نئی سیاسی صف بندی اور پیش منظر

جو کچھ میں سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہ الیکشن 2018 کی تیاریاں عروج پر ہیں ۔ یہ الیکشن غیر معمولی نوعیت کے ہوں گے ۔ اسٹیبلیشمنٹ یہ بات سمجھ چکی ہے کہ میدان انتخابات میں ہی لگے گا ۔ بظاہر نواز شریف کو ہرانا مشکل ہے اس لئے پرو اسٹیبلیشمنٹ اتحاد کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ شیخ رشید صاحب نے اپنی پارٹی ختم کر کے باقاعدہ طور پر تحریک ِ انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے ۔ اگلا ہدف ڈاکٹر طاہر القادری ہیں اور اس ہدف کے حصول کے لئے شیخ رشید نہایت مناسب شخص ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔ اگر وہ عمران خان کے ساتھ اتحاد نہیں کرتے تو شک بہت قوی ہو جائے گا انہوں نے ” ن” کے ساتھ درپردہ ڈیل کر رکھی ہے ۔ اس کے برعکس اگر وہ اس متوقع اتحاد میں شمولیت اختیار فرماتے ہیں تو ان کے دامن پر لگا یہ داغ خود بخود دھل جائے گا ۔ جہاں تک ان کے پرو اسٹیبلیشمنٹ ہونے کا تعلق ہے تو یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔

ان کے بعد پرویز مشرف صاحب کی مسلم لیگ اور”ق” کی طرف رجوع کیا جائے گا ۔ مشرف صاحب کے آنے کے بعد ایم کیو ایم کے بھی اس اتحاد میں شامل ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں ۔ جماعت اسلامی بھی میرے ناقص خیال میں اسی اتحاد میں شمولیت کو ترجیح دے گی الا یہ اس کا جے یو آئی “ف” کے ساتھ اتحاد ہو جائے جس کے امکانات بظاہر کم ہی نظر آتے ہیں ۔دوسری طرف نواز شریف کے پاس دو آپشنز ہوں گے ۔ ایک تو یہ کہ وہ دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں اور اینٹی اسیبلیشمنٹ پارٹیوں کے ساتھ مل کر الیکشن لڑیں خواہ اتحاد قائم کر کے یا سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کے ذریعے یا پھر وہ بڑی اینٹی اسٹیبلشمنٹ پارٹی پی پی پی کے ساتھ مل جائیں ۔اس صورت میں پرو اسٹیبلیشمنٹ اتحاد کرپشن کو خوب اجاگر کرے گا ۔ دوسری طرف اینٹی اسٹیبلیشمنٹ جماعتیں اس اتحاد کو کنگز اتحاد کا نام دیں گی ۔ اس معرکے کا انجام کیا ہوتا ہے قطعیت کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن چند باتیں بے حد واضح ہیں ۔

1۔ اس معرکے میں اسٹیبلیشمنٹ کو عصبیت حاصل ہوگی کیونکہ الیکشن اسی کی موافقت یا مخالفت کے نام پر لڑا جائے گا ۔ منشور ، کار کردگی اور ترجیحات وغیرہ کو ہمیشہ کی طرح ثانوی حیثیت حاصل ہو گی ۔
2۔ اگر پرو اسٹیبلیشمنٹ اتحاد ہار جاتا ہے تو سیاست پر اسٹیبلیشمنٹ کی گرفت کمزور پڑ جائے گی اور جمہوریت مستحکم تر ہو جائے گی ۔
3۔ اینٹی اسٹیبلیشمنٹ اتحاد کی کامیابی کے بعد بھی خان صاحب اور ان کے اتحادی چین سے نہیں بیٹھیں گے اور آئندہ حکومت کا گھیرا تنگ کرنے کی کوششوں میں مزید تیزی آئے گی ۔ انتخابی نتائج پر بد اعتمادی ظاہر کی جائے گی اور انہیں دھاندلی زدہ قرار دیا جائے گا ۔ کرپشن کارڈ خوب کھل کر کھیلا جائے گا ۔ احتجاجی سیاست اور دھرنے عروج پر رہیں گے ۔ حکمرانوں کی کردار کشی بلا دریغ کی جائے گی اور ہر دعا کو اہتمام کے ساتھ دغا پڑھا جائےگا ۔ حکومت کے شکنجے کس کر رکھے جائیں اور اس کا حال وہی ہو گا جو اس شخص کا ہوتا ہے جو آسمان سے گرتا ہے تو کجھور کے درخت میں اٹک جاتا ہے ۔ ڈان لیکس طرز پر کچھ نئی لیکس بھی دیکھنے کو ملیں گی ۔

4۔ اگر پرو اسٹیبلیشمنٹ اتحاد جیت جاتا ہے تو یہ ایک انوکھا تجربہ ہو گا جس کے بعد اسٹیبلیشمنٹ کو کئی سالوں تک مہم جوئی کی ضرورت ہی نہیں رہے گی ۔ جب تک خان صاحب بطور حکمران بالغ ہوں گے تب تک ملکی سیاست کے پلوں سے بہت سا پانی گذر چکا ہو گا ۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ خان صاحب اسٹیبلیشمنٹ کے رد عمل میں اٹھیں گے اور لوگ بھٹو اور نواز شریف کی طرح ان پر بھی طعنہ زنی کریں گے کہ یہ درخت بھی اسٹیبلیشمنٹ کے گملوں سے اگا تھا ۔ ان کا انجام بھی صاف ظاہر اپنے پیش رووُں سے مختلف نہیں ہو گا اور تاریخ خود کو یونہی دہراتی رہے گی ۔
کیا ملکی سیاست کو اس رسہ کشی سے نجات مل سکتی ہے یہ اصل سوال ہے جس کا جواب ٹھیک طور پر جاننا ہمارے لئے بے حد ضروری ہے اور اسی کے ساتھ یہ سوال جڑا ہوا ہے کہ اگر اس رسہ کشی سے نجات کا کوئی راستہ موجود ہے تو وہ کیا ہے ؟

Avatar
محمدخلیل الرحمن
بندہ دین کا ایک طالب علم ہے اور اسی حیثیت میں کچھ نہ کچھ لکھتا پڑھتا رہتا رہا ہے ۔ ایک ماہنامہ کا مدیر اعلیٰ ہے جس کا نام سوئے حجاز ہے ۔ یہ گذشتہ بائیس سال سے لاہور سے شائع ہو رہا ہے ۔ جامعہ اسلامیہ لاہور کا ناظم اعلیٰ ہے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا ممبر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *