غرور۔الوک کمار

وہ سکھوں کے محلے میں اکیلا ہندوتھا۔ وہ روز گرودوارے جاتا اور گروگرنتھ صاحب پڑھاکرتا۔
اندراگاندھی کے قتل کے بعد، ہوئے ہندوسکھ دنگوں کے دوران وہ سکھ مذہب میں اپنی عقیدت بتاتے ہوئے بچ گیا۔ کچھ سالوں بعد اس کی بدلی مسلم میجارٹی والے علاقے میں ہوگئی۔ وہاں وہ باقاعدہ مسجد جاتا اور قرآن پڑھاکرتا۔ بابری مسجد میں ہوئی توڑپھوڑ کے بعد بھڑکے دنگوں میں اس نے مسلم دنگائیوں سے اسلام مذہب میں اپنی عقیدت بتائی، وہیں ہندو دنگائیوں سے اپنے ہندو ہونے کی دہائی دی۔ وہ پھر بچ گیا۔
ان دنوں وہ عیسائیوں کے محلے میں نوکری کررہاہے۔ وہ پادری کے قتل، ننس سے بلاتکار اور چرچوں میں توڑپھوڑ جیسے مدعوں پرہندوﺅں کے خلاف آگ اگلتاہے۔ وہ روز چرچ بھی جانے لگاہے اور مقدس بائبل بھی پڑھنے لگاہے۔ پکے طور پر وہ اس بار بھی بچ جائے گا۔
وہ یہ بات بڑے غرور کے ساتھ کہتا ہے کہ میں ہندو ہوں لیکن تب، جب وہ تنہا ہوتاہے۔
یعنی ایک ہندوطالبانی تنظیم کانعرہ….گور/غرور سے کہو ہم ہندوہیں۔
2۔ میجاریٹی(Majority)
چونکہ دماغ کویکسوئی کرنے کے لیے ایک علامت نہایت ہی ضروری ہے،اس لیے میں بت پرستی پریقین کرتاہوں۔ ایک مذہب نے دیگر دو مذہبوں سے اپنا امتیاز ثابت کرتے ہوئے کہا۔
میں بت پرستی کے سخت خلاف ہوں، لیکن میں مردوں کی عبادت میں یقین رکھتاہوں اس لیے میں زیادہ اثردار ہوں۔ دوسرے مذہب نے کہا۔
میں بت پرستی کی مخالفت کرتاہوں، لیکن میں ایک خاص جگہ پربیٹھ کر ایک خاص تصویر کی عبادت کرتاہوں اور اس سے دعامانگتاہوں۔ میں تم دونوں سے عمدہ ہوں۔
امتیاز ثابت کرنے کی ہوڑلیے وہ تینوں ایک لامذہب کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے اپنی اپنی بات رکھی۔
وہ شخص یہ سوچ کر مسکرانے لگاکہ کسی نہ کسی علامت کی عبادت توتینوں میں ہی مروج ہیں، لیکن اس نے بڑی ہی سمجھداری سے جواب دیا۔ جس مذہب کوماننے والے جہاں پر زیادہ ہیں، وہاں پر وہ مذہب افضل ہے۔ مطلب یہ کہ تمہارا امتیاز تمہارے اصولوں سے نہیں بلکہ تمہیں ماننے والوں کی تعداد پر ڈپینڈ کرتاہے۔
3۔ تپسوی(Tapaswi)
ایک کتیا کے پیچھے تپسوی کے سے انداز میں گھومتے ہوئے پانچ کتے میں سے ایک کو جب یہ احساس ہوگیا کہ اسے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے تو وہ وہیں ایک برگد کے درخت کے نیچے جاکر بیٹھ گیا۔ اسی وقت ادھرسے گزرتے ہوئے ایک دیگر کتے نے اس پر فقرہ کسا”کیوں میاں ختم ہوگئے ہو کیا، جو اس جنگ میں بنالڑے ہی ہارمان بیٹھے ہو۔تم تویارپوری کتاجماعت کو بدنام کرنے پرآمادہ ہو۔ لعنت ہے یار تمہاری کتانگی پر….“۔ اس پر اس کتے نے بالکل ہی کسی تپسوی کے سے اندازمیں جواب دیا:”یار اس کتیا کے پیچھے گھومتے ہوئے مجھے خودشناسی ہوئی کہ ہوس ٹھیک نہیں ہے۔ اس سے بدکردار آدمی بے کردار ہوجاتاہے۔ کتوں میں بھی کوئی ایک تو صاحب کردار ہوناہی چاہئے، اور تم تودیکھ ہی رہے ہوکہ میں اس برگد کے نیچے بیٹھاہواہوں۔“
”اچھا تومیاں، تو یہ تم نہیں، بلکہ برگد بول رہاہے….“ کہتاہوا وہ کتا وہاں سے چلتا بنا۔
معنی زاہد
4۔ ذات اور اوقات(Jaat Aur Aukat)
”یار، آج میں نے اخبارمیں ایک  خبر پڑھی کہ، کارکواورٹیک کرنے کی کوشش میں ایک ٹیمپو سامنے سے آتی ہوئی ٹرک سے جابھڑی اور ٹیمپو ڈرائیور سمیت اس کی سبھی سواریوں کی اس حادثے والی جگہ پرہی موت ہوگئی۔“ ایک دوست نے دوسرے دوست سے کہا۔
”کوئی بھی شخص، جواپنی ذات اور اوقات سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتاہے، ہمارے ملک میں اس کا یہی انجام ہوتاہے۔ دوسرے دوست نے ناامیدگی کے ساتھ جواب دیا۔
5۔ حل(Hal)
کسی سلطنت میں بدانتظام کے چلتے عوام بہت ناراض تھی۔ جگہ جگہ تنظیمیں بغاوت کررہی تھیں۔ ہمیشہ نیوٹرل رہنے والی ”دانشورجماعت“ بھی کھل کر سامنے آگئی تھی۔ پریشان ہوکر سلطان نے اپنے سیاسی صلاح کار سے صلاح لینی چاہی۔ صلاح کاربڑاہی تہذیب کار تھا۔اس کی صلاح پر سلطان نے اپنے خاص جاسوسوں کو حکم دیا کہ سلطنت کے سبھی ہندومندروں میں بڑے کاگوشت گرودواروں اور مسجدوں میں سورکاگوشت پھینک دیاجائے اور دوچار عیسائی پادریوں کا قتل اور ننوں کا ریپ کردیاجائے۔ اس کے علاوہ دانشورجماعت کے بیچ بحث کے لیے کوئی مدعا اچھال دیاجائے۔
سلطان کے حکم کی ہوبہوتعمیل ہوئی۔ دانشورجماعت بحثوں میں الجھی رہی۔ رعایا آپس میں ہی لڑنے مرنے لگی اور تواریخ میں اس سلطان کانام ایک عقل مند سلطان کے نام سے درج ہوگیا
6۔ خوش فہمی(Khushfahami)
علم نجوم کی کتاب کے پنے پلٹتے ہوئے اس کی نظر ہتھیلی کی ہیئت وضع کر تےنتیجوں پرپڑی۔ اس نے سبھی قسم کے ہیئت وضع دیکھ ،پڑھ لیے اور ان سے وابستہ سبھی نتیجے اپنے دماغ میں بٹھالیے پھراس نے اپنی ہتھیلی کو غورسے دیکھاتو پایاکہ اس کی ہتھیلی تو سب سے اچھے نتیجے والی ہتھیلی سے ہوبہومل رہی ہے۔
….اور پھروہ خوش ہولیا۔
7۔ جہاد(Jehad)
یہ دیگر مذہب کے لوگ بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔ یہ ذرابھی آزادخیال نہیں ہوتے ہیں۔ مرنے مارنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ سالے مذہب کے نام پر ۔
توتمہیں کس نے منع کیاہے؟تم بھی انہی کی طرح ہوجاﺅ۔
جی ہمارامذہب ہمیں آزادخیالی اور بردباری سکھاتاہے۔
یہ ان کی طرح اپنے مذہب کے لیے جان قربان نہ کرپانے کے بہانے ہیں۔
میں کیوں اپنی جان قربان کروں۔ہماری مذہبی کتابوں میں لکھاہے کہ مذہب کے لیے جان قربان کرنا شتریوں کاکام ہے اور میں توایک برہمن ہوں۔
اور بھائی صاحب آپ….آپ تو شتریہ ہے نا؟آپ اس مدعے پرکیاکہیں گے؟
جناب یہ برہمن ہمیشہ سے ہی ہمارے کندھوں پر بندوق رکھ کر چلاتے آئے ہیں۔اب ہم بیوقوف نہیں بننے والے ہیں۔
اور جناب آپ؟
جی میں توبنیابقال ذات کاہوں۔ مجھے تواپنے کاروبارسے ہی فرصت نہیں  ملتی ہے۔جو میں اس مذہب وجہت کے فالتوپچھڑے میں پڑوں۔ہاں اگر مذہب کاروباربن جائے تو اور بات ہے۔
اور آپ جناب؟
میں دلت ذات سے ہوں۔ آپ کوشرم آنی چاہئے جوآپ مجھے اپنے مذہب کے لیے جان دینے کوکہہ رہے ہیں۔
معنی….ہندومذہب میں لاگوذات سسٹم میں دوسرے نمبرکی اونچی ذات ۔رام اسی ذات کے تھے۔
۲ ذات سسٹم کی سب سے اونچی ذات۔
۳ افتاد :سب سے نیچی اچھوت ذات۔
8۔ اپنے اپنے طالبان(Apne Apne Taliban)
چونکہ امریکہ عیسائی ملک ہے اور اسرائیل میں عیسیٰ مسیح پیداہوئے اسی وجہ سے ہندوستانی میڈیا ان دونوں ملکوں کے بارے میں بدخیالی رکھتا ہے۔ اور دنیاکے کسی بھی حصے میں ہوئے واقعہ کے لیے امریکہ کوہی ذمہ دار ٹھہراتاہے۔ یہاں تک کہ سوویت یونین کی تقسیم کے لیے بھی اسے ہی ذمہ داربتاتا ہے۔ صرف اسٹار اور سی این سی ای صحیح جانکاریاں مہیا کراتے ہیں۔ ایک عیسائی نے کہا۔
کشمیر کے بارے میں بھی ہندوستانی میڈیا غلط جارنکاریاں دیتاہے۔ کشمیر کے بارے میں صحیح جانکاری تو پی ٹی وی ہی دیتاہے۔ اس لیے اس پر لگی پابندی کے باوجود میں اپنے کیبل آپریٹر سے وہی دکھانے کو کہتاہوں ۔ ایک مسلمان نے کہا۔
معاف کرئیے آپ لوگ بھارت میں رہتے ہیں اور غداروں سی بات ….ایک ہندوکچھ کہتے کہتے رک گیا۔
جی نہیں۔ہم بھارت میں نہیں بلکہ ہندوستان میں رہتے ہیں۔ جہاں کی طالبانی جماعتیں کبھی بابری مسجد کو زمین دوز کرتی ہیں تو کبھی عیسائی پادریوں کاقتل کرتی ہیں۔ دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا۔
9۔ حل(Hal)
وہ عالم تو اپنے شدید خیالوں سے لوگوں کو بڑی جلدہی بااثرکردیتاہے۔ وہ توہمارے حکم کو بھی چیلنج کرنے لگاہے۔ ہمارے لیے تو وہ دن بدن خطرناک ہوتاجارہاہے۔ اسے جلدسے جلد ٹھکانے لگانے کی ترکیب سوچنی ہوگی۔ ایک بادشاہ نے اپنے سیاسی صلاح کار سے کہا۔
جہاں پناہ ایساکرئیے کہ ہماری سلطنت کے سبھی بت تراشوں کو اس عالم کے بہت سارے بت بنانے کا حکم دے دیجئے اور سلطنت کے سبھی چوراہوں پر ان بتوں کو قائم کرادیں۔ ساتھ ہی رعایا کے بیچ اسے دیوتا کے طور پر شائع شدہ کراکر اس کی عبادت شروع کرادیں۔ کچھ دنوں بعد آپ پائیں گے کہ اس عالم کے خیالات غائب ہوگئے ہیں ا ور صرف بت ہی بت باقی ہیں۔ جوہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑپائیں گے۔ صلاح کار نے اپنے لبوں پر شاطرانہ مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا۔
….اور بادشاہ نے ایسا ہی کرکے اپنی ملوکیت بچالی ۔
10۔ بلیک میلنگ(Black Mailing)
ایک دن میں انجانے خوف سے خوف زدہ ہوگیاا ور اپنے قریبی دوست سے اپنے خوفزدہ ہونے کی بات کہی۔اس نے مجھے جھڑکی دی اور کہا کہ تمہارے جیسے لامذہب کا یہی حشر ہوتاہے۔ پھر اس نے مجھ پر ترس کھاتے ہوئے مجھے خداکی پناہ میں جانے کی صلاح دی۔ میرے یہ پوچھے جانے پر کہ مجھے خدا کہاں ملے گا ۔ اس نے مجھے خداکے مختلف برانڈز کے بارے میں بتایا۔ اس کے بتائے  کےمطابق سب سے پہلے میں مندرپہنچا ۔ وہاں پر مجھے دوزخ کا خوف دکھایاگیا۔ میں اور زیادہ خوفزدہ ہوکر وہاں چرچ پہنچا۔ چرچ میں مجھے شیطان کاخوف دکھایاگیا۔ میں اور بھی خوفزدہ ہوکر مسجد پہنچا ۔ وہاں مجھے دہشت کے سہارے جہاد کرنے کی صلاح دی گئی۔ میں زیادہ خوفزدہ ہوکر علم نفسیات کے حکیم کے پاس پہنچا۔
….آج میں خوف سے پوری طرح آزاد ہوں۔ میں  نےخدا کے مختلف برانڈز سے توبہ کرلی ہے۔
11۔ راز(Raaz)
اس نے اس بھوکے آدمی کو پیٹ  بھر کرکھاناکھلایااوریونہی پوچھ لیا ۔بھائی تمہارانام کیاہے؟تم کس خداکی بندگی کرتے ہو؟تمہارا مذہب کون سا ہے؟
اس پر اس کاجواب تھا۔ آج سے تم مجھے جونام دوگے وہی میرانام ہوگا۔ میرے خدا تم ہو، صرف تم اور تمہارامذہب ہی میرامذہب ہوگا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *