اقبال بطور فلسفی۔۔۔۔ابو بکر/قسط1

میں ڈاکٹر اقبال کو عظیم شاعر سمجھتا ہوں اور یہ کہنے میں کوئی عار نہیں پاتا کہ ہماری ادبی و علمی روایت میں ایسے شاعر خال خال ہی پیدا ہوئے ہیں۔ اقبال کی شعری عظمت ہمہ گیر ہے۔ ذہن خلاق کے مالک اور حساسیت طبع سے آراستہ، دونوں اعتبار سے وہ ایک بھرپور شاعر تھے جن کی قدرت الکلام پر شک کرنا مناسب نہیں۔ اردو کے تین عظیم ترین شعرا کا پوچھا جائے تو ممکن ہی نہیں کہ اقبال ان میں شامل نہ ہوں۔ یہ اقبال ہی ہیں جن کے بھروسے پر ہم اپنی شاعری کو عالمی شاعری کے کسی بھی نمونے کے ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ فلسفہ و تصوف، عشق و عقل، رومان و وجدان سمیت ان گنت موضوعات فارسی اور اردو میں سدا سے رائج ہیں۔ اقبال نے ان کلاسیکی موضوعات کے علاوہ جدید مغربی تصورات کو بھی شاعرانہ بیساختگی اور فنکارانہ مہارت کے ساتھ استعمال کیا۔ وہ جدید تعلیم یافتہ آدمی تھے، مغرب میں قیام کے سبب جدید علوم سے براہ راست مستفید ہوئے تھے، میر و غالب کی طرح وہ صرف روایتی تربیت اور گرمیء خیال تک محدود نہ تھے۔ اقبال بلاشبہ مفکر شاعر تھے اور اس کی دلچسپ ترین دلیل یہی ہے کہ ہر مفکر شاعر کی طرح آج تک ان کے کلام کے معنی اور تاویلات زیربحث رہتی ہیں۔ اقبال نے شاعری کا استعمال ایک شاعر سے بڑھ کر کیا ہے اور جدید اردو شاعری اس اعتبار سے ہمیشہ اس کی احسان مند رہے گی۔ یہ جدید شاعری جو اپنے آپ کو معاشرے اور وقت سے جوڑنا چاہتی تھی اگر اسے اقبال سا شخص نہ ملتا تو کاکل و گیسو سے آزادی کا خواب مزید ملتوی ہوجاتا۔ چنانچہ ترقی پسند اردو شاعری اپنے تمام نمائندہ شاعروں کے ہوتے ہوئے بھی لینن خدا کے حضور سی نظم پیدا نہ کرسکی۔ یہ اعتراض کہ اقبال ملکہ برطانیہ اور دیگر بادشاہوں سمیت انگریز افسروں کے قصیدے بھی لکھتا رہا، آخر کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا آپ قصیدے کی صنف کے ہی قائل نہیں اور اگر ایسا ہے تو آپ نظم اور غزل کے قائل کیسے ہوسکتے ہیں؟ یا آپ چاہتے ہیں کہ شاعر صرف ان شخصیات کا قصیدہ لکھے جن سے شاعر کے علاوہ آپ بھی بطور قاری متفق ہو سکیں؟ اگر ایسا ہوجائے تو کیا کبھی کوئی قصیدہ لکھا جاسکے گا؟ کیا دو قاری کبھی کسی ایک شخص کی عظمت پر متفق پائے جاسکیں گے؟ فارسی و اردو شاعری کا ماضی دربار سے جڑا ہوا ہے۔ بادشاہ اور قصیدے کے تعلق کی ادبی تاریخ اتنی سادہ نہیں کہ آپ جھٹ سے شاعر کو خوشامدی قرار دے سکیں۔ اقبال تو پھر جدید شاعر ہے جس کی شاعری اقوام کے لیے ہے ملوک کے لیے نہیں۔ اقبال کی مکمل تر شعری صورت کو سامنے رکھا جائے تو اس اعتراض کا بودا پن مزید واضح ہوجاتا ہے۔

کہتے ہیں ایک نابینا حافظ صاحب نے کسی سے پوچھا کہ کھیر کیسی ہوتی ہے۔ جواب ملا سفید۔ حافظ جی نے پوچھا سفید کیسا ہوتا ہے۔ بتانے والے نے کہا جیسے بگلا ہوتا ہے۔ حافظ صاحب نے پھر پوچھا کہ بگلا کیسا ہوتا ہے تو اس شخص نے اپنی انگلیاں موڑ کر بگلے جیسی بنائیں اور کہا یوں۔ حافظ جی نے ہاتھ چھوا اور استغفار کرتے ہوئے بولے؛
بھئی اتنی ٹیڑھی کھیر ہم سے نہ کھائی جائے گی۔

کچھ یہی معاملہ ان حضرات کا بھی ہے جو کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے اقبال شاعر واعر تو اچھا تھا لیکن ہم اسے فلسفی نہیں مان سکتے۔ ان سے جب اس کی وجہ پوچھی جائے تو وہی نابینا حافظ جی سا جواب ملتا ہے کہ استغفار؛ اتنا ٹیڑھا فلسفی ہم سے نہ نگلا جائے گا۔

درحقیقت یہ سوال دیکھنے میں آسان لیکن غور کرنے پر نہایت مشکل ہے کہ کون شخص فلسفی کہلا سکتا ہے اور کون نہیں۔ اس مشکل میں سب سے زیادہ کردار خود فلسفیوں کا ہے جو اڑھائی ہزار سال سے اس بات پر متفق نہیں ہوسکے کہ فلسفہ کیا ہے اور فلسفی کون۔ بس ڈھیلی ڈھالی تعریفیں اور مبہم تشریحات ملتی ہیں۔ ایک کی مانیں تو دوسرا فلسفی نہیں رہتا، دوسرے کی مانیں تو پہلا مسترد ہوتا ہے۔ تاہم اس سے یہ مراد لینا درست نہیں کہ فلسفی کی کوئی تعریف موجود نہیں۔ ہم کئی آرا کی روشنی میں ایک محتاط پوزیشن اپناتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہر وہ شخص فلسفی ہے جو حکمت کی طلب رکھتا ہے اور اس کے حصول کی کوشش کرتا ہے۔ باقی علوم سے فلسفہ کا ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ فلسفہ انسانی حالت یعنی ہیومن کنڈیشن کی کلیت کو زیربحث لاتا ہے پس ہر وہ شخص فلسفی ہے جو کسی بھی مقصد سے انسانی معاملات کو نظم کلی کی ایک بڑی تصویر میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ فلسفیانہ روایت میں ایسی تحقیق کے لیے عقل و منطق کا سہارا لیا جاتا رہا ہے تاہم عقل فلسفے کا واحد یا آخری آلہ نہیں ہے لیکن چونکہ فلسفہ کے علاوہ ادب اور مذہب بھی انسانی کلیت کو اپنا موضوع بناتے ہیں لہذا تاریخی طور پر سیٹنگ یہی بن گئی ہے کہ فلسفہ نے تعقل، مذہب نے وحی اور ادب نے امیجی نیشن کو اپنا اپنا گھوڑا بنا لیا ہے۔ تاہم مکرر عرض ہے کہ یہ تقسیم جامد اور حتمی نہیں ہے۔ ایک طرف جہاں مذہب میں تعقل کے جراثیم مل جائیں گے وہیں فلسفہ امیجی نیشن سے امداد پاتا نظر آئے گا اور ادب تو خیر خود سے ایک مذہب بننے کا پورا اہل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ فلسفہ، مذہب اور ادب تینوں کا موضوع اپنی انتہا میں ایک ہے اور وہ ہے ‘مکمل انسان’۔

پس کوئی ایسی حتمی تعریف بطور اصول پیش کرنا ممکن نہیں جس کی روشنی میں متفقہ طور پر کسی شخص کا فلسفی ہونا یا نہ ہونا ثابت کیا جاسکے۔

اس مشکل کو ایک اور طرح سے سلجھایا جاتا ہے اور وہ یوں کہ ہر علم کی ایک تاریخ نیز اس کے مسائل اور موضوعات کی جامع روایت موجود ہے۔ چنانچہ فلسفہ کی روایت کچھ بنیادی سوالات اور ان پر تحقیق کے ضابطہ ہائے کار کا مجموعہ ہے جس کی اڑھائی ہزار سالہ تاریخ اور سینکڑوں نمائندے ہیں جو ان تحقیقات میں مصروف رہے اور اپنے اپنے نتائج کو ایک دوسرے سے جوڑ کر سوالات کا یہ سفر آگے بڑھاتے رہے۔ پس کسی شخص کے فلسفی ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ایک اعتبار سے یوں کیا جاسکتا ہے کہ اسے فلسفے کی مجموعی روایت سے جوڑتے ہوئے اس کی روشنی میں دیکھا جائے۔ جدید اکیڈیمیا میں تو ہر وہ شخص نہایت اطمینان سے فلسفی قرار دیا جاسکتا ہے جس کا کوئی ایک مقالہ بھی کسی معتبر فلسفیانہ جریدے میں شائع ہوا ہو۔ ذرا اور لچک دی جائے تو راقم الحروف سمیت ہر وہ شخص بھی فلسفی ہے جس نے ایچ ای سی کی منظور شدہ کسی بھی یونیورسٹی سے فلسفہ کی ڈگری حاصل کی ہو۔

اب اقبال کے فلسفی ہونے یا نہ ہونے کے سوال پر واپس آتے ہیں۔

اقبال گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفہ میں گریجویٹ اور میونخ سے ڈاکٹریٹ ان فلاسفی کی ڈگری رکھتے تھے۔ کم از کم اعتبار سے محض یہ امر ہی ان کے فلسفی کہلانے کو کافی ہے۔

مگر احباب کی ضد ہے کہ اقبال کو فلسفہ کی مغربی روایت سے ملا کر ہی دیکھا جائے گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اقبال کی فکر اور متن کا موازنہ افلاطون، ڈیکارٹ، کانٹ اور ہیگل وغیرہ سے کیا جائے گا اور اگر ایسے موازنے میں اقبال اور ان شخصیات میں رتی بھر اونچ نیچ بھی نظر آئے تو اقبال فلسفی نہیں کہلا سکتے۔

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ اقبال کے مخالفین میں رجعت پسند اور روشن خیال دونوں شامل ہیں۔ رجعت پسندوں کے نزدیک مغرب کسی طور لائق تقلید نہیں جبکہ روشن خیال حضرات کی رائے میں مشرق جہالت اور دقیانوسیت کے سوا کچھ نہیں اور حقیقی دانش صرف مغرب کے پاس ہے، گویا ایک صرف مشرق اور دوسرا محض مغرب کا قائل ہے۔ مگر اقبال کے فلسفی ہونے کے سوال پر دونوں ایک ہوجاتے ہیں اور مشرق و مغرب کو ملا کر دیکھنے کے بعد ہی نتیجہ سنانے پر اصرار کرتے ہیں۔

یہ حضرات بھول جاتے ہیں کہ مغرب کی فلسفیانہ روایت جدیدیت کے ساتھ پروان چڑھی ہے۔ کانٹ اور ہیگل کا وجود کہاں سے ہوتا اگر مغرب کی سیاست و معیشت میں وہ انقلابی تبدیلیاں نہ آرہی ہوتیں جو ہمارے ہاں ابھی تک نہیں آئیں۔ ہر عالم اور فنکار اپنی روایت اور اس کی تاریخ کے تناظر میں ہی پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہمارے یہاں ہیگل پیدا نہیں ہوا اور مغرب خادم رضوی اورطارق جمیل جیسے مشاہیر سے محروم رہا ہے تو اس میں ہیگل یا خارم رضوی کا قصور نہیں ہے۔ افراد اپنے حالات اور تناظر میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔ برصغیر کی مسلم علمی روایت کو اس تناظر سے دیکھا جائے تو اقبال اولین فلسفی قرار پاتا یے لیکن احباب مصر ہیں کہ یہ پہلا فلسفی اسی طمطراق کا مالک کیوں نہیں ہے جو مغرب کے فلسفیوں کو ان کی سینکڑوں سال کی متسلسل روایت کے بعد حاصل ہوئی ہے۔

فلسفی ہونے یا یہ نہ ہونے کی یہ بحث مغرب کے فلسفیانہ ادب میں بھی مل جاتی ہے۔ ایسے حضرات موجود ہیں جو نطشے، کارل مارکس اور میکس ویبر کو بھی سکہ بند فلسفی نہیں مانتے۔ مغربی فلسفے کی عظیم ترین شخصیت ہیگل کو شوپنہار زیادہ سے زیادہ صرف احمق ماننے پر تیار ہے۔ کیرکیگارڈ تو ہیگل کو فلسفی کہنے پر باقاعدہ خفا ہوسکتا تھا۔ وائیڈ ہیڈ کے نزدیک تمام مغربی فلسفہ افلاطون پر فٹ نوٹس کے سوا کچھ نہیں تاہم نطشے افلاطون کو coward سے بڑھ کر کچھ نہیں مانتا۔ اس بحث سے مقصد یہ ہے کہ یہ سوال صرف اقبال سے مخصوص نہیں ہے اور نہ ہی ایسے اعتراضات سے صرف اقبال کو خطرہ ہے۔

اقبال کے فلسفہ اور اس کی فلسفیانہ روایت کی مزید کھوج خطبات اقبال کے تناظر میں کی جائے گی۔ طوالت کے خوف سے یہ بحث فی الوقت روک رہا ہوں۔ نیز یہ بات بھی آئندہ کسی حصے میں کی جائے گی کہ شاعر اور فلسفی کا کسی ایک شخصیت میں جمع ہوجانا کیسی بات ہے۔

مجھے قطعا کوئی اصرار نہیں کہ آپ اقبال کو فیلسوف مشرق مان لیں یا یہ تسلیم کریں کہ اقبال کی ذات میں مشرق و مغرب کی حکمت ایک ہوگئی تھی اور اقبال سے بڑھ کر ‘دانائے راز’ کوئی نہ تھا۔ میں آپ سے صرف یہ چاہتا ہوں کہ ہماری زمین اور ہماری زبان میں اگر ایک شخص ایسا پیدا ہو بھی گیا تو آخر کم سے کم جائز اعتراف میں بھی بخل کیوں کیا جائے۔ آخر اقبال کو فلسفی ماننے سے کیا قیامت آجائے گی؟ شاید اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے احباب کا روایتی مائنڈ سیٹ ہے جس میں فلسفی کوئی توپ قسم کی شے ہوتا ہے اور صرف چنیدہ اقوام میں ہی خدا کی خاص مہربانی سے پیدا ہوتا ہے۔ ایسے احباب کو غور کرنا چائیے کہ اگر عرب قدیم میں ہر دوسرا شخص شاعر ہوسکتا تھا تو ایسے معاشرے بھی ممکن ہیں جہاں فلسفی بھی اتنے ہی عام ہوں۔ الغرض، خدارا فلسفیوں کو انسان سمجھیں۔

ایک اعتراض جو اقبال کی شاعری کے علاوہ ان کے فلسفی ہونے پر بھی کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اقبال حکمران طبقات کے خوشہ چیں تھے نیز اپنے قومی مفاد سے باہر نکل کر نہ سوچ سکتے تھے لہذا وہ کہاں کے فلسفی۔ یہ اعتراض تاریخ فلسفہ سے مکمل لاعلمی کا نتیجہ ہے۔ فلاسفہء یونان کے نزدیک صرف آزاد یونانی شہری ہی انسان سمجھے جاتے تھے اور وہی ان کے فلسفے کا موضوع تھے۔ تاہم کوئی ان کے فلسفی ہونے کا انکار نہیں کرسکتا۔ ہیگل ہندوستانیوں کے بارے میں تحقیر آمیز خیالات کا مالک ہونے کے باوجود بھی ان گنت ہندوستانیوں پاکستانیوں کے نزدیک اب بھی فلسفی اعظم ہے۔ اسی جرمن ہیگل نے جب شاہ فرانس نپولین کو جرمنی پر حملہ آور ہوتے دیکھا تو خوشی سے پھولے نہ سمایا تھا اور خط میں لکھا کہ اس نے شہنشاہ کی صورت میں روح انسانی کو مجسم دیکھا ہے۔ بعد ازاں یہی ہیگل اعظم پروشیا کی جرمن ریاست کا سرکاری فلسفی بھی رہا اور جرمن ریاست کو زمین پر خدا کا ظہور قرار دیتا تھا۔ لیکن احباب غور نہیں کرتے۔ جدید فلسفے کی سب سے اہم کتاب تنقید عقل محض کے مصنف کانٹ نے یہ کتاب اپنے زمانے کے وزیر تعلیمات کے نام لکھی تھی اور اس کی ڈیڈکیشن سے بھی وہی چاپلوسی برآمد کی جاسکتی ہے جو احباب نے اقبال کے بعض خطوط سے ڈھونڈ نکالی ہے۔ آپ اس بنیاد پر اقبال کو فلسفی ماننے سے ضرور انکار کیجیے، لیکن بات کو ادھورا مت چھوڑئیے۔

جاری ہے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *