صبحِ آزادی کے تعاقب میں۔۔جویریہ چوہدری

ہر روز نیا سورج طلوع ہوتا ہے
دن راتوں میں بدلتے اور راتیں سپیدۂ سحر میں بدل جاتی ہیں
خزاں کے اداس موسموں سے گُل رنگ شگوفے پھوٹ نکلتے ہیں
گرم لو کے جھکڑوں سے سرد ہواؤں کی لہریں ہم آغوش ہوتی ہیں
ساون رتیں برس کر طویل خشکی کا دور بھی گزر جاتا ہے
تغیرات کا یہ سلسلہ اور چکر رواں دواں رہتا ہے
اپنے وقت اور روٹین کے مطابق سب چلتا رہتا ہے
کوہسار برف کی چادر لپیٹ بھی لیتے ہیں اور آہستہ آہستہ وہ ڈھلنا بھی شروع ہو جاتی ہے
سورج غضب کی گرمی بھی برساتا ہے
اور رگوں میں لہو جما دینے والی سردی میں نرم و گرم گرمائش کا سامان بھی مہیا کرتا ہے
مگر روئے زمین پر بستے انسان ان تمام موسموں میں اپنے اپنے اہداف کا تعین کرتے ہیں اور انہیں حاصل کرنے کے لیئے سرگرداں ہو جاتے ہیں
اس کائنات کا حُسن ان انسانوں کے سکوں اور کامرانی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے
وہ خطے جو صدیوں سے جنگ و جدل اور ظلم و نا انصافی کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں وہاں کے باسیوں کے چہروں پر بھی نا انصافی کی یہ تاریخ پختہ لکیروں کی صورت تحریر ہے
ایسے ہی دل سوز و دلدوز جغرافیہ کے حامل خطہ کا نام کشمیر بھی ہے
جس کے مکین،بڑے،بچے بوڑھے،عورتیں ایک طویل عرصے سے ظلم و زیادتی کی منہ زور آندھی سے نبرد آزما ہیں
فولاد عزم کشمیری جھکے ہوئے ہیں نہ بکے ہوئے ہیں اور بچے بچے کی زباں اور خوں میں ایک ہی نعرہ رواں ہے۔۔
ہم کیا چاہتے ہیں”آزادی”
ہم لے کے رہیں گے آزادی
وہ پھولوں والی آزادی
وہ جاں سے پیاری آزادی
کرۂ ارض کا یہ خطہ اپنی منفرد نوعیت و تاریخ کا حامل ہے جہاں محض اَسی ڈیڑھ لاکھ باسیوں کے جذبۂ آزادی کو بزورِ ظلم و ستم روکنے کے لیئے آٹھ لاکھ فوج تعینات ہے۔۔۔؟
کیا ہی مقامِ حیرت ہے!
یہ تحریکِ آزادی مختلف مراحل سے گزرتی گزرتی آج اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ پانچ فروری تک جہاں گزشتہ چھ ماہ سے کرفیو کی صورتحال ہے__
کشمیریوں کو سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ سے کاٹ کر رابطوں کے تمام ذرائع مسدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
بچوں اور عورتوں کے بے پناہ صحت و خوراک کے مسائل عالمی میڈیا کی زینت بن چکے ہیں__
اقوام متحدہ کا استصواب رائے کا تسلیم شدہ حق اور نہرو کا کیا گیا وعدہ ہنوز اپنے ایفاء کا منتظر ہے۔۔۔
بے گناہ نوجوانوں پر تشدد اور شہادتیں جہاں معمول ہیں
بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر خوف کے پہرے ہیں
اور مطب علاج و سہولیات کے فقدان کا شکار
دنیا زباں و بیاں کی حد تک تو کشمیریوں کی حقوق تلفی کا احساس کرتی اور رکھتی ہے مگر یہ طویل جدوجہد آزادی اب اپنے انتہائی نازک موڑ میں داخل ہو چکی ہے۔۔۔
اور اس سخت ترین صورتحال میں بھی کشمیری اپنے مطالبے پر ڈٹے دکھائی دیتے ہیں اور اپنے عزمِ ہمالیہ سے غاصب کے ہر ہتھکنڈے کے لیئے رکاوٹ بن رہے ہیں۔۔۔

پانچ فروری پاکستان کی تاریخ میں وہ دن ہے جب پوری قوم اپنے مظلوم بہن بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی اور اپنے جذبات کو ان کی خوں سے لکھی تاریخ سے ہم آواز کرتی ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو ہم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو نہیں بھولے،اگر وہ پاکستان اور سبز ہلالی پرچم کی حرمت کو بلند اور عزیز رکھتے ہیں تو ہم پاکستانی بھی دنیا کے ہر فورم اور ہر انداز میں ان کے ساتھ ہیں___
نہتے و آبلہ پا آزادی کے مسافروں کی منزل تک پہنچنے تک ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔۔۔

جو صبحِ آزادی کے تعاقب میں اپنی تین نسلیں قربان کر چکے ہیں، جن کے کندھے لڑکھڑائے نہیں اور قدم ڈگمگائے نہیں_
کشمیر کے سبزہ زاروں کو اپنے لہو کی قبا پہنا کر قبرستانِ شہداء آباد کرتے یہ لوگ یقیناً لہو سے سینچی تحریک کو کامیابی تک پہنچا کر دم لینے کے حوصلوں سے مالامال دکھائی دیتے ہیں__
ظلم ڈھانے والے اس عزم،جذبہ اور منزل سے یقیناً نا آشنا ہیں
تمہید سے تم گزرے ہی نہیں،
اب قصہ سارا کیا جانو

اس خطے کا امن بالخصوص اور دنیا کا بالعموم نا انصافی اور ظلم کی زنجیروں کو کاٹ دینے سے جڑا ہوا ہے،
کیونکہ انسانیت سوز اقدامات کی یہ سلگتی چنگاریاں الاؤ بن کر اس کے امن کو لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔
اسی بات کی جانب پاکستان جیسے امن پسند اور ذمہ دار ملک کی طرف سے بارہا نشاندہی کی جا چکی ہے،عالمی قوتوں کو اس طرف توجہ دلائی جا چکی ہے_
کہ اپنی صبح آزادی کے تعاقب میں خون صد ہزار انجموں کی قربانی سے اندھیری شب کے ظلم سہتے کشمیریوں کو اب ان کا حق بہر حال ملنا چاہیئے!

آزادی کا سورج کشمیری سبزہ زاروں پر اپنی روشن کرنیں بکھیرے اور انسانیت کی تذلیل کی بجائے انسانی حقوق کے دعوؤں کی کوئی عملی صورت بھی دکھائی دینی چاہیئے۔
یہی کشمیریوں کا خواب ہے اور وہ اسی کی تعبیر کی تلاش میں سب کچھ کھو رہے ہیں!
ہے کوئی انسانیت کے درد کو سمجھنے والا؟
رِستے زخموں پر کوئی پھاہا رکھنے والا؟؟
یومِ یکجہتی کا یہی تقاضا و سوال ہے!
سفرِ پیہم میں
بھاری عزم میں
گہرے نشیب سے
بلند کوہسار سے
اداس چمن سے
گرتی آبشار سے
آتی اک ہی صدا ہے
خوں سے لکھی
ادائے وفا ہے__
کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟
“آزادی”۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *