کچھ مشتاق احمد یوسفی کے نام۔۔۔۔عائشہ یاسین

مشتاق احمد یوسفی کے انتقال کے انتقال کو ایک برس کا عرصہ بیت چکا۔ ان کے  حق میں بے پناہ دعائیں ۔

یوسفی صاحب کو کب پڑھنا شروع کیا شاید یہ یاد نہ کر سکوں ہاں یہ ضرور یاد ہے کہ آٹھویں جماعت میں ان کی کتابیں پڑ ھنے کا شوق جنون کی حد تک بڑھ چکا تھا۔ کتابیں پیسوں سے خریدنے کی نہ تو اجازت تھی اور نہ  ہی جیب خرچ اتنی تھی کہ کسی کتاب کی دکان پر کھڑے ہو کر ایک آدھ کتاب خرید سکتے۔ ہاں  مگر ہم اتنے سیانے ضرور تھے کہ دکان پر کتابوں کی جانچ پڑتال کے بہانے کتاب کو پڑھ لیا کرتے تھے ۔ اسی طرح چار پانچ چکر لگا کے کتاب مکمل کر لیتے تھے۔

ہمارے  انداز  و  اندام کو پرانے کتاب بیچنے والے بھی جان چکے تھے لیکن جیب کا یہ حال تھا نئی کتاب تو دور کی بات ردی پیپر والوں سے بھی پرانی کتاب خریدنے کی نوبت نہیں آتی تھی۔

مجھے آج تک اچھی طرح یاد ہے کہ  ایسے  حالات میں میری ایک عزیز دوست کا گھر میرا نشانہ ہوا کرتا تھا جس کے گھر میں ایسی کئی کتابیں موجود ہوا کرتی تھی پر مسئلہ اس کی رضا مندی پر آنے  پر رک جاتا تھا کیوں کہ وہ بلا شبہ اس مد میں انتہائی  کنجوس واقع ہوئی تھی۔ اگر میں اس کو رام کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتی تو اس کی بڑی بہن نے تو کبھی نہیں حامی بھرنی تھی کیوں کہ یہ کتابیں میری دوست سے زیادہ اس کی بہن کی ملکیت ہوا کرتی تھیں  ،جن کو ہم نام سے کم اور آپا کہہ کر زیادہ مخاطب کرتے تھے ۔اسکی خاص وجہ یہ تھی کہ ہماری آپا چشمہ لگائے خود کے ساتھ کم ،کتابوں کے ساتھ زیادہ پائی  جاتی تھیں ۔

میں موقع پا کر اس الماری کے سامنے اگر پہنچ بھی جایا کرتی تو و للہ علم آپا کو کیسے الہام ہوجاتا اور آپا کی آواز سنائی  دیتی کہ یہاں کیا کر رہی ہو؟ اب بھلا الماری جس میں کتابوں کے موتی پڑے ہوں تو ان موتیوں  کو چننا تو واجب ہوجاتا ہے نا اور مزے کے بات میرا ہدف مشتاق احمد یوسفی صاحب کی کتاب ہی ہوا کرتی تھی۔ یہاں بتاتی چلوں کہ ان کی ایک کتاب اب بھی میرے پاس موجود ہے جو میں نے خود ہی آپا کی طرف سے تحفتاً  رکھ چھوڑی  تھی ۔

یوسفی صاحب کی برسی ہے اور یقین جانئے آج بھی دل اداس ہے جس طرح اس سال اسی دن تھا۔ یوسفی صاحب دنیا مزاح کے بے تاج بادشاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان کی تحریر اور اسلوب نے دنیائے مزاح اور ادب کو جدت اور رعنائی  دی۔ وہ استادوں کے استاد تھے۔ ان کا انداز الگ رنگ رکھتا ہے۔ان کی کتابوں سے ہر ایک واقف ہے شاید  ہی کوئی  طبقہ ہو جو ان کی تحریروں سے متاثر نہ ہوا ہو۔ میری پسندیدہ کتابوں میں چراغ تلے، سر گزشت اور  آب گم ہیں جن کو بار بار پڑھنے کے باوجود  دوبارہ پڑھنے کو جی کرتا ہے۔

اللہ ان کے لئے آسانی کرے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔۔۔ آمین یا رب اللعالمین!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *