افغان نمک حرام اور مطالعہ پاکستان۔۔۔۔علی اختر

یہ تحریر اسامہ اقبال خواجہ کی تحریر پڑھنے کے بعد لکھی گئی ہے۔

افغانی اور کشمیری احسان فراموشی مت کریں۔۔۔۔۔اسامہ اقبال خواجہ

سردی کی شام تھی اور کراچی میں دن بھر موسلا دھار بارش ہوتی رہی تھی ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب آتش جوان تھا یعنی میری عمر لگ بھگ سولہ سترہ سال ہوگی ۔ شام دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتے گزرتی ۔ رات کو بھی گرمیوں میں نائٹ میچ اور سردی میں بیڈمنٹن کھیلا جاتا ۔ دوست بھی فارغ اور ہم بھی فارغ ۔ یہ موبائل ، نیٹ وغیرہ اتنا عام نہ تھا تو اب کھیل کود ہی بچتا تھا ۔ بارش کی وجہ سے اس شام کچھ بھی کھیلنا ممکن نہ تھا تو چند ٹوٹی پھوٹی لکڑیوں کوجلا ئے ہم سب دوست چبوترے پر بیٹھے تھے اور شالیں اوڑھے سردی کا مزہ لے رہے تھے ۔

“قہوہ چائے ” ۔ آگ کی مدھم روشنی میں میں نے آواز کی سمت دیکھا تو وہ مجھے نظر آیا ۔ میرا ہم عمر ہی تھا ۔ ہاتھ میں بڑی سی کیتلی جس کے نیچے سلگتی لکڑیوں سے دھواں اٹھ رہا تھا اور دوسرے ہاتھ میں پلاسٹک کی بالٹی لیے  وہ سردی میں ٹھٹر رہا تھا ۔ “ہاں دےدو ” میری آواز پر اس نے بالٹی سے کانچ کی پیالیاں نکالیں اور کیتلی سے بھاپ اڑاتا قہوہ بھرنے لگا ۔ دارچینی اور الائچی کی خوشبو والا قہوہ سردی میں بہت لطف دے رہا تھا ۔ کیتلی سائیڈ  پر رکھے وہ آگ کے پاس اکڑوں بیٹھ کر پیالیاں خالی ہونے کا انتظار کرنے لگا ۔ میں نے جائزہ لیا تو اسکے جوتے اور کپڑے بھیگے ہوئے تھے ۔ “کہاں رہتے ہو ” ۔ “مہاجر کیمپ” “اتنی دور سے یہاں آئے ہو قہوہ بیچنے ” ۔ مہاجر کیمپ میرے گھر سے کافی فاصلے پر تھا ۔ “نہیں ۔ یہاں ندی کے  پاس میں جگہ لیا ہے۔ امارا والد مونگ  پھلی پیچے گا اور ام قہوہ ۔ پھر سردی ختم ہوگا تو ام پھر مہاجر کیمپ چلا جائے گا ” ۔ “کہاں کے رہنے والے ہو ” “قندوز” “یہ قندوز کہاں ہے ” “بہت دور افغانستان میں” اس کا لہجہ بہت سخت تھا لیکن چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کے گفتگو نارمل ہی ہو رہی ہے ۔ “سردی بہت ہے تمہارے پاس کوئی  گرم کپڑے نہیں ہیں کیا ” “ام آ ج ای آیا اے ۔ کپڑا بستر لے آئے گا ۔ وہ یہاں نہیں ” “جب تک تم کپڑا لائے گا تمہارا قلفی جم چکا ہوگا ۔ قلفی سمجھتا ہے تم؟” میرے ایک دوست نےشرارت کی ۔ اس نے کوئی  جواب نہیں دیا ۔ “تم بیٹھو ” یہ کہہ  کر میں اوپر گھر گیا ۔ امی سے ایک پرانا کمبل اور سویٹر لا کر اسے دے دیا ۔ “رات کو یہ پہن لینا” ۔۔ پیالیاں سمیٹ کر کمبل کندھے پر رکھے وہ جانے لگا ۔ “کتنے پیسے ہوئے ” میں نے پوچھا ۔ “تم سے پیسہ نہیں چاہئیں  ” یہ کہہ کر وہ چلا گیا ۔

یہ پرانا کمبل ایک پکی دوستی کی شروعات ثابت ہوا۔ ہمارا معمول تھا کہ  ہم سردی میں گلی میں کورٹ بناتے ۔ فلیشر سے روشنی کرتے ۔ نیٹ لگاتے اور بیڈ منٹن کھیلتے ۔ وہ ہر دوسرے تیسرے دن آکر اسی چبوترے پر بیٹھ جاتا ۔ مجھے زبردستی قہوہ پلاتا ۔ شروع شروع میں مَیں اسے پیسے لینے پر اصرار کرتا اور اسکا صرف ایک جواب ہوتا ۔ “تم سے پیسہ نہیں چاہیے  ” ۔ پھر میں چپ چاپ قہوہ پیتا ۔ اس سے اسکے گھر ، گاؤں ، کلچر ، زبان سے متعلق باتیں کرتا ۔ پھر سردی ختم ہوتی تو وہ غائب ہو جاتا اور پھر اگلے سال دوبارہ وارد ہوجاتا ۔ اسکا نام “فردوس ” تھا ۔ وہ افغانی  تھا ۔ آج سے پہلے میں افغانوں کو بس اتنا جانتا تھا کہ  انکے بچے ، بڑے کاندھے پر پلاسٹک کا ایک گندہ سا بورا اٹھائے گھومتے ہیں ۔ کچرے سے کچھ کام کی چیزیں چنتے ہیں ۔ لوگ انہیں چور، منشیات فروش کہتے, افغانی کا نام لینے سے پہلے ایک موٹی سی گالی دینا فرض سمجھتے ۔ بچوں کے اغواء، اسلحہ کی سپلائی اور دیگر جرائم میں ملوث کہتے۔ سب نہیں تو کچھ الزام کسی حد تک ٹھیک بھی تھے لیکن یہ سارے جرائم وہ کیسے کر رہے تھے اور اس وقت ہماری پولیس ، فوج، رینجرز، عدلیہ، اینٹی نارکوٹکس وغیرہ کہاں تیل لینے گئے تھے یہ الگ معاملہ ہے ۔

مختصر یہ کے فردوس کچھ سال تو آتا رہا پھر وقت کی دھند میں کہیں کھو گیا لیکن افغانوں کی  بابت میرا نظریہ بدل گیا ۔ یہ بھی ہماری ہی طرح کے انسان تھے ۔ پیار ، محبت ، اچھائی  کا جواب یہ بھی اچھائی  ہی سے دیتے تھے ۔ یہ میں جانتا تھا اور یہ میرا نظریہ تھا اور اب بھی ہے ۔ ویسے ایسی بات نہیں کہ  میں اپنے نظریات تبدیل نہیں کرتا ۔

سنا تھا کہ  پاکستان نے رشین وار کے زمانے میں لاکھوں افغانوں کو پناہ دے کر انصار مدینہ کی یاد تازہ کر دی تھی ۔ تعجب ہے کہ  اس جذبہ اخوت و بھائی چارگی کو بنگلہ دیش میں کیمپوں میں محصور بہاریوں کو پناہ دینے کے معاملے پر فالج ہو جاتا تھا خیر چھوڑیں پناہ تو دی تھی ۔ دوسرا ایک نظریہ کہ پاکستان کی حمایت سے برسر اقتدار آنے والے طالبان کی حکومت میں امن و امان اور سکون کی فضاء قائم ہو گئی  تھی ۔ افغان آج بھی طالبان کا دور یاد کرتے ہیں اور پاکستان کے اس احسان تلے دبے ہوئے ہیں ۔

یہ دونوں نظریات اس وقت غلط ثابت ہوئے جب میں ملک سے باہر نکلا ۔ تھیلا لیے  کچرا چنتے افغانوں کے بجائے پڑھے لکھے ، کاروباری و مالدار افغانوں سے ملا ۔ مجھے پتا چلا کہ پاکستان کے بارے میں افغانوں کے خیالات ہمیں پڑھائی گئی مطالعہ پاکستان کی کتاب سے یکسر مختلف ہیں ۔ ایسا کیوں تھا ؟۔۔ ۔ کچھ دیر ڈالرز کو سائیڈ پر رکھتے ہیں ،ہم نے انہیں پناہ تو دی تھی تو یہ کیسے ممکن تھا کہ  ایک ملک آپکے بُرے  وقت  میں  آپ کو آ سرا دے، آپ وہاں کاروبار کریں ، کھائیں پئیں، شادیاں کریں ، نسلیں گزار دیں اور پھر اسی کو گالیاں دیں ۔

پھر مجھے اسکا جواب بھی ملا ۔ عبداللہ کے  ذریعے۔ ۔ عبداللہ گرینڈ بازار میں دکان چلاتا تھا ۔ افغان ترکمان تھا ۔ بچپن میں اپنے والدین کے ساتھ افغانستان سے پاکستان آ یا ۔ اٹک میں رہا ،وہیں تعلیم حاصل کی ۔ گو کچھ عرصہ بعد سارے خاندان کے ساتھ ترکی چلا آیا تھا لیکن اردو بولنے کا لہجہ ایسا جیسے مادری زبان ہی اردو ہو ۔ پاکستان کے لوگوں اور آ موں کا عاشق ۔ مجھ سے بہت تپاک سے ملا ۔ باتوں ہی باتوں میں موضوع افغانوں کی نمک حرامی تک جا پہنچا ۔ اداسی سے بولا کہ  معاملات اتنے سادہ نہیں ہیں ۔ زیادہ تر افغان اپنے ملک کی تباہی میں پاکستان کو بھی ملوث سمجھتے ہیں ۔ سپر پاورز کی جنگ افغانستان کو کھنڈر بنا گئی  ۔ معذوروں اور فقیروں کی کثرت کر گئی  ۔ خانہ جنگی سے خاندان کے خاندان مارے گئے ۔ تعلیم ، معیشت و ثقافت سب ختم اور زمہ داروں میں آپکا بھی کردار ہے ۔ میں نے پوچھا کہ  طالبان کی حکومت کے بارے میں کیا خیال ہے ۔ سنا ہے بہت امن و امان ہو گیا تھا ۔ جواب ملا کہ  اگر ایسا تھا تو آپ بھی امن و امان کا کچھ مزہ لیتے ۔ سوات و وزیرستان میں آپریشن کیوں کرتے پھر رہے تھے ۔ میں خاموش ہو گیا ۔

افغانستان کا معاملہ ہر لحاظ سے ہماری داخلی و خارجی پالیسی بنانے و نافذ کرنے والوں کی نااہلی کا ثبوت ہے ۔ چلیں سرحد کے  دوسری جانب موجود افغانوں پر تو انڈیا نے انویسٹمنٹ کی یا انڈین نواز حکومت بن جانے سے وہ لوگ انڈیا کی سائیڈ پر  ہو گئے ۔ صاحبو! سرحد کی اس جانب والے افغانوں کو بھی تو ہم اپنا نہیں بنا سکے ۔ ہم دنیا کے واحد ملک نہ تھے جس نے مہاجرین کو پناہ دی ۔ یورپ میں بھی تومہاجر آباد ہیں بلکہ خود ہمارے بہت سے لوگ مشکلات جھیلتے وہاں پہنچتے ہیں کہ  اسائلم اپلائی  کر سکیں ۔ ترکی میں بھی سیرین رفیوجی بڑی تعداد میں آباد ہیں ۔ ان ممالک میں یہ سب مہاجرین ہیروئن بیچتے ہیں ؟ اسلحہ سپلائی کرتے ہیں ؟جس ملک نے پناہ دی اسی کی جڑیں کاٹتے ہیں ؟ نفرت کرتے ہیں ؟ نہیں نا ۔ ۔تو ہمارے ہاں یہ سب کیسے ممکن ہو گیا ۔ سوچیے تو دوسروں سے زیادہ خود کا قصور نظر آئے گا ۔

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *