش کی مکمل شکست کے بعد دو محاذ شامی افواج کے لئے باقی رہ جائیں گے، ایک جبھۃ النصرہ اور اس کے اتحادی گروہ جنھیں ہیئت تحریرالشام کا نام دیا گیا ہے اور دوسرا سیرین ڈیموکریٹک فورسز(Syrian Democreatic Forces) جن میں کرد اور عرب دونوں شامل ہیں۔ اگرچہ شامی کردوں کی تعداد زیادہ ہے۔ فی الحال تو سیرین ڈیموکریٹک فورسز مشترکہ طور پر شامی فوج کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف رقہ میں کارروائی کرنے کے لئے آگے بڑھ رہی ہیں۔ تاہم مستقبل میں شامی افواج اور ان فورسز کا آمنا سامنا ہوسکتا ہے، کیونکہ ان فورسز کو امریکہ کی آشیر باد حاصل ہے، جبکہ امریکہ شام کے اندر کردوں کی الگ ریاست کے قیام میں ان کی مدد کا منصوبہ بھی رکھتا ہے، جیسا کہ اس کی خواہش ہے کہ عراق کے کرد علاقے بھی آخرکار ایک آزاد ریاست کی صورت اختیار کر لیں۔ ایسے میں شام کے ایک علاقے میں ترکی کی افواج کی موجودگی نئے سوالات جنم دیتی ہے۔ اگرچہ شامی حکومت ان افواج کی موجودگی کو خلاف قانون سمجھتی ہے، تاہم ترکی اور امریکہ کے مابین کردوں کے مسئلے پر نئے اختلافات سر اٹھا سکتے ہیں۔ اس وقت روس اور ترکی کی مدد سے بعض مسلح گروہوں کے ساتھ شامی فوج نے صلح کی قراردادیں کر رکھی ہیں۔ جن کی وجہ سے بعض علاقوں میں نسبتاً امن قائم ہوچکا ہے۔ یہ گروہ جن میں احرار الشام اور جیش الاسلام شامل ہیں، اب شامی افواج پر حملے نہیں کرتے بلکہ جبھۃ النصرہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

اس ساری صورتحال سے شامی فوج کی حکمت عملی کے مختلف پہلو ظاہر ہوتے ہیں۔ اسی حکمت عملی کی وجہ سے شامی فوج کو گذشتہ چند ہفتوں میں تیز رفتار کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ یہ کامیابیاں جوں جوں مستحکم ہوتی رہیں گے، شامی فوج ایک ایک دہشت گرد گروہ پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے اقدام کرے گی۔ لبنان اور عراق میں داعش کی مکمل شکست کے بعد شامی فوج کو حزب اللہ کے ساتھ ساتھ الحشد الشعبی (عراق کی عوامی رضاکار فوج) کی حمایت بھی حاصل ہو جائے گی۔ یہی وہ وجوہات ہیں جو شام کے دہشت گرد گروہوں کے سرپرستوں کو دکھائی دے رہی ہیں اور انہیں نوشتہ دیوار صاف نظر آرہا ہے اور وہ ہے شام میں ان کے حامی دہشت گردوں کا خاتمہ۔ یہی وجہ ہے کہ یورپی ممالک کو یہ فکر لاحق ہوگئی ہے کہ یورپ سے گئے ہوئے پانچ ہزار دہشتگرد جب شام اور دیگر عرب سرزمینوں سے واپس لوٹیں گے تو کیا گل کھلائیں گے۔ بہرحال جو کچھ بھی ہے، سچ تو یہ ہے کہ شام میں دہشت گردوں کے حامی رخ موڑنے لگے ہیں۔

Facebook Comments

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply