جانتا تو سب مسلمانوں کو ہوں مگر کس کس کو روؤں

ایک حالیہ خبر کے مطابق میانمار کے دارالحکومت میں پولیس کے سربراہ جنرل نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کی سرحد سے متصل میانمار کی سرحدی چوکی پر مسلح دہشتگردوں کے حملے میں 10پولیس اہلکار،3شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس دہشتگردانہ حملے میں 11مسلح دہشتگرد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔جنرل نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں نے حملہ کرتے ہوئے اور حملے کے دوران “اللہ اکبر”اور “ہم روہنگیا سے ہیں ” کے نعرے بھی لگائے۔راکھین کی ریاستی انتظامیہ کے اہم اہلکار ٹنگ مار سو نے خبر رساں ادارے اے پی ایف کو بتایا کہ ان کے خیال میں اس حملے کے ذمہ دار 1980,81,90کی دہائی کی سرگرم تنظیم روہنگیا سولیڈریٹی ہے  کہ حملہ آوروں نے پولیس چوکیوں سے 50بندوقیں اور ہزاروں گولیاں بھی لوٹ لی ہیں۔

راکھین میں روہنگیا مسلمانوں اور بدھ مت کے پیروکاروں میں کشیدگی اور دشمنی کافی عرصہ سے جاری ہے۔یہاں یہ بھی یاد رہے کہ 2013میں راکھین ریاست میں دہشت گرد وں کے پھیلائے ہوئے نسلی فسادات کی وجہ سے سینکڑوں افراد ہلاک اور ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو کر پناہ گزیں بن گئے تھے،میانمار میں بدھ مت آبادی نے ملک میں موجود لگ بھگ 12لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیشی مہاجرین یا دخل انداز سمجھتی ہے،یہی وجہ ہے کہ حکومت نے بھی روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دینے سے انکار کردیا ہے۔اور ماضی میں متعدد حملوں اور دہشتگردی کا ذمہ دار آر ایس او کو ٹھہرایا ہے۔

ادھر ایک خبر کے مطابق عیسائیوں کے مذہبی رہنما پوپ نے جہاں پاکستان کا دورہ کرنے کا عندیہ دیا ہے وہاں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی کسی مسلم ملک کی طرف سے مدد یا امداد اور نہ ہی کسی اسلامی کانفرنس یا عرب لیگ کی طرف سے ان کے قتلِ عام کو روکنے کے لیے کوئی اقدام اٹھایا گیا ہے،جبکہ عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ نے حکومت برما،میانمار سے روہنگیائی مسلمانوں کی طرف سے شہریت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔مسلم ممالک کی اس بے حسی کی تحقیقات،چھان بین اور وجوہات جاننے کے لیے پوپ نے ایک کمیٹی قائم کی ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ مسلمان اتنے بے حس کیوں ہو چکے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ مسلم ممالک نے کسی بھی پلیٹ فارم سے مناسب انداز میں روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ اقوامِ عالم کے سامنے پیش نہیں کیا،یہ بھی سچ ہے کہ ان کو جلا وطن اور ا ن پر حملے ایسے وقت ہوئے جب بیشتر اسلامی ممالک اندرونی و بیرونی خطرات کا مقابلہ کررہے تھے،اور ان کے درمیان تیزی سے اختلافات اجاگر ہورہے تھے،غریب مسلمان ممالک اقتصادی طور پر مفلوک الحال تھے اور ہیں،امیر ممالک اپنے حال میں مگن تھے اور ہیں۔ان ممالک کی بین الاقوامی وابستگیاں آج بھی اسی طرح بنی ہوئی ہیں اور قائم ہیں،جس طرح میانمار سے بے دخل کیے گئے روہنگیاں مسلمانوں کے دنوں میں تھی۔

ان مسلم ممالک کے سفارتی،اقتصادی،مالی،سیاسی،جمہوری اور دفاعی تعلقات آج بھی انہی پرانے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں،رشتوں اور تعلقات کی یہ نوعیت دیکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچنا کوئی مشکل امر نہیں ہے کہ عالم اسلام روہنگیا مسلمانوں کے مسائل حل کرنے میں فعال یا غیر فعال کردار ادا کرنے میں کیوں ناکام رہا۔سیاسی مسائل سے ہٹ کر بھی کچھ وجوہات ہوں گی اور روہنگیا مسلمان آخر ہیں کون،اور ان کا مقدمہ بے پنا ہ دولت رکھنے والے مسلم ممالک نے کیوں لڑنا نہ چاہا؟۔۔
یہ جانا اور مانا جاتا ہے کہ روہنگیا بنگال،موجودہ بنگلہ دیش سے آکر یہاں آبا د ہوئے تھے، انگریزوں نے انہیں خاص طو رپر سری ناحی کالونی کی طرح اٹھارویں صدی میں یہاں بسایا تھا۔بعد میں روہنگیا مزید دو موقعوں پر یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔پہلے1947میں آزادی کے وقت اور دوسرے 1971میں بنگلہ دیش کی آزادی کی لڑائی کے وقت لیکن میانمار کے مغربی حصے میں رہنے والے اس اقلیتی طبقے کے یہاں بسنے کو مقامی لوگ اچھا نہیں سمجھتے۔

حکومت کا موقف یہ ہے کہ یہ لوگ روہنگیا حال ہی میں یہاں آئے ہیں،لہذا انہیں میانمار کی شہریت نہیں دی جاسکتی۔لیکن دوسری طرف روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ یہاں سینکڑوں سال سے آباد ہیں اور یہیں کے شہر ی ہیں،جین حکومت ٹارچر کر رہی ہے۔یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ بنگلہ دیش میں 25ہزار روہنگیا گزشتہ 22برس سے پناہ لیے ہوئے ہیں لیکن انہیں ابھی بھی سرکاری طور پر پناہ گزین کی حیثیت نہیں دی گئی،کہ یہ ملک بھی دوسرے اسلامی ممالک کی طرح پناہ دینے کو راضی نہیں ہے۔خاص طور پر ایسے وقت میں مستقل پناہ دینے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا جب بنگلہ دیش میں روہنگیا مسلمانوں پر دہشتگردانہ سرگرمیوں میں شامل ہونے کا الزام بھی لگ رہا ہے۔

اس سے قبل مئی 1914میں ایک بودھ خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور قتل کے بعد روہنگیا مسلمانوں اور اکثریتی آبادی والے بودھوں کے درمیان فسادات اور قتل و غارت شروع ہوگیا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے عصمت دردی کے اس واقعہ نے ایسی شکل اختیار کرلی کہ اقوامِ متحدہ کو بھی مداخلت کرنی پڑی۔روہنگیا مسلمانوں کے ہاتھوں اجتماعی عصمت دری اور خاتون کا قتل فسادات پھوٹنے کا باعث بن گیا۔پولیس نے چار مسلمانوں کو گرفتارکرکے جیل بھیج دیا،لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا،3جون2014کو بدھوؤں کے ایک گروہ نے توتاپ نام کی ایک جگہ پر ایک بس پر حملہ کردیا،ان کو شک تھا کہ بس میں عصمت دری کرنے والے ملزمان جا رہے ہیں اس حملے میں دس افراد مارے گئے،جن میں زیادہ تعداد مسلمانو ں کی تھی، جس کے جواب میں روہنگیا مسلمانوں نے بھی بدھوؤں پر حملے شروع کردیے،اور یہیں سے اس ملک میں فسادات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔ اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

ان فسادات میں صرف روہنگیا مسلمانوں کو ہی نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ ملک کے دوسرے حصوں میں رہنے والے مسلمان بھی ان کی زد میں ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ان فسادات کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال کر پناہ گزین کیمپوں میں غیر انسانی طریقے سے زندگی گزارنے پر مجبور کردیا گیا ہے،ان کیمپوں کی حالت اتنی خستہ ہے کہ لوگ یہاں سے کسی طرح بھاگ جانا چاہے ہیں وہ پڑوسی مسلم اکثریت والے ممالک بنگلہ دیش،انڈونیشیااور ملیشیا کی طرف نہ صرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں بلکہ موقع ملنے پر فرار ہونے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔اس کوشش میں بہت سے روہنگیا نے اپنی جان بھی گنوا دی ہے۔اور بہت سے کھلے سمندر میں کشتیوں پر رہنے لگے ہیں کیوں کہ کوئی اسلامی ملک ان کو پناہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔اور یہ حکومت میانمار کا ٹارچر سہنے پر مجبور ہیں۔

میرے حساب سے میانمار میں مسلمانوں اور بدھوؤں کے درمیان موجودہ نفرت طالبان کی طرف سے بامیان میں بدھ کی مورتی اور بدھ مت کی تعلیمات کی سلیں توڑنے کے بعد سے شروع ہوگئی تھی۔ان فسادات کے پیچھے سوچی سمجھی سازش لگتی ہے۔جس میں انتہا پسند وں اور طالبان کا نام بار بار سامنے آتا ہے،میرے حساب سے ایسے فسادات راتوں رات نہیں ہوتے،اس کے پہلے سے ماحول تیار کیا جاتا ہے،یہی وجہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کی حالت اب قابلِ رحم ہوگئی ہے، اور اس قابلِ رحم حالت کا دہشتگرداور انتہاپسند فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
دونوں سے ہی رشتہ رکھو،دونوں سے ہی ہوشیار رہو
انسانوں کی جان کا دشمن لوہا بھی ہے سونا بھی!

 

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *