کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔ملک گوہر اقبال خان رما خیل

انہوں نے جب رسی کاٹی تو چند لمحے بعد ایک آدمی ایسی کرسی پر بیٹھا ہوا  پایا جسے غباروں کے خوشے سے باندھا گیا تھا، آسمان میں اڑتا ہوا بادلوں کے بیچ میں نظر آیا۔ یہ بات بظاہر تو  پریوں کی کہانی جیسی  بناوٹی معلوم ہوتی ہے لیکن دراصل میں اس حقیقت سے دنیا 1982 میں واقف ہوئی ہے۔

1949 لاس اینجلس کیلیفورنیا میں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام” لیری والٹر” رکھا گیا۔ ہوا میں اڑنا اس لڑکے کا خواب تھا جو امریکی ایئر فورس میں پائلٹ بننے سے سچ ہو سکتا تھا لیکن” کمزور نظر” جو اس کی قسمت تھی نے یہ خواب سچ نہ ہونے دیا۔ تو لیری والٹر ایک ٹرک ڈرائیور بن گیا اور ایک عام شہری کی طرح” سان پیڈرو” میں رہنے لگا۔ لیکن ہوا میں اڑنے کے ساتھ اس کا عشق اس وقت جنون میں بدل گیا جب وہ 13 سال کا تھا اور اس نے ہوا میں معلق موسمی غبارے ایک ملٹری سٹور کے اندر چھت کے ساتھ لگے ہوئے دیکھے۔ اس وقت نوجوان لیری نے سوچا کہ کیوں نا  اسی سے فائدہ لیا جائے کیوں کہ” ہیلیئم” سے بھرے غبارے اڑانے کے لیے کسی پائلٹ لائسنس کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ چنانچہ اس 13 سالہ لیری والٹر نے اس وقت سے ہی پرواز کے لیے تیاریاں شروع کردیںا ور تقریباً 20 سال کے بعد جب اس کی عمر 33 برس کی ہو چکی تھی اس نے اپنا خواب پورا کیا۔۔ سب سے پہلے اس نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس تجربے کے لیے اسے کتنے غبارے اور ہر غبارے کے لیے کتنی ہیلیئم درکار ہوگی۔ کافی محنت کے بعد اسے یہ معلوم ہوا کہ ایک لیٹر ہیلیئم میں ایک گرام کو اٹھانے کی طاقت ہوتی ہے۔ یعنی 10 لیٹر ہیلیئم سے بھرا غبارہ 10 گرام تک وزن اٹھا سکتا ہے۔ عموماً ایک تفریحی پارک کے غبارے ایک فٹ کے سائز کے ہوتے ہیں جس میں 14 لیٹر تک ہیلیئم بھرا جاسکتا ہے جس میں 14 گرام تک وزن اٹھانے کی طاقت ہوتی ہے۔ اس حساب سے اگر ہم 80 کلو گرام وزنی شخص کو اُٹھانا چاہے تو اس کے لیے ہمیں” 5700″ غباروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو بہت بڑی تعداد ہے۔ اس کے بجائے اگر10 فٹ والے ” آرمی سرپلس” غبارے حاصل کیے  جائیں تو یہ تعداد انتہائی کم ہوسکتی ہے۔ اسے حاصل کرنے کے لیے لیری نے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ مل کر ایک جعلی درخواست دی کہ میں ” فلم فیئر سٹوڈیو” کا ملازم ہوں اور ہمیں ایک ٹی وی کمرشل کے لیے 45 غبارے چاہئیں ۔ اسے حاصل کرنے کے بعد لیری وہ غبارے اور ” ہیلیئم ٹینکس” لیکر اپنے گھر جاتا ہے اور اپنے مقرر کیے ہوئے دن پر یعنی 2 جولائی 1982 کو وہ غبارے ہیلیئم سے بھر دیتے ہیں اور اس کا خوشہ بنا کر وہ غبارے ایک” لان چیئر” کے ساتھ باندھ دیتا ہے۔ پھر اس لان چیئر پر جسے اس نے پہلے سے اپنی  جیپ کے ساتھ باندھا تھا بیٹھ کر اپنے ساتھ کچھ ضروری چیزیں سینڈ وچ، سوڈے کی بوتل، سی بی ریڈیو، کیمرہ اور ایک بندوق رکھ لیتا ہے۔ جو ہی لیری والٹر اڑان بھرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے تو اپنے دوستوں کو رسی کاٹنے کا حکم دیتا ہے۔ اور یوں لیری والٹر 20 سال بعد اپنا خواب سچ کرکے ٹیک آف کرتاہے۔ جس کے چند لمحے بعد لیری 16000 فٹ کے بلندی پر اڑتا ہوا بادلوں کے بیچ میں نظر آتا ہے۔ لیری ہوا میں خوب انجوائے کرتاہے کبھی سینڈ وچ کھا کر سوڈے کی بوتل سے گھونٹ پی کر ڈکار لیتا ہے تو کبھی 16000 فٹ بلندی میں تصویریں کھینچتا ہے۔ اس خوشی کے لمحے میں لیری کا سامنا دو کمرشل فلائٹس سے بھی ہوتا ہے جس کے مسافر اور پائلٹس یہ انوکھی پرواز دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔ جہاز کا پائلٹ ائیر ٹریفک کنٹرول ٹاور سے رابطہ کرکے انہیں اس عجیب اور انجان ائیر کرافٹ کے پرواز سے آگاہ کرتاہے۔ بلآخر کنٹرول ٹاور اور لیری والٹر کے درمیان سی بی ریڈیو پر رابطہ ہوجاتا ہے۔ جس میں لیری انہیں اپنی ایڈونچر فلائٹ سے باخبر کر دیتے ہیں۔ پورے 45 منٹ تک لیری پرواز کو خوب انجوائے کرتاہے لیکن جب ہوا کا دباؤ شدید ہو جاتا ہے تو لیری اب بحفاظت لینڈ کرنے کا سوچتا ہے۔ اور بڑے احتیاط کے ساتھ اپنی بندوق سے فائر کرکے چند غبارے پھوڑ کر بحفاظت لینڈ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ لیکن جو ں ہی  وہ لینڈ کرتاہے تو ” لانگ بیچ پولیس ڈیپارٹمنٹ” اسے فوراً گرفتار کرتی ہے۔ اور” فیڈرل ایوی ایشن ریگولیشن” کے خلاف ورزی کرنے پر اسے 4000 ڈالر جرمانہ کرکے اسے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس کے بعد لیری دوبارہ  اپیل کرتاہے جس پر جرمانہ کم کرکے لیری سے صرف 1500 ڈالر لیا جاتا ہے۔ وہ صرف اس بات پر کہ کرسی نما ائیر کرافٹ کو اڑانا ابھی تک قانون میں نہیں ہے۔ لیری والٹر کا کرسی نما ائیر کرافٹ لینڈ کرتے ہی لیری کو شہرت کے بام عروج پر پہنچا دیتی ہے۔ پوری امریکی میڈیا پر یہ خبر” بریکنگ نیوز” بن کر چلتی ہے۔ پرنٹ میڈیا اس واقعے پر کتابیں اور آرٹیکلز لکھنا شروع کرتی ہے۔ جبکہ الیکٹرانک میڈیا مختلف شوز  آن ائیر کرکے لیری والٹر کو” موٹیویشنل سپیکر” کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔ اور یوں لیری والٹر اپنے بچپن  کا خواب 20 سال کی  محنت کے بعد 33 سال کی  عمر میں سچ کر دکھاتا ہے۔

میری نظر میں اس کہانی کا وہ حصہ بہت زیادہ قابلِ غور ہے جس میں ایک لڑکے کا یہ خواب ہو کہ وہ ہوا میں اڑے، زمین کو اوپر سے دیکھے، بادلوں کو چیر کر اوپر کی فضا کو ٹٹولے اور اپنی آنکھوں سے فضائی منظر کا نظارہ کرکے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرلیں۔ اور جسے انجام دینے کے لیے وہ ائیر فورس جوائن کرنے کے سپنے دیکھ رہا ہو لیکن اچانک جب اسے یہ بتایا جائے کہ تیری نظر کمزور ہے تو اس قابل نہیں ہے کہ پائلٹ بن جائے اور جہاز اڑائے۔ پھر بھی بجائے اس کے کہ وہ پریشان ہوتا بلکہ یہ سن کر اس نے ہوا میں اڑنے کے اپنے عشق کو جنون میں بدل دیا اور اس نے محنت کرکے اپنے خواب کو سچ کردیا اور دنیا کو بتادیا کہ اگر تمہارے اصولوں کے مطابق میں جہاز اڑانے کے  قابل نہیں ہوں تو اس کا  مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ میں اپنے اس خواب   کو بھی  پورا کرنے کے  قابل نہیں ہوں۔

عزیزانِ من۔ آپ کی  زندگی میں بھی کچھ ایسے خواب ضرور ہو ں گے جسے سچ ہونے میں آپ کی قسمت بھی آپ کا ساتھ نہیں دیتی ہو۔ تو ازراہِ کرم اس سے یہ مطلب کبھی نہ لیا کریں کہ میرا یہ خواب سچ نہیں ہوسکتا۔ ضرور ہو سکتا ہے اگر آپ اس کے لیے جدوجہد جاری رکھیں اور حوصلہ نہ ہاریں ۔ آپ اس ایک بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ اگر آپ کا ایسا ماننا ہے کہ جو کچھ ہم چاہتے ہیں وہ صرف انہی اصولوں کے تحت ممکن ہے جو دنیا نے بنائے ہیں تو آپ غلط سوچتے ہیں۔ کیوں کہ اصول تو یہ تھا کہ لیری والٹر ایک پائلٹ بن کر اپنا خواب پورا کرتا لیکن بغیر کسی اصول کے تحت، بغیر پائلٹ بنے لیری والٹر نے اپنا خواب سچ کر دکھایا۔ اگر آپ کی زندگی میں سرے سے کوئی خواب ہی نہیں یا کوئی گول ہی نہیں تو پھر آپ کی زندگی زندگی نہیں بس ایک حادثہ ہے۔ ایک لمحہ ضائع کیے  بغیر آپ اپنے لیے صحیح سمت کا تعین کریں اور اپنی زندگی کے لیے ایک منزل  منتخب کریں   کہ میں نے اسے اچیو کرنا ہے۔ اس اچیومنٹ کے لیے جدوجہد کریں اور ہر قسم کی قربانی کا رسک اٹھائیں بڑی سے بڑی  آزمائش میں بھی صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیں ۔ زندگی کے نشیب و فراز کو خوب انجوائے کریں اور یہ یاد رکھیں کہ بغیر ہوائی جہاز کے اگر ایک آدمی 16000 فٹ بلندی پر اڑسکتا ہے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *