• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مغلوں نے یونیورسٹی کیوں نہ بنائی؟۔۔۔۔۔لیاقت علی

مغلوں نے یونیورسٹی کیوں نہ بنائی؟۔۔۔۔۔لیاقت علی

مغل اور دیگر حکمران جو مختلف ادوار میں ہندوستان میں بر سر اقتدار ہے ان کا یہ کہہ کر مذاق اڑایا جاتا اور مذمت کی جاتی ہے کہ انھوں نے اپنے ادوار اقتدار میں محلات، قلعے اور مقبرے تو بہت بنائے لیکن کوئی ایک بھی یونیورسٹی نہ بنا سکے۔ شاہ جہاں جب تاج محل بنوارہا تھا ٹھیک اسی وقت انگلستان میں آکسفورڈ یونیورسٹی بن رہی تھی۔
یونیورسٹیاں ہوں یا دوسرے ادارے اس وقت بنتے ہیں جس کسی سماج کی مادی اور معاشی ترقی اس کے قیام کا تقاضا کرتی ہے۔ یورپ میں سائنس ہو یا سائنسی ایجادات اور انکشافات اور پھر جمہوریت اور جمہوری ادارے یہ سب وہاں تیزی سے پھیلتے ہوئے صنعتی انقلاب کا لازمی نتیجہ تھے۔ یہ کچھ کسی بادشاہت کی خواہش اور نیک نیتی کی بدولت ممکن نہیں ہوا تھا بلکہ سماج کی مادی ضرورتوں کی تشفی کے لئےیہ سب کیا گیا تھا۔

ہندوستان صدیوں سے جاگیرداری نظام کی گرفت میں تھا۔ ہندوستان کا گاوں خود مکتفی نظام پیداوار کے تحت چل رہا تھا۔ کوئی شے فروخت کے لئے نہیں بنائی جاتی تھی بلکہ اپنی کھپت کے لئے پیدا کی جاتی یا بنائی جاتی تھی۔ سماج بارٹر سسٹم کے تحت چل رہا تھا۔ منڈی کی معیشت مفقود تھی۔ اس لئے پیداواری نظام کو اپنے آلات پیدوار جدید بنانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں زرعی آلات میں بھی جدیدیت نہیں تھی۔ وہ صدیوں پرانی ہل، درانتی اور رمبہ ہمارے کسانوں کے آلات پیداوار تھے۔ آلات پیدوار میں جدیدیت کی ضرورت بھی اس وقت پڑتی ہے جب زیادہ سے زیادہ پیداوار کرنا مقصد ہو اور پیداوار کو مارکیٹ میں فروخت کرکے نفع کمانا مقصد ہو۔ہندوستان میں ایسی کوئی صورت حال موجود نہیں تھی۔ زرعی زمین میں نجی ملکیت نہیں تھی اور نظام آبپاشی اجتماعی تھا۔ کسان اپنے لئے پیدا کرتا اور اپنی پیداوار کے تبادلے سے دیگر ضروریات زندگی حاصل کرلیتا تھا

ہندوستانی سماج کو کسی یونیورسٹی کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی یہاں سائنس کے پنپنے کا کوئی مادی جواز تھا۔ کیونکہ پیداواری سسٹم اس کا تقاضا نہیں کرتا تھا جب کہ یوروپ میں ایسا نہیں تھا۔یہاں یونیورسٹیوں کی عدم موجودگی بادشاہوں کی عیاشی اور کاہلی کی بدولت نہیں بلکہ ان کی مادی ضرورت نہ ہونے کی بنا پر تھی۔ جوں جوں سماج میں تعلیم اور ایجادات کی مادی ضرورت پیدا ہوئی اس کے مطابق یہاں تعلیمی ادارے اور سائنسی انسٹی ٹیوٹ وجود میں آتے چلے گئے۔1960 کی دہائی تک پاکستان میں پولی ٹیکنک نام کا کوئ انسٹی ٹیوٹ یا ادارہ موجود نہیں تھا لیکن جب مڈل ایسٹ میں تیل کی صنعت نے ترقی کی تو پاکستان کے ہر ضلع میں ایک پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوت قائم ہوگیا اور یہاں سے فارغ التحصیل افراد مشرق وسطی میں تلاش روزگار میں گئے اور وہاں انھیں جاب بھی مل گئے تھے
انگریزوں نے جب اپنی تجارت کے ساتھ ساتھ اپنے مفتوحہ علاقوں میں نظام حکومت قائم کیا تو انھوں نے یہاں بھی تعلیمی اور میونسپل ادارے قائم کئے جو ہندوستان میں ایک نیا تجربہ تھا ہندوستان اس سے قبل ایسے اداروں سے ناواقف تھا ۔ ہندوستان میں یونیورسٹیاں اور سائنسی اور تحقیقی اداروں کی عدم موجودگی کی جڑیں ہمارے منجمد جاگیرداری نظام میں پیوست تھیں نہ کہ بادشاہوں کی عیاشی اور فضول خرچی میں

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *