فیس بک اور چینی لڑکیاں ۔۔۔ اے وسیم خٹک

کچھ دنوں سے فیس بک پر فرینڈ سجیشن میں بہت زیادہ تعداد چینی لڑکیوں کی آرہی تھی ـ جب انہیں دیکھنے کی جسارت کرتے تو جذبات برانگیختہ ہو جاتے ـ کسی کے سامنے فیس بک کھول بھی نہیں سکتے تھے ـ کہ دوست کیا سمجھیں گے کہ کتنا واہیات ہے جو کم سن چینی لڑکیوں سے دوستی کرنے کی چاہ میں بیٹھا ہوا ہے ،ـ کئی محفلوں میں سی پیک کو ملک کے لئے زہر قاتل قرار دیا تھا ـ سوچتا اگر کسی نے چینی دوشیزاؤ ں  کی تصویریں دیکھیں تو کیا سوچا جائے گا۔

گزشتہ روز ایک دوست کااکاؤنٹ کھلا ہوا تھا ـ وہاں دیکھا تو صورتحال ایک جیسی تھی ـ وہاں بھی سجیشن میں چینی الہڑ مٹیاروں کی بھرمار تھی ـ جس سے یہ سمجھنے میں ذرہ  بھر بھی دیر نہیں لگی کہ مارک زکربرگ کے حواری سی پیک شروع ہونے کے بعد تمام پاکستانیوں کو چینی لڑکیاں suggest کرکے اُن کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں ، ـ ایک دوست نے شکوہ کیا کہ بیوی سے ڈانٹ بھی پڑگئی ہے کہ عمر  دیکھو اور یہ شوق دیکھو ـ حالانکہ اس میں اُس کا یا دیگر پاکستانیوں کا کوئی قصور نہیں ہے، ـ دیکھاجائے تو ملک بھر میں ہر جگہ پر چینی زبان سیکھنے کے مراکز انگلش کے مراکز کے شانہ بشانہ کھل گئے ہیں بلکہ انگلش سنٹرز کو کافی ٹف ٹائم بھی دیا ہے ـ انگلش ٹیچر کم قیمت میں دستیاب ہے جبکہ چائینز پڑھانے والے اساتذہ کی مارکیٹ ویلیو بڑھ گئی ہے ـ۔ ملک کی اکثر یونیورسٹیوں میں چائنیز لینگویج سنٹرز اور چائنیز یونیورسٹیوں کے ساتھ باہمی مفاہمت کی  یاداشتوں پر دستخط بھی ہوچکے ہیں ۔ـ انگریزوں نے جو تھوڑی بہت اچھی حالت چھوڑی تھی اب چینی قوم وہ رہی سہی کسر نکال دے گی ـ اب کتے، گدھے اور بلیوں کے  بھی ہوٹلز کھلنے شروع ہوجائیں گے ـ جس پر لکھا ہوگا ـ صرف چینیوں کے لئے اور پاکستانی شوق سے کبھی کبھار جائیں گے ـ اور چینی ریستورانوں میں ”چاؤ منگ” سے لطف اندوز ہوں گے ۔

tripako tours pakistan

ـ اس وقت ایک اندازے کے مطابق تقریباً  تیس ہزار سے زائد چینی مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں جس میں سے اکثریتی چینی شہری سی پیک کے تحت جبکہ باقی شہری ان منصوبوں سے ہٹ کر دیگر منصوبوں پر کام کر رہے ہیں اور پاکستان میں چینی کمپنیاں 300 مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں چینیوں کا پاکستان میں کام کرنا دوسرے ممالک میں رہنے والوں کو پاکستان کے حوالے سے ایک اچھا تاثر دیتا ہے۔ جبکہ اب تو گوادر میں پاکستانی کرنسی کے ساتھ ساتھ چینی کرنسی کے استعمال پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ اب فیس بک کی بدولت پاکستان اور چین کے تعلقات محض سی پیک تک ہی محدود نہیں رہیں گے بلکہ اب پاکستانیوں کی دوستیاں بھی چینی لڑکیوں سے ہوں گی جس کے بعد دلہنیں بھی چینی لائی جائیں گی۔

حال ہی میں پنجاب کے شہر لیہ سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی نوجوان نے تو فیس بک پرہی چینی لڑکی سے دوستی کرلی اور کچھ عرصے کے بعد دونوں نے شادی کرلی۔ چینی لڑکی شادی کے بعد لیہ میں ہی اپنے خاوند کے ساتھ مقیم ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق   صرف پاکستانی لڑکے ہی نہیں بلکہ چینی لڑکیاں بھی پاکستانی لڑکوں سے شادی کی خواہش مند ہیں۔ اور جب چینی ریستورانوں میں ہرکوئی سوپ پیتا اور چاؤمنگ سے لطف اندوز ہوتا ہے ۔تو پاکستانیوں کے پاؤں کا مساج بھی چینی لڑکیاں ہی کریں گی جو فیس بک پر چھائی ہوئی ہیں۔

مجھے یہ فیس بک انتظامیہ یا پھر کسی کی مذموم چال لگتی ہے جو چائنیز لڑکیوں کے نام سے فیس بک اکاؤنٹس بنا کر پاکستانیوں کو بے وقوف بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ، جو کہ پہلے ہی سے سیاست دانوں کے ہاتھوں اُلو بنے ہوئے ہیں ـ ہماری قوم بھی ٹھرک پن میں ایک ریکارڈ رکھتی ہے اگر یہ اکاؤنٹس فیک نہ نکلے تو یہ امید واثق ہے کہ آئندہ دس سے بیس برسوں میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ بچے چینی نژاد ہوں گے ـ اور پھر وہ دن بھی آئے گا جب کروڑوں پاکستانیوں کی شادیاں چائینز لڑکیوں سے ہوں گی ـ اور پھر تاریخ وہ وقت بھی دیکھے گی  کہ پاکستان میں ہر جگہ چینی اشیاء کی طرح چائینز وافر مقدار میں پائے جائیں گے ـ پاکستانی لڑکے پاکستانی لڑکیوں کی بے اعتنائی اور لڑکیاں بے وفائیوں اور ٹھرک پن کے باعث چینی لڑکوں سے انتقاماً  شادیاں کرنے لگیں گی ـ اور یوں پھر نصف سے زیادہ آبادی چینیوں کی ہوگی ـ۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *