وکلائے یزید کے لیے ۔۔۔۔ امتیاز خان

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کا ہر فرد ہمارے سر کا تاج اور آنکهون کی ٹهنڈک ہے- جو ان میں سے کسی سے بغض رکهے یا تنقیص شان کا مرتکب ہو اس سے کلی براءت ۔ اور یہ بهی ہمارا ایمانی فریضہ ہے کہ ان میں سے جس پر بهی اعتراض کیا جائے ہم علم کی روشنی میں اس کا جواب دیں اور تردید کریں البتہ روافض اور منکرین صحابہ کا رد جب وکالت یزید کی صورت اختیار کرلیتا ہے تو اپنی اہمیت اور عظمت بھی کھو بیٹھتا ہے۔

اور وکالت بھی کن دلائل پر؟۔۔ واقعہ کربلاء اور حرہ وقوع کے صدی بعد لکھے گئے۔۔ یزید قتل امام حسین اور واقعہ حرہ میں خود ملوث نہیں تھا اور اس نے ان پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ اور سب سے بڑھ کر یہ کہا جاتا ہے کہ جو باتیں نقل کی جاتی ہیں ان کا گواہ کون تھا؟۔۔ تفصیلات میں تعارض ہے اس لئے واقعات ہی معتبر نہیں رہے۔۔

اس سارے وکالت نامے کا ایک آسان اور الزامی جواب تو یہ ہے کہ واقعات اگر ایک صدی بعد لکھے گئے ہیں تو یزید کا ملوث نہ ہونا اور شرمندگی کا اظہار کرنا کئی صدیوں بعد لکھا گیا تو یہ کیسے معتبر ٹھہرا؟۔۔ لیکن تحقیقی جواب بھی ضروری ہے۔۔ کیا کسی واقعے کی تفصیلات میں تعارض ، اختلاف یا داستان طرازی آجانے سے اس کا وجود ہی مشکوک ہوجاتا ہے؟؟۔ جواب یہ ہے کہ ہر گز نہیں۔

اصول شریعت میں ایک بنیادی اصل یہ ہے کہ بات کی قطعیت جن دلائل سے ثابت ہوتی ہے وہ دو ہیں۔ 1۔ قرآن مجید 2۔ تواتر اور پھر تواتر کی چار اقسام ہیں۔ 1۔ تواتر اسناد 2۔ تواتر طبقہ 3۔ تواتر عملی 4۔ تواتر فی القدر المشترک۔ یہ بحث موضوع سے خارج ہے کہ تواتر کا معنی اور ہر قسم کی تفصیل کیا ہے۔یہاں ہم تواتر کی صرف چوتھی قسم سے متعلق بات کریں گے۔

تاریخ کے بہت سے مغالطوں اور خلط ملط کے بیچ سے اصل حقائق کا نکالنا بھی اسی قسم کو سمجھنے پر موقوف ہے۔ تواتر فی القدر المشترک کا آسان مطلب یہ ہے کہ کسی حکم یا واقعہ کا ہر زمانے میں متواتر نقل ہونا اس طرح کہ اصل حکم یا واقعہ میں ہر ناقل کا اتفاق ہو، جزوی تفصیلات اگرچہ مختلف رہیں۔ اس تواتر سے اصل حکم یا واقعہ کی قطعیت ثابت ہوجاتی ہے، تفصیلات میں اختیار رہتا ہے جو تسلیم کرے سو کرے، جو چاہے انکار کردے۔۔

مثال کے طور پر حاتم طائی ایک سخی آدمی تھا۔ یہ بات متواتر منقول ہے البتہ اسکی سخاوت کی جزئیات میں شدید اختلاف پایا جائے گا۔ حجاج ایک ظالم انسان تھا یہ بات متواتر منقول ہے۔ کتنا ظالم تھا یہ مختلف فیہ بات ہے۔ اب ناقلین میں قدر مشترک یہ ہوئی کہ حاتم سخی تھا اور حجاج ظالم۔ یہ مقدمات اس تواتر کی وجہ سے قطعی ہوگئے۔ اس کا جو شخص انکار کرے اسے چھلکا اسپغول کی بڑی مقدار پلائیں۔۔ کتنے سخی اور ظالم تھے؟ تفصیلات میں آپ جس قدر چاہیں مان لیں جس قدر چاہیں رد کردیں ہم آپکو سادہ پانی بھی نہیں پلائیں گے۔

بات ذرا طویل ہوگئی لیکن امید ہے سمجھ ضرور آگئی ہوگی۔ اب اسی تناظر میں یزید کو لیجئے۔ واقعہ کربلا اور واقعہ حرہ دونوں کا یزید کے زمانہ اقتدار میں ہونا متواتر منقول ہے۔ کربلاء میں خانوادہ نبوت کا خون ہوا۔۔ متواتر منقول ہے۔ کربلا میں جزوی طور پر کیا کیا ہوا؟ کیا کیا مظالم پیش آئے؟ کتنی حقیقت ہے کیا افسانہ ہے؟ یہ سب مختلف فیہ ہے۔ واقعہ حرہ میں مدینہ منورہ پر لشکر کشی ہوئی۔ اہل مدینہ کا قتل عام ہوا اور لوٹ مار ہوئی۔ یہ متواتر منقول۔ کتنے قتل ہوئے؟ کتنی عزتیں پامال ہوئیں؟ کتنے دن اہل مدینہ کی جان مال عزت مباح کردی گئی؟ یہ سب متضاد اخبار پر مبنی ہے۔

اب جزئیات کو چھوڑئے۔ کیا واقعہ کربلا اور واقعہ حرہ یزید کی حکومت میں اس کے لشکر کے ہاتھوں ہونا ایسے چھوٹے جرائم ہیں جن میں یزید کیلئے رعایت ڈھونڈی جاسکے؟؟؟۔۔ اہل بیت رسول علیہ الصلوة والسلام اور سب سے بڑھ “حسین منی وانا من حسین” کا تمغہ رکھنے والے سردار جنت کا مظلومانہ قتل۔ مدینہ طیبہ جسے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے “حرم” قرار دیا اور اہل مدینہ کو خوفزدہ کرنے والے کو جہنم کی وعید دی اس حرم رسول کی پامالی کے جرائم پر آپ تاریخ کے کباڑ سے ایک معذرت نکال کر لے آئے اور سب دھو ڈالا۔۔اور باقی ساری متواتر نقل کو چرسیوں کے کھاتے میں ڈال کر دل پشوری کرلی۔۔ رہی بات شرمندگی کے ساتھ کی گئی معذرت قبول کرنے کی تو ظالمو! تم عراق میں نبی علیہ السلام کی امت پر بمباری کرکے معذرت کرنے پر “ٹونی بلیئر ” کا مذاق اڑائو اور نبی علیہ السلام کے پورے خاندان بشمول شیرخوار بچوں کے قتل پر “یزید” کی معذرت قبول کرو یہ انصاف “یزیدی” عدالت میں ہی ہوسکتا ہے اسلامی نہیں۔۔

آخر میں ایک جذباتی سا سوال ہے اس پر پیشگی معذرت قبول کرو۔۔ جب روضہ رسول پر حاضری کی امنگ اٹھے تو دل سے یہ ضرور پوچھ لیا کرو کہ حسین کے نانا کے دربار میں یزید کا وکالت نامہ لے کر سلام کس منہ سے پیش کروگے؟۔۔

Advertisements
julia rana solicitors

“حسین من رسول اللہ ونحن من حسین”

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply