نئے صوبوں کی ضرورت اور اس کا طریقہ کار۔عمیر فاروق

 زرداری نے سرائیکی صوبہ کی حمایت کا اعلان کیا تو نئے صوبوں پہ بحث پھر سے چھڑ گئی۔ نئے صوبے بننے چاہییں اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے۔ ہم کب تک انگریز کے بنائے ہوئے صوبوں پہ انحصار کرتے رہیں گے؟ صوبے چھوٹے ہونے سے عوام کو انصاف، حقوق اور مسائل کا حل ان کی اپنی دہلیز پہ ملے گا۔ جب راجن پور، صادق آباد یا اٹک کا باشندہ کسی کام کے لئے ساری رات کا سفر کرکے لاہور سیکرٹیریٹ پہنچتا ہے اور اسے پتہ چلتا ہے کہ صاحب موجود نہیں اور کل پھر آنا پڑے گا تو اس کی کوفت، پریشانی اور اضافی اخراجات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ خود انڈیا میں آزادی کے بعد بہت سے نئے صوبے بن چکے ہیں اور ہم اب تک انگریز کے بنائے صوبوں سے کام چلاتے آرہے ہیں۔
اس ضمن میں ہمارے ہاں دو مختلف رائے موجود ہیں۔ ایک تو سیدھا سادا انتظامی لحاظ سے نئے صوبے بنادینا جس میں عوامی سہولت کو مدنظر رکھا گیا ہو تاکہ انہیں اپنے مسائل کے حل کے لئے دور دراز سفر نہ کرنا پڑے۔ اور دوسرا نظریہ لسان کی بنیاد پہ صوبہ بنانا ہے جسے ہمارے ہاں ذیلی قومیت پرست پسند کرتے ہیں اور ان کی طرف سے یہ آواز اٹھائی جاتی ہے کہ صوبے زبان کی بنیاد پہ بنائے جائیں۔ زرداری صاحب نے سرائیکی صوبہ کی بات کی ہے جس کی بنیاد ظاہر ہے کہ زبان ہے تو قومیت پرستوں کی طرف سے اس کی حمایت بھی زیادہ ہے۔ اس سے قطع نظر کہ صوبے جس بھی بنیاد پہ بنائے جائیں ہمیں بہرحال ایک اصول تو طے کرنا ہوگا  اور پھر اسی اصول کا غیر مشروط اطلاق ہر جگہ یکساں طور پہ کیا جانا ہوگا۔
بالفرض اگر ہم لسان کی بنیاد پہ صوبہ کا اصول تسلیم کرلیتے ہیں تو اگلا سوال یہ ہوگا کہ صرف سرائیکی ہی کیوں؟ جانگلی اور پوٹوھوہاری زبان بولنے والوں کا کیا قصور ہے؟ ان کا بھی صوبہ کیوں نہ ہو؟ اسی طرح کے پی میں ہندکو بولنے والوں کا صوبہ کا حق کس وجہ سے مسترد کیا جائے ؟ لسان کی بنیاد پہ ذیلی قومیت پرستی کا چرچا صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ ہے لیکن یہاں معاملہ سب سے زیادہ الجھا ہوا ہے مثلا سندھ کا شمال سرائیکی بولتا ہے وہ مجوزہ سرائیکی صوبہ کا کیونکر حصہ نہ ہو؟ اگر تو صوبے لسان کی وجہ سے ہی بننے ہیں تو جیکب آباد لاڑکانہ تک کا سندھ قدرتی طور پہ سرائیکی صوبہ کا ہی حصہ ہے۔ اسی طرح تھر میں کچھی یا کھاریہ زبان بولی جاتی ہے تو ان کا الگ صوبہ کس بنیاد پہ رد کردیا جائے؟ کراچی اور حیدرآباد کی اردو سپیکنگ آبادی کے الگ صوبہ کا انکار پھر کس بات پہ ؟ اسی طرح بلوچستان میں پشتو، بلوچ اور براہوی صوبہ کی ضرورت پڑے گی۔
یہاں اس سوال پہ ہمارے اکثر دوست یہ موقف لے جاتے ہیں کہ یہ سندھ یا متعلقہ صوبوں کا معاملہ ہے لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ یہ معاملہ وفاقی ہے اور وفاقی سطح پہ ہی اس کا کوئی اصول طے کرنا ہوگا۔ ہمارے سندھی قوم پرست دوست اس سوال پہ بہت ہی زیادہ الجھے ہوئے ہیں کنفیوژن کا اندازہ اس سے لگائیں کہ سندھ میں لسان کی بنیاد پہ صوبوں کے قیام کا وہ مکمل انکار کرکے ذیلی قومیت کا یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ کسی بھی صوبہ کے اندر رہنے والے اس کی ذیلی قومیت کا حصہ ہیں یعنی سندھ میں رہنے والے جو بھی مادری زبان بولتے ہوں وہ سندھی ہی ہیں۔ لیکن اس اصول کے پنجاب پہ اطلاق سے انکار کردیتے ہیں اور یہاں پنجاب کے ہر باشندے  کو وہ پنجابی تسلیم نہیں کرتے اور سرائیکی پوٹھوہاری وغیرہ کو الگ قومیت تسلیم کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ سندھ کے سرائیکی کو سرائیکی نہیں بلکہ سندھی قرار دیتے ہیں۔ ان تمام تضادات کی وجہ سے یہ معاملہ عجیب و غریب رخ اختیار کرگیا ہے اور بلاوجہ کی ان پہیلیوں کا نقصان عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ بہرحال نئے صوبوں کی ضرورت سے زیادہ عرصہ منہ نہیں موڑا جاسکتا اس کے لئے جلد سے جلد کوئی اصول اپنانا ہوگا کہ صوبے لسانی بنیادوں پہ بنیں یا انتظامی بنیادوں پر!

عمیر فاروق
عمیر فاروق
اپنی تلاش میں بھٹکتا ہوا ایک راہی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *