چُنو میاں کا چُناؤ۔۔۔۔۔ حسیب حیات

آکسفورڈ کی اوریجنل ڈکشنری اور وہ بھی چوہدری صاحب کے ہاتھ میں۔ قیامت کی نشانیوں میں سے بچ رہی دو چار کو بھی ظہور ہونے لگا۔۔۔ یہ سوچتے ہوئے ابھی ٹھیک سے میں حیران بھی نہ ہوپایا تھا کہ چوہدری صاحب نے ڈکشنری میز پر پٹخی اور اپنے ایکسٹرا لارج پھیپھڑوں میں اگلا سانس لینے سے پہلے میری طرف سوال اچھال دیا۔ میں نے ان کے سوال کو چاپلوسی کی میٹھی گولی سے کچھ یوں گول کرنا چاہا۔ ۔

چوہدری صاحب آپ کے ہاتھ میں یہ ڈکشنری سج رہی تھی اسے پٹخ کر آپ نے اسے اپنے فیض سے محروم کر چھوڑا ہے ۔ ہمارے چوہدری صاحب پچھلی دو دہائیوں سے پولٹری کا کاروبار چلاتے ہیں اور ایسی میٹھی گولیاں مفت میں بانٹتے ہیں ۔ وہ میری دی گولی کے اثر میں کب آنے والے تھے ۔ ان کی طرف سے سوال ایک بار پھر دہرایا گیا اس بار آواز میں گرج بھی تھی۔

میں نے معزرت خواہانہ انداز میں کہا چوہدری صاحب انگریزی سے میرا لگاؤ اس سبب ہے کہ یہ زبان انگریزوں کے ساتھ ساتھ ان کی گوریاں بھی بولتی ہیں اور میمیں جب بولتی ہیں تو ہمارے کانوں سے زیادہ آنکھیں سننے لگتی ہیں ۔ ہم ہاتھ دل پر رکھے پوری تندہی سے انہیں سنتے جاتے ہیں۔جب حسین لبوں سے رنگ برنگے پھول جھڑتے محسوس ہوتے ہیں اور دل ہمارا خوشی سے باغ باغ ہوا جاتا ہے ۔ اس دل کے باغ میں بہار کی کیفیت اور ہمیں دنیا سے کیا لینا۔ ہم نے خود کو یہیں تک محدود کر رکھا ہے ۔ یہ دماغ کی منزل ہماری حدوں سے بہت اوپر والے خانے پر ہوتی ۔ ۔ اب جس گاؤں ہمیں جانا نہیں تو اس کی  راہ سے ہم ناواقف ہی بھلے۔

چوہدری صاحب ٹلنے کے موڈ میں ہی نہ  تھے ۔ بولے یار تو صاف اور سادہ الفاظ میں میرے سوال کا جواب دے اور ابھی دے ۔

میں نے مودبانہ عرض کی کہ میرے پیارے چوہدری دوست ،یہ جو انگریز  ہے نا اس نے بادشاہوں والے خصائل پائے ہیں۔ جو شئے اپنے لئے پسند کر لیتا ہے تو کہتا ہے سب کے لیے ایسا کچھ ہی بہتر ہے اور من عن ویسا ہی جیسی اسکی  مرضی و منشا ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ سب لکھت پڑھت انگریزی میں ہو ۔جو نہ  مجھے  سمجھ لگے، نہ  آپ کو، مگر سر ہلانا واجب ہو۔ میرے اس جواب کا تپتی ریت سے سوال پر ٹھنڈے پانی کی پھوار کا سا اثر ہوا۔ اب چوہدری صاحب اپنے نارمل انداز میں واپس آتے ہوئے نظر آئے۔ میز پر اوندھے منہ پٹخی ڈکشنری کو بڑے احترام سے بند کیا اور ا سے میز کے کونے میں رکھتے ہوئے بولے۔۔۔۔

یار تمہاری بات بھی ٹھیک ہے پر جب سے مجھے سوشل میڈیا کی لت پڑی ہے ، یقین مان فشار خون بے قابو ہونے لگا ہے۔اتنی تو ہمارے پولٹری فارم میں مرغیوں کی چونچیں نہیں لڑتیں جتنا فیس بک پر دانشوروں میں چوں چیں چاں مچتی ہے۔

میں نے چوہدری کے ہوا میں اچھلتے بیقرار ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اور اسے سہلاتے ہوئے بولا۔ چوہدری صاحب سوشل میڈیا کو آپ اتنا ہی وقت دیجیے  جتنا چھری تلے آئی ہوئی مرغی ٹھنڈی ہونے میں لیتی  ہے  ۔ یہ سوشل میڈیا کے دانشوروں کا کہا سنا آٹھ یا بارہ پیس ہوتی مرغی جیسی حیثیت رکھتا ہے ۔ آپ نمک مرچ حسب منشا رکھیے اور لذت اٹھایے ۔ اسی انداز میں معاملات کو سمجھنے کی کوشش کیجیے ۔ چلیے اب آپ کا مزاج نارمل ہوگیا ہے تو آپ کے سوال کا بھی جواب ڈھونڈنے کی کوشش کر لیتے ہیں۔ آپ کا سوال تھا سلیکٹڈ اور الیکٹڈ میں فرق کیا ہوتا ہے ؟۔۔۔ اس گھمبیرتا کا سادہ حل بھی انگریز کی انگریزی میں  ہی چھپا بیٹھا ہے۔۔ آپ پولٹری ہی کی مثال لے لیجیے ۔جیسے آپ چوزہ انگریزی میں ” چوز ” کرتے ہیں سیلیکٹ نہیں ویسا ہی ہمارے ہاں سیاسی نظام رائج ہے۔

ہمارے ہاں کا غریب خون پسینہ ایک کر کے اپنے بچے پالتا ہے اور یہاں کی چنیدہ اشرافیہ عوام کے خون پسینے پر چوز کیے  ہوئے چوزے لیڈر بناتی ہے۔ ادھر چوزہ انڈا توڑ کر باہر آیا ادھر اس کی لیڈری کا اعلان ہوگیا۔ نیا چوزہ چوں چوں کرتا ہے اخباری نابغے اس کے حق میں چاں چاں لکھتے ہیں ۔ اکیس دن میں نکلے انڈے کےچوزے کو بیس دن نہیں لگتے ہیں ۔ لیڈری کا عہدہ ملنے میں ۔ یہ بات سمجھنے کو مثال بہت دور نہیں ،بلاول آپ کے سامنے ہے۔ ڈھائی دنوں کا  سیاسی وجود نہیں ہے مگر اس کے پروں پر لیڈری کا ٹھپہ بھی لگ  چکا ہے  ۔دوسری مثال آپ بی بی صاحبہ کی لے لیجیے، جو چند سال پہلے اپنی پی ایچ ڈی سیاسیات کی ڈگری مشتہر کیے  پھرتی تھیں۔ آسمان سے اترتی یہ ڈگری تو کسی گمنام کھجور میں جا اٹکی مگر لیڈری ان کے گھر میں پکی پکائی ہے آج بھی  چھت سے  لٹکی ۔ اس جماعت میں سولہ وائس پریزیڈنٹ بنائے گئے ہیں ۔ پندرہ کا کام ملکہ عالیہ کا فراک سنبھالنا ہے۔

غیر جمہوری طاقتوں کو کیا رونا ۔ اپنے جمہوریت پسندوں کا قبلہ ہی آج تک درست نہ ہوپایا ہے ۔ فارمنگ کی طرز پر قیادت ٹرانسفر کرنے والے ملکوں میں الیکٹڈ سلیکٹڈ کی بحث بے معنی ہے۔

چوہدری صاحب ابھی آپ خاص انڈوں سے نکلتے چوزے گنیے اور چُنیے ۔ شہباز کو 1997میں بڑے بھائی نے چنا اور بعد میں سب نے اس پر مہر لگا دی۔ زرداری کے بھٹو بننے کے سفر میں بھی عقل والوں کے لیے  نشانیاں ہی نشانیاں ہیں ۔
یہ بائے دی پیپل فار دی پیپل والے سلوگن ڈرائنگ روم میں فریم کرانے کو اچھے لگتے ہیں۔ہمارے ہاں چنے منوں کا چناؤ ہوتا ہے جسے پاپولزم کے زور پر بلند درجات والی جمہوریت پسندی کا نام دے دیا جاتا ہے۔

Avatar
حسیب حیات
ایک پرائیویٹ بنک میں ملازم ہوں اسلام آباد میں رہائش رکھے ہوئے ہوں اور قلم اُٹھانے پر شوق کھینچ لاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *