حسینی برہمن کی کہانی ۔۔۔۔ ظفر ندیم داؤد

اگر آپ یہ چاہیں کہ میں آپ کو اس کہانی کے حق میں تاریخی شواہد یا ثبوت فراہم کروں ۔ تو یہ ممکن نہیں ہوگا کہ یہ خاندانی روایات اور ورثے میں ملنے والی کہانیوں سے تشکیل پائی ہے۔ یہ کہانی حسینی برہمنوں کی کہانی ہے جو نہ صرف سندھ میں ابھی بھی موجود ہیں۔ بلکہ پورے بھارت میں پائے جاتے ہیں اور کئی نسلوں سے اپنے طریقوں سے  غم حسین منا ریے ہیں۔

حسینی برہمنوں کی روایت بتلاتی ہے کہ ان کے اجداد عرب سے تجارتی تعلق رکھتے تھے۔ دور نبوت سے پہلے جو تجارتی کارواں سندھ سے مکے جاتے تھے ، ان میں یہ ہندو برہمن بھی گئے تھے۔ اس ہندو برہمن خاندان نے نبوت سے پہلے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے تجارتی تعلق قائم کیا تھا۔ چنانچہ دور نبوت کے بعد بھی یہ ہندو برہمن اپنا تجارتی سامان لے کر مکے گئے تو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے بھی ملے۔ بعد ازاں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات مبارک میں مدینہ منورہ بھی گئے۔

اس طرح کئی سالوں بعد ایسا وقت آیا کہ خاندان نبوت کو بنی امیہ کے دور حکومت میں ابتلا کا سامنا کرنا پڑا۔   ہندو برہمن خاندان ایک تجارتی کارواں کے ساتھ دشت نینوا کے نواح میں گزر رہا تھا۔ اس کی منزل مقصود ملک شام تھی۔ جب اس تجارتی کارواں کو یہ علم ہوا کہ اس دشت  کے نواح میں کربلا کے مقام پر اموی بادشاہ کی ایک بڑی فوج کسی باغی کی سرکوبی کے لئے اتری ہے۔ مزید پوچھنے پر یہ پتہ چلا کہ یہ باغی کوئی اور نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے نواسے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ہیں جو اپنے خاندان اور چند ساتھیوں کے ہمراہ مکے سے کوفہ جا رہے تھے جب اموی بادشاہ کے ایک بھاری لشکر نے انھیں گھیر لیا اور کربلا میں قیام پر مجبور کردیا۔ یہ باتیں سن کو کارواں میں موجود ایک ہندو برہمن رابیب دت اور اس کے سات بیٹوں اوردو ساتھیوں نے تجارتی کارواں میں اپنے ساتھیوں کو اپنا سامان دیا اور خود سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے کربلا تشریف لے گئے۔

ان لوگوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان کی طرف سے اس جنگ میں شرکت کی۔ رابیب دت کے ساتوں بیٹے بوگندر سکند، راکیش شرما شاس رائے، شیر خا، رائے پن، رام سنگھ، دھارو اور پورو اور دونوں ساتھی  سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرف سے جان قربان کر گئے جبکہ رابیب دت کو گرفتار کیا گیا اور بعد میں شام میں رہا کرکے ان کے قافلے والوں کے سپرد کردیا گیا جو اس وقت وہیں موجود تھے۔

جب رابیب دت واپس پہنچا تو وادی سندھ میں ہندووں کا ایک نیا گروہ پیدا ہوا جس کا نام حسینی برہمن تھا۔ یہ ہندو تھے مگر اپنا تعلق امام حسین سے جوڑتےتھے۔ رفتہ رفتہ یہ مکتبہ فکر برصغیر کے مختلف علاقوں میں پھیل گیا۔ یہ سب ایک ایسی کہانی ہے جسے تاریخ سے ثابت نہیں کیا جاسکتا مگر حسینی برہمن کے نام سے یہ لوگ سندھ اور برصغیر میں موجود ہیں۔

پاکستان میں سندھ اور بھارت میں راجستھان، پنجاب اور مدھیہ پردیش میں حسینی برہمنوں کے کئی خاندان اور ان کے ماننے والے آباد ہیں۔ یہ لوگ دت بھی کہلاتے ہیں۔  عاشورہ کے روز واقعہ کربلا کا نقشہ کھینچتے ہیں، ان کی عورتوں اور بچوں نے بینر اٹھا رکھے ہوتے ہیں جن پر امام حسین اور راہیب کی یاد میں کلامات درج ہوتے ہیں۔ یہ بلند آواز میں یزیدی ظلم کے خلاف نعرے لگاتے ہیں۔ ماتم بھی کرتے ہیں، بلیڈ سے اپنا سینہ اور زنجیروں سے کمر کو زخمی کرتے ہیں اور نذر نیاز بھی دیتے ہیں۔

معروف ادیب انتظار حسین  لکھتے ہیں کہ وہ ابتدا میں حسینی برہمن کو صرف ایک افسانہ سمجھتے تھے۔ اس لئے انھوں نے دہلی کے ایک سفر میں کسی محفل میں یہ بات سنی اور اس کو ایک کہانی قرار دے کر جھٹلا دیا۔ وہیں اس محفل میں ایک خاتون مدبر پروفیسرنونیکا دت  اٹھی اور انھوں نے کہا کہ وہ خود حسینی برہمن ہے اور ان کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ بعد میں اپنے ساتھ اپنے بزرگوں کے بارے میں لکھی گئی دو انگریزی کی کتابیں بھی لے کر آئیں جو بہت عرصہ پہلے شائع ہوئی تھیں۔ خاتون نے بتایا کہ ان کے جد امجد راہیب دت اپنے سات بیٹوں اور دو دوسرے برہمنوں کے ساتھ مل کر ہندوستان سے اس مشن میں حصہ لینے گئے تھے۔ ان میں سے ایک یعنی راہیب دت بچ کر واپس آئے۔ وہ افغانستان کے راستے ہندوستان میں داخل ہوئے اور سیالکوٹ کے ایک گاؤں ورن ورتن  کے مقام پر آباد ہوئے۔ ان کے ماننے والے سندھ اور پنجاب میں رہتے تھے۔ تقسیم کے بعد ان کے بعض خاندان بھارت چلے گئے اور مختلف شہروں میں پھیل گئے۔ اس نے مزید بتایا کہ مشہور فلمی اداکار سنیل دت کا تعلق بھی انہی حسینی برہمنوں کے خاندان سے ہے جس کی تصدیق فلمی اداکار منوج کمار نے بھی کی۔ بلکہ نرگس کے آباٰو اجداد بھی پہلے حسینی برہمن تھے بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ راہیب دت واپسی پر اپنے ساتھ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا ایک بال مبارک بھی لے کر آئے تھے۔ جو کشمیر میں کسی جگہ موجود ہے۔ انتظار حسین نے نونیکا دت سے پوچھا کہ گویا آپ لوگ مسلمان ہوگئے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ ہرگز نہیں۔ ہم ہندو برہمن ہی ہیں مگر حسینی ہونے کے ناطے ہم مندروں وغیرہ میں نہیں جاتے نہ دوسری ہندووانہ رسومات ادا کرتے ہیں اور یہ کہ وہ محرم کے دنوں میں امام حسین علیہ السلام کا ماتم بھی کرتے ہیں اور اپنے شہیدوں کی یاد بھی مناتے ہیں۔

حسینی برہمنوں کے علاوہ بھی برصغیر میں غیر مسلموں میں امام حسین رضی اللہ عنہ سے عقیدت رکھنے کی ایک طویل روایت رہی ہے۔ جھانسی کی رانی مہارانی لکشمی بائی کو امام حسین سے غیر معمولی عقیدت تھی۔ وہ بڑے خلوص و عقیدت کے ساتھ عاشورہ کے دن مجلس عزا برپا کرتی تھی۔  مہارانی کی قائم کردہ مجلس کو قائم رکھتے ہوئےاب تک جھانسی پولیس کوتوالی میں مجلس عزا منعقد کراتی ہے۔

اودھ  میں غازی عباس کا پہلا علم مغلیہ فوج کے ایک راجپوت سردار دھرم سنگھ  نے اٹھایا۔ لکھنئو کی عزاداری کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ محرم کی مجلسوں اور جلوسوں میں ہندوﺅں کی شرکت و عقیدت ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا ایک ایسا نمونہ ہے جس نے قومی یکجہتی اور ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ایک ہندو عقیدت مند جگن ناتھ اگروال نے لکھنئو کا مشہور روضہ کاظمین تعمیر کروایا تھا۔ لکھنئو کے ٹھاکر گنج محلے میں ایک عزا خانہ قائم ہے جسے نواب آصف الدولہ کے دور میں راجہ جھائولال نامی ایک ہندو نے تعمیر کروایا تھا۔ راجہ بلاس رائے اور راجہ ٹکیل رائے نے بھی عزاخانے تعمیر کرائے اور ان میں علم اور تعزیے رکھے۔ گوالیار کے ہندومہاراجاﺅں کی امام حسین سے عقیدت خصوصی طور پر قابل ذکر ہے جو ہر سال ایام عزا کا اہتمام بڑی شان و شوکت سے کرتے تھے۔ مدھیہ پردیش کے علاقہ گونڈوانہ کے ضلع بیتول میں بلگرام خصوصًا بھاریہ نامی قصبہ میں ہریجن اور دیگر ہندو خواتین و حضرات امام حسین سے بے پناہ عقیدت و محبت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنے اہم اور ضروری کاموں میں کامیابی کے لئے حسین بابا کا تعزیہ اٹھانے کی منت مانتے ہیں۔

پورے برصغیر میں ہندو عقیدت مند مسلمان عقیدت مندوں کے ساتھ شریک عزا ہوتے ہیں۔ کہیں ہندو حضرات عزاداروں کے لئے پانی و شربت کی سبیلیں لگاتے ہیں تو کہیں عزاخانوں میں جا کر اپنی عقیدتوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں اور اپنی منتیں بڑھاتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عقیدت مند ہندو خواتین اپنے بچوں کو علم اور تعزیوں کے نیچے سے نکال کر حسین بابا کی امان میں دیتی ہیں۔

آندھراپردیش کے لاجباڑی ذات سے تعلق رکھنے والے اپنے منفرد انداز میں تلیگو زبان میں دردناک لہجہ میں پر سوز المیہ کلام پڑھ کر کربلا کے شہیدوں کو اپنی عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح راجستھان کی بعض ہندو ذات کے لوگ کربلا کی جنگ کا منظرنامہ پیش کرتے ہیں اور ان کی عورتیں اپنے گاﺅں کے باہر ایک جلوس کی شکل میں روتی ہوئی نکلتی ہیں۔ یہ عورتیں اپنی مقامی زبان میں یزیدی ظلم پر اسے کوستی ہیں اور اپنے رنج وغم کا اظہار اپنے بینوں کے ذریعے کرتی ہیں۔ راجستھان میں ہندوﺅں کی عزاداری کا اندازا اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ مہاراجے جو ہندو سوراج کے لقب سے جانے جاتے تھے، شب عاشور سر و پا برہنہ نکلتے تھے اور تعزیہ پر نقدی چڑھایا کرتے تھے۔

 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *