• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • یہاں سب مافیا ہیں بھیا،صحافی ہو یا ڈاکٹر ہو۔۔۔مدثر اقبال عمیر

یہاں سب مافیا ہیں بھیا،صحافی ہو یا ڈاکٹر ہو۔۔۔مدثر اقبال عمیر

SHOPPING
SHOPPING

میرے لئے تصویر کا یہ رخ  کافی حیران کن تھا۔

سورج شکست کھا چکا تھا۔آسمان نے سیاہ چادر اوڑھ لی تھی ۔لیکن سول ہسپتال ڈسکہ کے ایمرجنسی وارڈ میں اندھیرا مکمل غالب ہونے میں ناکام دکھائی دے رہا تھا۔ نیا بنا ایمرجنسی وارڈ کسی صورت بھی کسی نجی ہسپتال کے استقبالیے سے کم نظر نہیں آرہا تھا۔نارنجی وردی میں ملبوس خاکروب مستعد تھے ۔ڈیوٹی پہ متعین نرسنگ سٹاف کا رویہ ، مرکزی دروازے کی سیڑھیوں کے پاس سلیقے سے دھرے اسٹریچرز اور درجنوں وہیل چیئرز ادارے کے ملازمین کی پیشہ ورانہ مہارت کی گواہی کے لئے کافی تھیں ۔تھوڑے فاصلے پہ بنے صاف واٹر پیوریفکیشن پلانٹ سے سیالکوٹ ڈسکہ روڈ کو بھی کنکشن ملا ہوا تھا اور ہسپتال میں آنے والے بھی با آسانی اس پانی سے پیاس بجھا سکتے تھے ۔جس نے بلوچستان میں موہنجوڈارو کے کھنڈرات جیسے سرکاری ہسپتال دیکھے ہوں اس کے لئے یہ تمام مناظر ناقابل یقین تھے ۔ بیک وقت خوشی اور جلن کے احساسات دل کے کونے کھدروں میں اپنا پتہ دے رہے تھے کہ ہمیں چیمہ صاحب نظر آہی گئے۔ موصوف واٹر پیوریفکیشن پلانٹ کے عقب میں کھڑے کسی کو فون پہ اپنی بپتا سنا رہے تھے ۔

چیمہ ایک تیس بتیس سالہ نوجوان تھا۔میرے سعودیہ پلٹ کزن کا لنگوٹیا تھا۔انداز گفتگو، کلف لگا سفید کاٹن ، عمران خان کٹ پشاوری چپل، ایک ہاتھ میں گولڈ لیف کی ڈبی اور دوسرے ہاتھ میں سام سنگ کےکسی نئے ماڈل کا موبائل اس کی مالی و سماجی حیثیت کا تعارف کروارہاتھا۔چیمہ کی برادری ہی کےکچھ نوجوانوں نے اس کی رائس مل پر آکر اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی ۔ان کی اچھی طرح “خاطر تواضع” کرنے کے بعد اسے تھانے چھوڑ کر اب ایک سپاہی کے ہمراہ “میڈیکل” لینے سول ہسپتال ڈسکہ میں موجود تھا ۔تاکہ ایف آئی آر کراسکے۔

چیمہ ہم سے ملا ، فون پہ گفتگو جاری رکھنے کی اجازت لے کر کچھ دور چلا گیا ۔میرے کزن نے پولیس کے اس ادھیڑ عمر سپاہی کا تعارف کروایا۔

“بھائی جان !یہ چچا اشرف ہیں ۔ان سے تب کی بڑا  پیار محبت ہے۔ جب آپ تک صرف میری شکایتیں ہی آتی تھیں ۔” کزن نے ہنستے ہوئے کہا۔

“بس جی کچی عمر تھی ان کی خون گرم ہوتا ہے۔ ہمارے بچوں کی طرح ہیں۔ہم نے نہیں خیال رکھنا تو کس نے رکھنا تھا “لمبے تڑنگے چچا اشرف کے لہجے میں ٹھیٹھ دیہاتی پن نمایاں تھا۔

“میاں صاحب ! جب آپکا فون آیا تو میں گجر صاحب کے ساتھ بیٹھا تھا “اب وہ میرے کزن کی طرف متوجہ تھا ۔

“کون گجر صاحب؟” کزن نے پوچھا ۔

“وہ اخباری نمائندہ ۔۔ بس نہ پوچھیں میاں صاحب “چاچے کے لہجے میں بےبسی امڈ آئی ۔

“ہمیں ایک محلے والوں کی طرف سے بڑی درخواستیں مل رہی تھیں کہ (اس نے کسی جگہ کا نام لیا) میں کوئی غیر قانونی اڈہ ہے ۔اور یہاں فلاں فلاں کام ہوتے ہیں ۔میں اور رانا صاحب سفید کپڑوں میں وہاں گئے تو جو کچھ درخواستوں میں لکھا تھا ویسا ہی پایا۔ایک نوجوان اسلحے کے ساتھ وہاں بیٹھا تھا۔ہم نے اسے گرفتار کرلیا ،تھانے لے آئے ۔اس کے موبائل میں اس کی ایک کلاشنکوف اور نا ئن ایم ایم کے ساتھ تصویر تھی ۔بس مجھ سے غلطی ہوگئی کہ میں اس نوجوان سے سختی سے پوچھ بیٹھا کہ وہ اسلحہ کہاں ہے؟۔وہ نوجوان کسی مقامی صحافی کا بیٹا تھا۔اس نے الٹا ہمارے خلاف درخواست دے دی۔ہماری انکوائری لگ گئئ ۔ اب اسی لئے گجر صاحب کے پاس بیٹھا تھا کہ “کچھ کریں “۔انھوں نے تسلی دی ہے کہ میں اس صحافی کو سمجھا دوں گا اور ڈی آئی جی صاحب سے بھی بات کرلوں گا۔” چاچے کی آواز میں مایوسی جھلک رہی تھی۔

“اب یہاں آگیا تو ڈاکٹر صاحب موجود نہیں ۔پہلے فون کیا کہتے ہیں آتا ہوں ۔پھر فون کروایا اسے بھی اس نے کہا کہ آتا ہوں ، اور۔۔۔ وہ آدھے گھنٹے سے آرہا ہے”۔

چچا اشرف کی کہانی تو جاری تھی لیکن  تصویر   کا وہ رخ جو اس سجے سجائے ایمرجنسی وارڈ نے مجھے دکھایا یک دم دھندلا سا گیا۔  مجھے یوں لگا کہ میں پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ میں نہیں بلکہ بلوچستان کے ضلع جعفرآباد کی تحصیل اوستہ محمد کے سرکاری ہسپتال میں کھڑا ہوں جہاں شام کو ایمر جنسی میں ڈاکٹر کو بلانا پڑتا ہے ،ملتے نہیں ۔جہاں عام بندے کی موٹر سائیکل چوری ہو جائے تو  چور کے  معلوم ہونے  کے باوجود نہیں ملتی  البتہ صحافی کی مسروقہ موٹر سائیکل کسی گلی کی نکڑ میں “اچانک” مل جاتی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ ڈسکہ کا ہسپتال رات کوبھی  جگمگا رہا ہے اور اوستہ محمد کے ہسپتال میں دن کو بھی تاریکیوں کا راج ہے ۔نجی ہسپتالوں کی اک لمبی فہرست ہے جن کی عمارتیں سول ہسپتال  ڈسکہ کے ساتھ ایستادہ ہیں ۔جہاں میٹرنٹی ہوم سے لے کر ڈائلاسز تک کی سہولت با آسانی دستیاب ہے۔جہاں غریب کو نہ سہی امیر کو تو بےشمار طبی سہولیات میسر  ہیں ۔بس آپکے پاس پیسے ہونے چاہئیں ۔جبکہ اوستہ محمد  میں، امیر غریب دونوں کے لئے ایسی کسی سہولت کا سوچنا محال ہے ۔اوستہ محمد تو کیا، سبی اور سبی تو کیا ؟ پورے بلوچستان میں سوائے کوئٹہ کے آپ کو سرجن بھی مشکل سے ملے جو آپریشن کرسکے۔دونوں  جگہ  اختلاف  امیر کے لئے ہے  ۔غریب تورتی بھر فرق کے ساتھ  ایک ہی چکی میں پس رہے ہیں ۔

لیکن تصویر  واضح ہوئی سول ہسپتال سیالکوٹ جاکر۔۔۔۔۔۔۔

شہر کے وسط میں واقع علامہ اقبال ہسپتال کی پرانی بلڈنگ خود سے ملحق نئے بنے میاں  صفدر میڈیکل کالج کی عمارت کے سامنے اجڑا دیار لگ رہی تھی۔ سبزے سے سونے لان اس سہ پہر کچھ زیادہ ہی سونے سونے دکھ رہے تھے ۔ مٹی میں لتھڑےکھانے کے بیسیوں خالی نیم خالی ڈبے لان کی رہی سہی شان میں شدید گستاخی کر رہے تھے ۔ہماری منزل چیسٹ وارڈ تھی ۔جہاں پھوپھی جان ٹی بی دریافت ہونے پر زیر علاج تھیں ۔

پانچ بیڈ پہ مشتمل اس کمرے میں ہر مریض کے ساتھ تین سے چار تیماردار تھے ۔پھوپھی جان نے سوجے ہوے بازو سے پیار دیا ۔بازو سوجنے کا استفسار کیا تو پتہ چلا کہ کینولا ہل گیا ہے۔نرس کو کافی دیر سے  کہاہوا ہے لیکن ابھی تک اسے “وقت ” نہیں ملا کہ وہ اس کا حل نکالے۔
پنجاب یونیورسٹی سے پڑھی بھتیجی ، دادی کی تیمارداری کے لئے کافی دن سے موجود تھی ۔گویا ہوئی کہ “انکل ! پورے دن میں ڈاکٹر صرف ایک دفعہ چکر لگاتا ہے ۔اس کے بعد مرنا جینا اپنی ذمہ داری پہ۔جب معائنے کے لئے آتے ہیں تو مریض کے سامنے میٹھے بول تو درکنار مسکرانا بھی غیر قانونی سمجھتے ہیں۔کچھ پوچھ لو تو توہین ہسپتال کا الزام لگ جاتا ہے”۔ اس کی آواز میں درد صاف سنائی دے رہا تھا ۔

“ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے کہ آپ کو ان کی پرواہ نہیں ۔تبھی تو آپ یہاں علاج  کروارہے ہیں ۔انھوں نے کئی بار یہ بات کی تنگ  آکر میں نے ان سےپوچھ ہی  لیا کہ آپ کا کلینک کہاں ہے ۔ہم مریض کو وہاں لے آتے ہیں شاید وہاں ہی آپ ہمیں صحیح تفصیل سے بتادیں اور علاج میں دلجمعی دکھائیں ۔آپ جو ہمیں کہتے ہیں کہ اسکا علاج باہر سے کروائیں ۔”

تو اس نے شدید بدتمیزی سے جواب دیا” کہ میرا کوئی کلینک نہیں ۔آپ کو بات کرنے کی تمیز نہیں ۔حالانکہ اس کا کلینک ہے جہاں سے یہ مریض علاج کرواتی ہیں “اس نے ایک خاتون مریض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

“ڈاکٹر تو ڈاکٹر یہاں نرس سے بھی بھلائی کی امید رکھنا حماقت ہے،ہاں سفارش ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ۔یہ سب ایک دوسرے کے معاون ہیں ۔شام کو آپس میں تعاون ہی سے کلینک چل رہے ہیں “تعلیمی میدان پہ میرٹ پر ہر جگہ اپنی جگہ بنانے والی نورین کے لئے عملی میدان کی یہ صورت حال کافی پریشان کن تھی۔

پھوپھی جان کبھی ہماری طرف تو کبھی اپنی پوتی کی طرف دیکھ رہی تھیں اچانک انھیں کھانسی کا دورہ پڑا۔اور ہم نے بات کا رخ پھیر دیا۔مجھے کہنا پڑا شکر کریں اتنا تو مل رہا ہے ۔کچھ نہ ہوتا تو کیا کر سکتے تھے ۔مہربانی ان کی ۔۔

اس تصویر کا ایک ہی رخ تھا جس میں مجھے سول ہسپتال سیالکوٹ ، سول ہسپتال کوئٹہ اور سول ہسپتال جیکب آباد ایک جیسے دکھائی دے رہے تھے ۔جہاں مریض نہیں مجبوریاں نبٹائی  جاتی ہیں ۔جہاں علاج کا معیار اور تعلق دوا سے زیادہ سفارش کی حیثیت سے جڑا ہے۔جہاں ڈاکٹرز نہیں مافیا ہیں ۔

SHOPPING

صرف ڈاکٹرہی کیوں اس ملک میں تو چپے چپے پر  مافیاوں کا راج ہے۔ صحافی مافیا،وکیل مافیا، جج مافیا،بیوروکریسی مافیا ،میڈیسن مافیا، نجی اسکول مافیا، آڑھتی مافیا،ٹیچرز یونین مافیاجنکا اپنا اپنا علاقہ ہے ،اپنا اپنا قانون ہے ۔جس کے سامنے ریاست بے بس ہے  اور  تبدیلی کی  سوچ   ایک خوشنما خواب کے سوا کچھ نہیں ۔آپ کسی مافیا کے دائرے  میں  پھنسیں تو سہی ،پھر آپ کی مرضی  ختم ،ان کی شرائط اور ان کے ہی قانون چلیں گے۔آپ کس کس مافیا سے لڑ یں گے ۔کتنا لڑیں گے ،لڑ سکتے ہی نہیں اتنی سکت  کہاں ۔۔۔شکر کریں  یہ  مافیاز چند سانسیںں تودے رہے ہیں ۔ مہربانی ان کی۔۔۔

SHOPPING

Mudassir Iqbal Umair
Mudassir Iqbal Umair
بلوچستان کے ضلع جعفرآباد کے شہر اوستہ محمد میں بسلسلہ ملازمت مقیم ہوں۔تحریر اور صاحبان تحریر سے محبت ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *