مُونچھ اور پشتون شاعر۔۔۔عارف خٹک

پشتو شاعری میں دو بندوں کےساتھ بہت ظُلم ہوتا آیا ہے۔ایک نرینہ محبوب سے اور دوسرا رقیب سے۔ نرینہ محبوب کو اشعار میں جلیبیاں کھلا کھلا کر اس کا منہ شیرے سے لتھڑا جاتا ہے۔اور پھر شاعر کہتا ہے کہ وہ اپنی زبان نکال کر اپنے محبوب کا منہ اپنی زبان سے چاٹ کر صاف کردیتا ہے۔ یا بقول  آصف خٹک کے  محبوب کو گلاب کے ہار  پہنا کر بنوں یا لکی مروت کے علاقائی میلوں میں کیٹ واک کرائی جاتی ہے۔اور دوسروں کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ہم سا ہو تو سامنے آئے۔

ہم نے وزیرستان میں ایسے مرد عاشقوں کو بھی دیکھا ہے۔جو اپنے مرد محبوب کے مُنہ میں نسوار رکھ دیتے ہیں۔اور پانچ منٹ کے بعد مُنہ سے مُنہ ملاکر وہی نسوار اپنے مُنہ میں ٹرانسفر کرائی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ایسے استعمال شدہ چونڈیوں کو بار بار حالتِ ہجر میں عاشق حضرات اپنے استعمال میں لاتے ہیں۔ تاکہ محبوب کی تُھوک کا ذائقہ محسوس ہو۔ اور عشق کی یہ داستان تاحیات جاری و ساری رہے۔ میرا دوست خالد جان داوڑ کہتا ہے کہ اس چونڈیوں کو تب کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا جاتا ہے۔جب عاشق کو معلوم ہوجائے، کہ اس کا محبوب پانچ بچوں کا باپ بن گیا ہے۔اور جمعیت علماء اسلام کا ذمہ دار کارکُن،یا پھر پی ٹی  آئی کا ٹکٹ ہولڈر بن چُکا ہے۔

کرک میں تو محبوب کو ہمارے خٹک شعراء کرام اپنے اشعار میں قتل کردینے کی باقاعدہ اور کُھلے عام دھمکیاں بھی دینے بھی دریغ نہیں کرتے۔ایسے مُشاعروں میں ہم نے لوکل پولیس افسران کو حالت وجد میں آکر ان شعراء پر پیسے لُٹاتے بھی دیکھا ہے۔

رقیب بےچارے کے ساتھ جو ظلم ہمارے جنوبی اضلاع کے شُعراء کرتے ہیں۔ ایسا ظلم تو بقول منظور پشتین پاکستانی فوج نے وزیرستان یا پھر بقول فیض اللہ خان شام کی  شعیہ حکومت نے شامی سُنیوں کے ساتھ بھی نہیں کیا ہوگا۔ رقیب کے بچوں کو ہم نے شعراء کے منہ سے اولاد کے مرنے کی بددعائیں سُنتےدیکھا ہے۔بلکہ ہمارے بنوں کے ممتاز شاعر نے تو رقیب کو باقاعدہ وارننگ جاری کی۔۔کہ آپ کا بچہ آپ کی نظروں کے سامنے سے اغواء  کرکے لے جاؤں گا۔اور  تجھے جیتے جی مار دوں گا۔ الغرض پشتو کے جتنے بُرے الفاظ یا القابات ہوتے ہیں وہ پشتون رقیب کے حصے میں آتے ہیں۔ میں نے ایک بار اپنے پشتون شاعر دوست سے پوچھا،کہ آپ لوگوں کی شاعری میں رقیب یا ولن عموماً کون ہوتا ہے؟
جواب ملا،کہ لڑکے کا باپ یا اس کا چچا۔

میرے یارِ من عبدالمجید داوڑ فرما تے ہیں۔ کہ 1998ء کے بھلے وقتوں میں شعراء اشعار لکھ کر پھر لوک فنکاروں کو اپنی جیب سے پیسے دے کر ریکارڈ کرالیتے تھے۔ تاکہ مشہور ہوجائیں۔اور چرس کی ہر محفل میں ان کی غزلوں کے ریکارڈز سُن کر چرسی پانچ کی بجائے دس سگریٹ ایک ساتھ پھونک دیا کریں۔
گاؤں حیدرخیل موضع میرعلی کے پانچ شعراء جن کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں۔ اُنھوں نے عید سے دو دن پہلے مشترکہ طور پر  پشتو کے مشہور فوک گلوکار دمساز مروت مرحوم سے ریکارڈنگ کروالی۔ بارہ غزلوں میں رقیب کو وہ وہ بددعائیں دی گئی  تھیں کہ ریکارڈنگ کے بعد جب شعراء کپڑے جھاڑ کر اجازت مانگنے لگے،تو گلوکار دمساز مروت نے ان کو پیچھے سے آواز دی  کہ آپ تینوں کی بڑی بڑی مونچھیں دیکھ کر ایک گھنٹہ تک میری اپنی ہوا خشک ہوتی رہی۔تو ایسی مونچھوں کا کیا فائدہ؟جو پانچوں مل کر ایک ہی رقیب کو عورتوں کی طرح بد دعائیں اور کوسنے دے رہے ہو۔اس لئے میرا مشورہ یہی ہے،کہ سارے جاکر اپنی مونچھیں غیرت مند رقیب کو تحفہ میں دے دینا۔

پتہ نہیں مجید داوڑ کا اشارہ کس کی طرف ہے۔ مگر کل سے اپنی بیوی کی ننگی گالیاں سُن سُن کر بار بار آئینے کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہوں۔اور مجید داوڑ کا مضمون آنکھوں کے سامنے گُھوم گُھوم جاتا ہے۔

پتہ نہیں کیوں۔۔۔۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *