کڑوا سچ۔۔۔۔۔عزیز خان /قسط2

نوٹ:عزیز اللہ خان صاحب ریٹائرڈ ڈی ایس پی جبکہ حالیہ  ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ہیں ۔یہ کالم ان کی یاداشتوں پر مشتمل ہے۔

تین دن بڑی مُشکل سے گزرے میں بہُت کنفیوز تھا، پھر میں نے  ڈی ایس پی  علی اکبر گجر سے اجازت لی کہ  ڈی آئی جی  کے  سامنے پیش ہونا ہے اور حوصلہ کرکے آفس  پہنچ  گیا۔بذریعہ  پی اے اطلاع بھجوائی ۔۔مجھے انتظار کا کہا گیا ۔کوئی تین چار گھنٹے بعد میری باری آئی ،پیش ہوا، لیکن صاحب کے موڈ میں کوئی فرق نہ تھا۔۔۔ بولے تمہاری حرکتیں ہمشہ سے غلط ہیں۔
مزید فرمایا کیونکہ ابھی تک تمہارے خلاف چارج شیٹ نہیں آئی ،تم انتظار کرو اور ایک ہفتے  بعد آنا۔

میں نے عرض کیا سر میری فیملی رحیم یار خان ہے، مجھے لیو دے دیں ،مجھے یہاں بھی کوئی کام نہیں ،میری اور میری فیملی کی لائف کو تھریٹس ہیں، میرے پاس کوئی گن مین نہیں، کوئی اسلحہ نہیں، مہربانی کریں۔۔
مجھ ے ڈی آئی جی صاحب کی آنکھوں میں تھوڑی سی ہمدردی نظر آئی اور بولے چلو ایک دن کے لیے  چلے جاؤ، پر کسی کو پتہ نہ چلے کہ تم رحیم یار خان آئے ہو۔۔

ایک دن رخصت گزارنے کے بعد میں واپس بہاول پور آگیا۔ راستے میں اپنے شہر احمد پور شرقیہ والدہ کے پاس گیا ،اُن سے دعا کروائی اور بہاول پور آگیا۔
اسی طرح ایک ہفتہ گزر گیا۔۔ میں پھر  ڈی آئی جی  کے آفس گیا ،اُس دن صاحب کا موڈ کافی بہتر تھا، مجھ سے پوچھا کیا ہوا تھا۔۔۔ میں نے ساری کہانی سُنائی، کہنے لگے چلو آپ کی چارج شیٹ آجائے پھر دیکھتے ہیں اور میں آئی جی صاحب سے بھی بات کروں گا۔
پر مجھے یقین تھا کہ نہ ڈی آئی جی میں اتنی ہمت ہے کہ وہ آئی جی سے بات کریں اور اگر وہ بات کر بھی لیں تو جو سلوک ہم نے اپنی آنکھوں سے  آئی جی جہانزیب برکی کے ساتھ شہباز شریف کا دیکھا تھا ایسا ممکن نہ تھا۔۔۔

اسی طرح ایک ماہ گزر گیا، میں پھر ڈی آئی جی کے سامنے پیش ہوا، اور وہ دن مجھے آج بھی یاد ہے، جب میں نے اپنے ڈی آئی جی کی  آنکھوں میں بے بسی اور شرمندگی دیکھی۔

بولے میں نے اپنی پوری کوشش کی ہے مگر مہدی صاحب  پی ایس  چیف منسٹر کوئی بات نہیں سُننا چاہتا ،تمہارے خلاف کوئی شکایت نہیں ،پر ایم پی اے تمہاری کہیں بھی پوسٹنگ نہیں ہونے دے گا ،کیونکہ تمہاری شکایت چیف منسٹر شہباز شریف کو ہوئی ہے اور اُس کو تو  ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں۔
ہمارے بس سے باہر ہے، تم کوئی سیاسی سفارش کروا لو۔۔۔
میں حیرت سے اپنی رینج کے پولیس کمانڈر کی بے بسی کو دیکھ رہا تھا ،کچھ   عجیب سے جذبات تھے میرے۔۔۔
میں نے کہا سر آپ صرف اتنی مہربانی کر دیں مجھے دس دن رخصت دیں اور میرے رحیم یار خان جانے پر پابندی ختم کر دیں، اگر میں دس دن میں کُچھ کر سکا تو ٹھیک ورنہ میں استعفیٰ دے دوں گا،

دس دن رخصت بھی مل گئی اور رحیم یار خان جانے کی اجازت بھی۔۔

اب مجھے سمجھ نہیں آرہی  تھی کہ کیا کروں ،رحیم یار خان کے سارے سیاستدانوں میں جانتا تھا کہ کون کتنے پانی میں ہے ، کیونکہ ایم پی اے کافی جوان اور ہینڈ سم تھے، اس لیے شریف فیملی میں خود کو کافی اِن بتاتے تھے۔۔اور پھر یہ سوچ بھی آتی تھی کہ جس سیاستدان نے میری سفارش کی اور پوسٹنگ کرا دی میں تو پھر ساری عمر اُس کا احسان ہی  اُتارتا رہوں گا۔۔

دو دن گزر گئے  تو میرے دوست محمود بخاری اُن کے بھائی مظہر بخاری اور تصدق بخاری جو کہ  ایم پی اے  کے مخالف گروپ کے تھے ،ملنے آئے۔۔۔۔

اُنہیں سارا ماجر سنایا ، دل نہیں چاہتا تھا مگر مجبوریاں انسان کا بعض دفعہ ضمیر بھی مار دیتی ہیں یا سُلا دیتی ہیں۔۔۔

بخاری صاحبان نے مشورہ دیا کہ یہ کام صرف ایم این اے مخدوم عماد الدین ہی  کر سکتے ہیں مگر اُن سے کام کروانا بہُت مشکل ہے  بہت خودار ہیں ، اگر سی ایم نے کام نہ کیا تو وہیں لڑائی شروع ہو جائے گی اور کام خراب ہو جائے گا۔لیکن اگر اُن کے بڑے بھائی مخدوم مشرف صاحب اُنہیں کہہ دیں تو پھر وہ انکار نہیں کر سکتے۔

میری مخدوم مشرف مرحوم سے پہلے بھی مُلاقات تھی ،انتہائی شریف اور ملنسار آدمی تھے دوستوں کے ہمراہ ان  سے ملا  اور سارا ماجرہ کہہ سنایا، وہ بولے نیا خون ہے  انہیں ہماری خاندانی روایات کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔۔
مخدوم عماد کو ٹیلی فون کیا اور بولے کہ عزیز خان میرا بھائی ہے اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، مجھے نہیں پتہ اس کا تبادلہ واپس کوٹ سمابہ کروائیں یا پارٹی چھوڑ دیں۔
مخدوم عماد صاحب نے ہمیں کہا کہ  لاہور آجائیں، میں اور میرے دوست بخاری صاحبان بھی میرے ساتھ تھے۔۔۔

لاہور پہنچ  کر مخدوم صاحب سے ملاقات ہوئی، سی ایم کا پتہ کیا تو وہ تین دن کے لیے چائنہ گئے ہوئے تھے، مخدوم صاحب نے ایک مہربانی کی کہ اپنے نام سے چمبا ہاوس میں ہمارے لیے کمرے بُک کروا دیے ۔

تین دن بعد سی ایم شہباز شریف واپس آگئے، جنہوں نے اپنے ایم این اے کو دو دن بعد کا7  کلب روڈ پہ وقت دیا اور  ایم پی  اے صاحب کو بھی پابند کیا گیا۔

مقررہ تاریخ پر ہم سب  ایم این صاحب   کے ساتھ 7 کلب روڈ پہنچ  گئے، مخدوم صاحب کو اور  ایم پی اے صاحب کو بلوایا گیا، ہم لوگ باہر بیٹھے رہے۔
کافی دیر بعد مخدوم صاحب باہر آئے اور مبارک دی کہ ایم پی اے جھوٹا ثابت ہو گیا ہے اور شہباز شریف نے سیکریٹری کو کہا ہے کہ جو مخدوم صاحب کہتے ہیں کر دیں لیکن جب میں نے واپس کوٹ سمابہ تبادلہ کا بولا تو ایم پی اے صاحب نے میری منت کی کہ رحیم یارخان اور جس تھانہ پر لگا دیں پر میری عزت کُچھ رکھ لیں کوٹ سمابہ نہ لگوائیں۔
میں نے کہا سر کوئی بات نہیں ،میری  ایم پی اے  سے نہ کوئی ذاتی دشمنی  ہے ، نہ مقابلہ۔۔

مجھے پتہ چلا کہ رانا سعید انسپکٹر مرحوم ایڈوانس کورس پر جا رہے ہیں  اور تھانہ صدر رحیم یار خان خالی ہو رہا ہے  ، میں نے رانا سعید کو کال کی اور اجازت مانگی جنہوں نے کہا کہ وہ کورس پر جا رہے ہیں ،آپ تبادلہ کروا لیں۔

یہ بات میں نے مخدوم صاحب کو بتا دی، اگلے ہی لمحے ڈی آئی جی بہاولپور کو بذریعہ فیکس آرڈرز کیے گئے کہ انسپکٹر کا تبادلہ بہاول پور سے رحیم یار خان کیا جائے اور ایس ایچ او تھانہ صدر لگایا جائے،
شام  ہو چُکی تھی ،ہم مخدوم صاحب کا شکریہ ادا کر کے چمبا ہاوس   پہنچے  اور واپس رحیم یار خان روانہ ہو گئے۔

دوران سفر راستے میں مجھے رات دس بجے  ڈی آئی جی  کے دفتر سے کال آئی کہ ڈی آئی جی نے میرا تبادلہ رحیم یار خان اور ایس ایچ او صدر کے آرڈر کر دیے ہیں۔

اور میں سوچ رہا  تھا کہ یہ ہے وہ ڈیپارٹمنٹ جس کی خاطر ہم اپنی جانیں قربان کرتے ہیں، اپنی عیدیں بچوں کے بغیر گُزارتے ہیں، راتوں کو جاگتے ہیں، عزیز رشتہ دار ہم سے دور ہو گئے۔
کیا یہی ہے وہ ڈیپارٹمنٹ جس کے افسران بالا اپنے ماتحت کو نہیں بچا سکتے اور کہتے ہیں ہمارے بس سے باہر ہے۔

تو انہیں ہم پر حکم چلانے کا بھی کوئی اختیار نہیں ہے۔۔۔۔۔
ویسے بھی پولیس سیاستدانوں، حکمرانوں کے دَر کی غلام بن چُکی ہے، اس کو ایم این ایز،ایم پی ایز کے ماتحت کر دیں، ہمارے لیے بھی آسانی اور افسران بالا کے لیے بھی آسانی، جو حکمرانوں کے سامنے لمبے لیٹ جاتے ہیں۔

مجھے لگا تھا کہ نواز شریف حکومت اور زرداری حکومت میں ان حکمرانوں کا پولیس اور دیگر محکموں پر زیادہ اثرورسوخ تھا مگر اس حکومت نے سب سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
اُس دور میں پولیس صرف حکمرانوں کے دَ ر  کی غلام تھی پر اب تو لونڈی ہو گئی ہے ،جس کی سب سے بڑی مثال شیخ عمر ڈی پی او،ڈی آئی جی پاکپتن اور ڈی سی او بہاول پور کا او ایس ڈی بنانا ہے، اللہ پاک ہم پہ اور اس مُلک پہ رحم فرمائے ۔آمین

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *