سماجی تربیت اور نوجوان ۔۔۔۔ رضا شاہ جیلانی

پاکستان میں مورخہ بائیس اگست کے بعد سے ایک سیاسی ڈرامہ شروع ہوا جو اپنی آخری اقساط کی جانب تیزی سے گامزن ہے مگر دیکھنے والوں کو اس وقت شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا جب پڑھے لکھے نوجوانوں نے محض ایک شخصی خواہش کے سامنے لبیک کا نعرہ لگا دیا اور ان کا لاٹھیوں ڈنڈوں کے ساتھ قریب موجود میڈیا ہاؤس میں توڑ پھوڑ سمیت پورے علاقے میں کئی گھنٹوں تک جلاؤ گھیراؤ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کا نوجوان معاشی سماجی سیاسی ذہنی تناؤ کا مکمل شکار ہو چکا ہے.

دوسری جانب اگر ہم دیکھیں تو ہماری طرح کی کئی ترقی پذیر قومیں ہیں جو اپنے سماج میں فکری ترقی کے لیے اپنے نوجوانوں میں مکالمے و آزادانہ مباحثوں کے ذریعے ایسی سرگرمیوں کا انعقاد کرتی ہیں جن سے انکی صلاحیتوں کو نکھارا جاتا ہے۔ اس طرح وہ آنے والے وقت میں اپنے ملک و قوم کو اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ذریعے ترقی کی منزل پر ڈال دیتے ہیں۔ پھر یکے بعد دیگرے آنے والے نوجوان اپنی قوم کی سماجی، معاشی اور سیاسی ترقی کے لیئے اپنا مثبت حصہ ڈالتے رہتے ہیں. اس کے برعکس پاکستان کے نوجوانوں کی جانب اگر ہم نظر ڈالیں تو بدقسمتی سے ان کی سیاسی و سماجی تربیت کی جانب آج تک کسی بھی حلقے نے کوئی توجہ نہیں دی اور جہاں تک نوجوان کی بات ہے تو وہ خود شخصیت پرستی کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے.

دو ماہ قبل کراچی میں ہونے والے ایسے ہی ایک واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ ہمارا نوجوان سماجی پستی کا بے انتہا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ وہ شخصیت پرستی میں اس حد تک چلا جاتا ہے کہ فقط ایک شخص کی خوشی کی خاطر وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہو جاتا ہے جسے کسی بھی طرح سے ایک پڑھی لکھی قوم کا فرد کہنا مناسب نہیں. کنفیوز قوموں کی بےبسی کا اس سے بڑھ کر کیا عالم ہوگا کہ جب وہ اپنی سوچ و فہم کو ایک طرف رکھ کر اندھی تقلید کی راہ پر چل نکلتے ہیں اور اپنا اچھا برا کچھ سوچے سمجھے بغیر ایک روبوٹ کی مانند ہر کہے پر عمل کرتے ہیں، کیا کسی سمجھدار پڑھی لکھی قوم کا یہ رد عمل ہو سکتا ہے کہ وہ قلم چلانے والوں کو ماریں پیٹیں، ان کی املاک کو شدید نقصان پہنچائیں؟ بالکل نہیں۔ کسی بھی پڑھی لکھی قوم کا یہ ردِ عمل ہر گز نہیں ہو سکتا جبکہ وہ خود مہنگائی سمیت بے روزگاری، رشوت خوری، نسل پرستی، لسانی تقسیم، مذھبی عدم برداشت سمیت سیاسی نا ہمواری اور معاشرے میں روز مرّہ کی قتل و غارت گری اور اس پر آئے روز کی قدرتی آفات کے ساتھ خودکش دھماکوں اور حکمرانوں کی پانامہ سازیوں نے بری طرح جکڑا ہوا ہو.

یہ آخر کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھائے خوشی خوشی اپنی مرضی کرتے پھریں. آخر کیا وجہ ہے کہ روزانہ کی گرفتاریوں اور عدالتوں سے سزاؤں کے باوجود بھی یہ نوجوان اپنی اندھی تقلید سے باز نہیں آتا؟ کیا وجہ ہے کہ اس کے پاس سڑکوں پر نکلنے کے لیے کافی وقت موجود ہے؟ اس کی ایک وجہ جو ماہرین نفسیات بتاتے ہیں وہ بالکل سادہ سی ہے کہ نوجوان ڈگری لینے کے باوجود فارغ ہے یا ہنر ہونے کے باوجود اپنے اور معاشرے کے کام نہیں آسکتا جس کی وجہ صرف معاشی تنگدستی ہے. ایسی قوم کی تباہی کے ذمہ دار صرف وقت کے حکمران اور ان کی وہ ناقص حکمت عملی ہوتی ہے جسے وہ ” معاشی پالیسی ” کا نام دیتے ہیں. عجیب طرز کے ظالمانہ بجٹ سے لیکر آئے روز کے سخت سے سخت قوانین کا رائج ہونا نوجوانوں کی ترقی کی راہ میں حائل ہونا ہی ہے یا یوں کہا جائے کے پچیس سے تیس سال کی عمر کے جوان کے لیے جب ایک اسّی سالہ بزرگ معاشی پالیسی بنائے گا تو یقین کیجیئے وہ اپنے دور کے جوان کو ہی مد نظر رکھے گا.

آج کے نوجوان کی ایک مجبوری یہ بھی ہے کہ ان پر وہ سیاستدان مسلط ہیں جنہیں اس صدی کا کرپٹ ترین سیاستدان کہا جاسکتا ہے۔ جو خود آسائشوں کی زندگی بسر کرتے ہیں مگر عوام خصوصاً نوجوان کے لیے ان کے پاس دینے کو کچھ بھی نہیں ہوتا. نوجوانوں کو اپنے طبقے کے مسائل اب خود سنجیدگی سے سمجھنے ہوں گے. پاکستان کی کرپٹ اشرافیہ اقتدار میں آتے ہی یہ بھول جاتی ہے کہ قوموں کی ترقی کا راز صرف سڑکوں پلوں کی تعمیر کے علاوہ بھی کچھ ہے۔ جو قومیں ذہنی اور نفسیاتی طور پر اپنے مسائل کو خود حل نہ کریں وہ جلد ختم ہوجاتی ہیں.

ہمارے ہاں نوجوانوں کو آئے روز کے دھرنے، بھوک ہڑتالیں، مخالفین کے خلاف نعرے بازی کے لیے استعمال کرنے والے شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ یہ سب کروا کر کینسر کا علاج ڈسپرین سے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے سیاستدان سمیت مذھبی اسکالرز اپنے نظریات عوام کے دل و دماغ میں صرف ڈالتے ہی نہیں بلکہ انہیں پوری طرح بھر دیتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاھیے کہ نظریات کی تعلیم کسی حد تک درست بھی مان لی جائے تو بھی نوجوان کے ذہن میں سوچ سمجھ کا خانہ تھوڑا اسکے اپنے لیے بھی خالی رکھنا چاھیے تاکہ وہ مشکل وقت میں اپنے دماغ سے فیصلہ لے سکے اور اپنے اوپر پُر تشدد و نفسیاتی اثرات کو حائل نہ ہونے دے مگر صد افسوس کے ہمارے سیاستدان و مذھبی اسکالرز مکمل طور پر عوام کے ذہن و دل پر اپنی گرفت مضبوط کر لیتے ہیں اور آج کے نوجوان کو مکمل جذباتی بنا کر اسے اپنے مخالفین سے انتقام لینے کے لیے استعمال کرتے ہیں.

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر پاکستان کی سیاسی قوتوں کا آج کے نوجوان کیساتھ یہ ہی رویہ رہا تو یہ ایک المیہ ہی ہوگا کہ پوری قوم آنے والے وقت میں اجتماعی سماجی خودکشی کی راہ پر گامزن ہو جائے گی. اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ لکھنے والا لکھ رہا ہوگا کہ ایک ایسی قوم جس نے آزادی کی جنگ لڑی اور یک جان ہوکر بہادری کے ساتھ طاقتور سامراجی قوت کا ڈٹ کے مقابلہ کیا اور آزادی حاصل کی، وہی قوم صرف شخصیت پرستی اور سماجی ناہمواری کے آگے ہار گئی. نوجوانوں کو اب یہ خود ہی سوچنا ہوگا کہ منفی سوچ کے پرچاروں نے قتل گاہوں میں انہیں کیوں بےدردی بےرحمی سے پیش کیا. تاریخ دان تو پھر بہت کچھ لکھے گا. میر جعفر اور میر صادق جیسے کئی نام آئیں گے اور ہاں نوجوانوں کو استعمال کر کے ان سے اپنے ہی وطن کو آگ لگوانے والوں کو وہ کبھی ” ٹیپو سلطان ” نہیں بلکہ ہمیشہ نیرو ہی لکھے گا.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *