• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • اہلیانِ پاکستان کی وابستگیاں اور لہو لہان پیٹھ۔۔۔۔ بلال شوکت آزاد

اہلیانِ پاکستان کی وابستگیاں اور لہو لہان پیٹھ۔۔۔۔ بلال شوکت آزاد

SHOPPING
SHOPPING

شش منہ بند ورنہ فرقہ واریت جاگ جائے گی۔۔۔۔ایران پھر بے نقاب۔ ۔ ۔

“فرقہ وارانہ” دہشتگردوں سے جے آئی ٹی کی تفتیش مکمل۔دوران تفتیش دہشتگردوں کے سنسنی خیز انکشافات!

ایران میں “دہشت گرد نیٹورک” کا لیڈر “رجب” تھا، جے آئی ٹی میں انکشاف۔

“رجب” کو “موصل” کے کوڈ ورڈ سے پکارا جاتا تھا، جے آئی ٹی میں انکشاف۔

“عسکری تربیت”, تہران کے “سرکاری کیمپ” میں دی گئی، جے آئی ٹی میں انکشاف۔

“عسکری تربیت” آغا داود اور حیدر نامی استاد دیتے ہیں، جے آئی ٹی میں انکشاف۔

“دہشتگردوں کی فنڈنگ” کے لیئے دو خواتین ملوث ہونے کا جے آئی ٹی میں انکشاف۔

حیدر نامی “دہشتگرد کی بیوی” مہ جبین کے اکاونٹس سے بھی فنڈز ٹرانسفر ہوتے رہے، جے آئی ٹی میں انکشاف۔

معروف لیبارٹری, “عیسی لیب” کا ملازم بھی گروہ کا رکن نکلا لیبارٹری ملازم “کامران نقوی” نے دو افراد “قتل” کروائے، جے آئی ٹی میں انکشاف۔

ملزم حیدر عرف پولیس والا نے “پولیس کا کھانچہ سسٹم” بے نقاب کر دیا, جے آئی ٹی میں انکشاف۔

حیدر عرف پولیس والا بغیر چھٹی پانچ سال تک بیرون ملک رہا, جے آئی ٹی میں انکشاف۔

حیدر پولیس والے کی پوری تنخواہ اے ایس آئی رضا نامی اہلکار وصول کرتا رہا, جے آئی ٹی میں انکشاف۔

پانچ سال بعد دہشت گردی میں ملوث اہلکار کو بنا انکوائری پوسٹنگ بھی مل گئی، جے آئی ٹی میں انکشاف۔

یہ باتیں اور انکشافات نئے نہیں اور نہ ہی ایران سے جانبدار احباب کے جوابات اور ترغیبات کوئی نئی بات ہوگی کہ جانے دیں, مت کھولیں یہ ایشو, ہمیں اپنے ہمسائیوں سے بناکر رکھنی چاہیے , رضا شاہ پہلوی دور میں ایران پاکستان دوستی کے واسطے دیئے جائیں گے اور جو کچھ زیادہ ڈھیٹ واقع ہوئے ہونگے وہ سعودیہ سعودیہ کی رٹ لگا کر اصل موضوع مطلب ایرانی دہشتگردی اور دھوکہ دھڑی سے دھیان چرانے کی ناکام کوشش کریں گے۔

آخر کیوں ہم مسلمان نہیں بن جاتے یا کم سے کم کیوں پاکستانی نہیں بن جاتے قولاً فعلاً؟۔۔کیا یہ ضروری ہے کہ ہم پاکستان میں بیٹھ کر لازمی ایک کھونٹا پکڑیں مسلکیت کی بنیاد پر؟۔۔کیا دیگر 53 اسلامی ممالک علاوعہ سعودیہ, ایران اور پاکستان شیعہ سنی نہیں بستے؟۔۔اگر بستے ہیں تو کیا ان 53 ممالک میں بھی وابستگیوں کی یہی صورتحال ہے؟۔۔نہیں میرا مطلب آخر کیسے؟۔۔۔

اور کیوں ہم ایرانی, سعودی اور افغانی تقسیم میں بٹ کر ایک دوسرے کا گریبان کھینچیں؟اب کیا جواب ہوگا حامیان ایران کا اس خبر اور انکشافات پر؟

کہ اب بھی بل سعودیہ پر پھاڑ کر صرف نظر کیا جائے گا اور ایران سے گلے شکوے کرنے والوں کو ناصبی خارجی کا عنوان دیکر بلاوجہ کی مسلکی جنگ شروع کی جائے گی؟۔۔آخر کونسی وجہ ہے کہ ہم ایران کے ان خنجروں کو پیٹھ سے نکال کر پھر اس کو گلے لگانے آگے بڑھ جائیں جو اس نے ہی گھونپے ہیں۔

افسوس کہ ایران کی عوام ایرانی ہے پاکستانی نہیں, اسی طرح سعودیہ کی عوام سعودی ہے پاکستانی نہیں اور اسی طرح افغانستان کی عوام بھی افغانی ہے پاکستانی نہیں پر واحد پاکستانی عوام ہے جو بیک وقت ایرانی, سعودی اور افغانی ہے پر پاکستانی نہیں۔

SHOPPING

افسوس صد افسوس اہلیان پاکستان پر۔

SHOPPING

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *