• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ٹونٹی گرینڈ سلیمز کی برابری پر بِگ تھری کو خراج تحسین(2،آخری حصّہ)۔۔احمد خلیق

ٹونٹی گرینڈ سلیمز کی برابری پر بِگ تھری کو خراج تحسین(2،آخری حصّہ)۔۔احمد خلیق

رافیل نڈال

وطن: اسپین

tripako tours pakistan

عمر: 35

ورلڈ رینکنگ: 3

کیریئر ٹائٹلز: 88

گرینڈ سلیمز: 20 (1 آسٹریلین اوپن، 13 فرنچ اوپن، 2 ومبلڈن، 4 یو ایس اوپن)

بڑے ٹائٹلز: 57 (20 گرینڈ سلیمز، 36 اے ٹی پی ماسٹرز 1000، 1 اولمپک گولڈ)

پیشہ وارانہ انعامی رقم: 125 ملین ڈالرز

مجموعی کمائی (انعامی رقم اور اشتہارات): 480 ملین ڈالرز

  • 13 فرنچ اوپن ٹائٹلز: یہ کسی بھی مرد و عورت کی جانب سے سب سے زیادہ جیتا گیا ٹورنامنٹ ہے جو نڈال کے نام ہے، اور اسی بنا پر اسے ‘کنگ آف کلے’ کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے مارگریٹ کورٹ نے 11 دفعہ آسٹریلین اوپن جیت رکھا تھا۔
  • کسی بھی ایک گرینڈ سلیم کے سب سے زیادہ مقابلے جیتنے کے اعزاز میں نڈال فیڈرر کے ہم پلہ ہے۔ فیڈرر کے ومبلڈن کی طرح نڈال نے بھی فرنچ اوپن میں 105 مقابلے جیت رکھے ہیں، یعنی اس طرح یہ دونوں اس اعزاز میں برابر ہیں۔
  • 36 اے ٹی پی ماسٹرز 1000 ٹورنامنٹ: اس وقت نڈال جوکووچ کے ساتھ سب سے زیادہ یہ ٹورنامنٹس جیت کر برابر ہے۔ گرینڈ سلیمز اور اے ٹی پی فائنلز کے بعد یہ سب سے بڑے مقابلے سمجھے جاتے ہیں۔

نوواک جوکووچ

وطن: سربیا

عمر: 34

ورلڈ رینکنگ: 1

کیریئر ٹائٹلز: 85

گرینڈ سلیمز: 20 (9 آسٹریلین اوپن، 2 فرنچ اوپن، 6 ومبلڈن، 3 یو ایس اوپن)

بڑے ٹائٹلز: 61 (20 گرینڈ سلیمز، 5 اے ٹی پی فائنلز، 36 اے ٹی پی ماسٹرز 1000)

پیشہ وارانہ انعامی رقم: 8۔150 ملین ڈالرز

مجموعی کمائی (انعامی رقم اور اشتہارات): 430 ملین ڈالرز

  • 9 آسٹریلین اوپن ٹائٹلز: اوپن ایرا جو 1968 سے شروع ہوا میں اب تک جوکووچ نے آسٹریلین اوپن سب سے زیادہ بار جیت رکھا ہے۔ مجموعی طور پر آسٹریلیا کی مارگریٹ کورٹ نے یہ ٹورنامنٹ گیارہ دفعہ جیت رکھا ہے مگر ان میں سے سات بار اوپن ایرا سے پہلے کی بات ہے۔
  • ڈبل کیریئر گرینڈ سلیمز: جوکووچ اوپن ایرا کا واحد کھلاڑی ہے جس نے تمام گرینڈ سلیم کم از کم دو دفعہ جیت رکھے ہیں۔ جوکووچ کے خانے سے ایک فرنچ اوپن کم تھا جو اس نے اس سال سیمی فائنل میں نڈال اور اور فائنل میں سٹسیپاس کو ہرا کر حاصل کر لیا ہے۔
  • ڈبل کیریئر گولڈن ماسٹرز: اسی طرح جوکووچ وہ واحد کھلاڑی ہے جس نے تمام اے ٹی پی ماسٹرز 1000 ٹورنامنٹس کم از کم دو دفعہ اپنے نام کر رکھے ہیں۔ اس معاملے میں فیڈرر اور نڈال دونوں پیچھے ہیں جنھوں نے تمام نو کے نو ٹورنامنٹس نہیں جیت رکھے، بلکہ دونوں کے کیریئر میں سے دو دو ٹورنامنٹس کم ہیں۔
  • اے ٹی پی رینکنگز میں سب سے زیادہ ہفتے نمبر 1 پر: جوکووچ کے پاس سب سے زیادہ ہفتے نمبر 1 رینکنگ پر رہنے کا اعزاز بھی ہے۔ اس سے پہلے یہ اعزاز راجر فیڈرر کے پاس تھا جو 310 ہفتے تک نمبر 1 رینکنگ پر رہا تھا لیکن اب ومبلڈن کے اختتام تک جوکووچ کو 329 ہفتے ہو چکے ہیں کہ وہ نمبر 1 حاصل کیے ہوئے ہے۔
  • 6 بار سال کے اختتام پر نمبر 1 رینکنگ: اس اعزاز میں جوکووچ پیٹ سیمپراس کے ساتھ شریک ہے۔ دونوں چھے چھے بار سال کے اختتام پر نمبر 1 رینک کھلاڑی رہے ہیں۔ جوکووچ یہ اعزاز آرام سے اس سال یا اگلے کسی سال میں اپنے نام کر سکتا ہے۔

گرینڈ سلیمز ریکارڈ:

 Djokovic  Nadal  Federer
 Aus. Open  9 (82)  1 (69)  6 (102)
 Roland Garros  2 (81)  13 (105)  1 (73)
 Wimbledon  6 (79)  2 (53)  8 (105)
 US Open  3 (75)  4 (64)  5 (89)

 

 Djokovic  Nadal  Federer
  Age*  34 (W ’21)  34 (RG ’20)  36 (AO ’18)
 Slams Played*  65  60  72
 Win-Loss %*   87.6%   87.9%   86.5%
 Most Consec. Finals  6  5  10
 Most Consec. Titles  4  3  3 (twice)
 Slams Played at 1st Title  13  6  17
 GS W-L v Djokovic  n/a  10-7  6-11
 GS W-L v Nadal  7-10  n/a  4-10
 GS W-L v Federer  11-6  10-4  n/a

ATPTour.com

 

اجتماعی کارکردگی:

انفرادی کارکردگی کے علاوہ اگر اجتماعی سطح پر بھی جائزہ لیا جائے تو اس تکون نے قیامت ڈھائی ہوئی ہے۔ آئیے ہم ان میں سے چند شماریات کو دیکھتے ہیں:

  • آخری 72 گرینڈ سلیمز میں سے 60 ان کے نام رہے ہیں جو 83 فیصد بنتا ہے۔
  • مجموعی طور پر اس تکون نے 12 یو ایس اوپن اور 16 16 آسٹریلن اوپن، فرنچ اوپن اور ومبلڈن جیت رکھے ہیں۔
  • ان تینوں میں سے کوئی ایک 29 بار دوسرے نمبر پر آیا ہے۔ اس طرح 89 بار کوئی نہ کوئی فائنل میں ضرور پپہنچا ہے۔ اگر ہم اس کو اور نیچے تک لے جائیں تو آخری 18 میں سے 17 آسٹریلین اوپن، 17 میں سے 17 فرنچ اوپن، 18 میں 17 ومبلڈن اور 17 میں سے 15 یو ایس اوپن میں کوئی ایک نہ ایک فائنل میں کھیلتا ہوا نظر آیا ہے۔
  • فیڈرر نے 369 گرینڈ سلیمز مقابلے جیت رکھے ہیں، جوکووچ 317 کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ نڈال نے 291 کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ جیتنے ہارنے کی شرح فیڈرر کی 5۔86، نڈال کی 9۔87 اور جوکووچ کی 6۔87 فیصد ہے۔
  • تینوں 80 سے زیادہ اے ٹی پی ٹائٹلز جیت چکے ہیں۔ فیڈرر 102 کے ساتھ آگے ہے، نڈال 88 پر ہے جبکہ جوکووچ 85 کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
  • انھوں نے 18 لگاتار گرینڈ سلیمز جیت رکھے ہیں، فرنچ اوپن 2005 سے لے کر ومبلڈن 2009 تک ان کے علاوہ کوئی نہیں جیتا۔ اسی طرح 2010 آسٹریلین اوپن سے لے کر 2012 ومبلڈن تک 11 مسلسل اور پھر 2017 آسٹرلین اوپن سے لے کر 2020 آسٹریلین اوپن تک لگاتار 13 ٹائٹلز ان کے نام رہے ہیں۔
  • ان تینوں میں سے کوئی ایک 2004 سے لے کر 2020 تک (ماسوائے 2016 کے) سال کے اختتام پر نمبر 1 رینک کھلاڑی رہا ہے۔
  • فیڈرر، نڈال اور جوکووچ تینوں کیرئیر گرینڈ سلیم کے حامل کھلاڑی ہے۔ جوکووچ ڈبل کیریئر گرینڈ سلیم کا اعزاز رکھتا ہے، جو اوپن ایرا کا ریکارڈ ہے۔
  • تینوں اے ٹی پی ماسٹرز 1000 ٹائٹلز کی دوڑ میں بھی سب سے آگے ہیں۔ نڈال اور جوکووچ 36 36 ٹائٹلز کے حامل ہیں جبکہ فیڈرر 28 پر کھڑا ہوا ہے۔ ان کے بعد آندرے آگاسی نے محض 17 جیت رکھے ہیں۔
  • اے ٹی پی فائنلز چیمپیئن شپ میں 2003 سے لے کر 2015 تک 13 میں سے 11 بار ان تینوں میں سے کوئی ایک کامیاب رہا ہے، بلکہ زیادہ صحیح طور پر فیڈرر اور جوکووچ میں سے کوئی ایک فاتح ٹھہرا ہے۔ فیڈرر چھے بار اور جوکووچ پانچ بار یہ ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
  • اس تکون نے نہ صرف اپنی کارکردگی اور کھیل سےاپنا بلکہ ملک کا نام بھی روشن کیا ہے۔ 2008ء کے بیجنگ اولمپکس میں نڈال نے اسپین کے لیے گولڈ میڈل حآصل کیا، جبکہ فیڈرر نے (وارنکا کے ساتھ مل کر) ڈبلز میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ فیڈرر اور جوکووچ نے ڈیوس کپ میں کھلیتے ہوئے پہلی پہلی بار سوئزرلینڈ اور سربیا کو کامیابی سے ہمکنار کرایا جبکہ نڈال کے اعزاز پر اسپین کو کو پانچ بار فاتح ٹھہرانے کا سہرا ہے۔
  • گرینڈ سلیمز جیتنے میں تو یہ سب آگے اور برابر ہیں ہی گرینڈ سلیمز کے فائنل میں پہنچنے کے حساب سے بھی سب سے آگے ہیں۔ فیڈرر 31، جوکووچ 30 اور نڈال 28 فائنلز میں اب تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔
  • یہ واحد تکون ہے جس نے کوئی ایک گرینڈ سلیم 8 یا زائد مرتبہ جیت رکھا ہے۔ نڈال نے 13 بار فرنچ اوپن، جوکووچ نے 9 بار آسٹریلین اوپن اور فیڈرر نے 8 مرتبہ ومبلڈن اپنے نام کر رکھا ہے۔
  • ‘تین بڑوں’ نے فروری 2004 سے لے کر نومبر 2016 تک اے ٹی پی نمبر 1 رینکنگ پر راج کیا ہے، اور پھر اگست 2017 سے لے کر تاحال نمبر 1 پر براجمان ہیں۔ یہ 848 ہفتے یعنی قریبا 16 سال کا عرصہ بنتا ہے۔
  • جوکووچ کو نمبر 1 رینکنگ پر ریکارڈ 329 ہفتے ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی آگے چل رہا ہے۔ فیڈرر 310 ہفتوں تک نمبر 1 پر رہا ہے جو سابقہ ریکارڈ تھا جبکہ نڈال 209 ہفتوں تک نمبر 1 پر قابض رہا ہے۔ تینوں کھلاڑی کم از کم پانچ بار سال کے اختتام پر نمبر 1 رینک رہے ہیں، جن میں سے جوکووچ 6 بار کے ساتھ آگے ہے اور سیمپراس کے ساتھ ریکارڈ برابر کیے ہوئے ہے۔

 

مابین مقابلہ جات:

کچھ بات تینوں کے آپس میں ہونے والے مقابلوں کی ہو جائے۔ ان تینوں کی مسابقت کو ٹینس کی تاریخ کی سب سےعظیم ترین مسابقتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ تینوں کے مابین اب تک 148 مقابلے ہو چکے ہیں جن میں سے 71 فائنلز تھے۔ پھر 48 مقابلہ جات گرینڈ سلیمز میں ہوئے ہیں اور ان میں سے 23 دفعہ آمنا سامنا فائنل میں ہوا ہے، جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے کہ کوئی تکون اتنی مرتبہ فائنل میں نہیں ٹکرائی۔ان 23 فائنلز میں سے 11 نڈال نے جیتے ہیں جبکہ جوکوچ اور فیڈرر کے حصے پر بالترتیب 8 اور چار مقابلے ہیں۔ اسی طرح یہ واحد تکون ہے کہ جس کے ہر دو ممبران کے درمیان کم از کم 40 سے زیادہ مقابلے کھیلے جا چکے ہیں۔ فی الوقت جوکووچ کو اپنے دونوں حریفوں پر مجموعی طور پر سبقت حاصل ہے۔

جوکووچ بمقابلہ نڈال:

جوکووچ اور نڈال اب تک 58 مرتبہ ایک دوسرے کا سامنا کر چکے ہیں۔ یہ اوپن ایرا کا ریکارڈ ہے۔ اس مسابقت میں جوکووچ کو 30-28 سے سبقت حاصل ہے۔ لیکن اگر گرینڈ سلیمز کی بات کی جائے تو ابھی تک نڈال 10-7 سے آگے ہے۔

جوکووچ بمقابلہ فیڈرر:

دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ مرتبہ جوکووچ اور فیڈرر آپس میں ٹکرائے ہیں۔ ان کے درمیان 50 مرتبہ ٹینس کا مقابلہ ہو چکا ہے، جس میں جوکووچ کو 27-23 سے برتری حاصل ہے۔ اگر گرینڈ سلیمز کی بات کی جائے تو یہاں بھی جوکووچ کو 11-6 سے سبقت حاصل ہے۔

نڈال بمقابلہ فیڈرر:

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے دوسرے نصف میں فیڈرر اور نڈال کی مسابقت کا راج رہا تھا۔ جوکووچ اس مسابقت میں دیر سے شامل ہوا اور پھر دونوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ بہرحال نڈال اور فیڈرر اب تک 40 مرتبہ آمنے سامنے آ چکے ہیں جن میں سے نڈال 24 میں فاتح ٹھہرا ہے جبکہ 16 میں اسے شکست ہوئی ہے۔ گرینڈ سلیمز ریکارڈ کو دیکھا جائے تو یہاں بھی نڈال کو اپنے حریف فیڈرر پر 10-4 سے واضح سبقت حاصل ہے۔

 

یادگار تاریخی مقابلے:

جس طرح ان “تین بڑوں” کی مسابقت عظیم ترین ہے، اسی طرح ان کے مابین ہونے والے کئی مقابلے بھی تاریخ میں امر ہے اور انھیں عظیم ترین کا درجہ دیا جاتا ہے۔ آئیے ہم ان میں سے چند ایک پر مختصرا نظر ڈالتے ہیں:

ومبلڈن 2008ء فائنل

ٹینس کے بعض پنڈتوں کے نزدیک یہ ٹینس کی تاریخ کا عظیم ترین مقابلہ تھا جس میں اس وقت کے نمبر 2 سیڈ رافیل نڈال نے نمبر 1 سیڈ راجر فیڈرر کو اس کے گھر میں پہلی دفعہ شکست کا مزا چکھایا۔ 4 گھنٹے اور 48 منٹ کے ریکارڈ ساز ومبلڈن فائنل میں نڈال نے 6-4، 6-4، 6-7، 6-7 اور 9-7 سے فتح حاصل کی۔ اس مقابلے کی عظمت کے اعتراف میں ایک باقاعدہ ڈیڑھ گھنٹے کی ڈاکومینٹری “اسٹروکس آف جینیئس” (Strokes of Genius) کے نام سے 2018ء میں بن چکی ہے۔

آسٹریلین اوپن 2012ء فائنل

گرینڈ سلیمز کی تاریخ کا طویل ترین مقابلہ کہ جس میں نمبر1 سیڈ نوواک جوکووچ نے نمبر 2 سیڈ رافیل نڈال کو اعصاب شکن مقابلے کے بعد شکست دی۔ بعض تجزیہ کار اسے بھی عظیم ترین مقابلہ گردانتے ہیں جو 5 گھنٹے اور 53 منٹ تک جاری رہا۔ جوکووچ کی فتح کا اسکور 5-7، 6-4، 6-2، 6-7 اور 7-5 رہا۔ یہ مقابلہ دونوں کھلاڑیوں پر اتنا بھاری رہا کہ مقابلے کے اختتام پر دونوں کھڑے ہونے کے قابل بھی نہیں رہے اور اختتامی تقریب میں ان کے لیے باقاعدہ کرسیاں رکھی گئیں تاکہ وہ بیٹھ کر آرام کر سکیں۔

ومبلڈن 2019ء فائنل

ومبلڈن کی تاریخ کا طویل ترین فائنل اور مجموعی طور پر دوسرا طویل ترین فائنل کہ جس میں ایک بار پھر نمبر 1 سیڈ جوکووچ نے نمبر 2 سیڈ فیڈرر کو شکست سے دوچار کیا۔ اس سنسنی خیز مقابلے کا دورانیہ 4 گھنٹے اور 57 منٹ رہا۔ جوکووچ کی جیت کا اسکور 7-6، 1-6، 7-6، 4-6 اور 13-12 رہا۔ یہ پہلا ومبلڈن ٹورنامنٹ تھا جس میں پانچویں سیٹ میں 12-12 پر ٹائی بریک متعارف کرایا گیا تھا اور پہلے ہی فائنل میں اس سے فائدہ اٹھایا گیا۔ پانچویں سیٹ میں ایک موقع پر فیڈرر کو ڈبل چیمپیئن شپ پوائنٹس حاصل کرنے کا موقع ملا لیکن جوکووچ نے اپنے اعصاب قابو میں رکھے اور دونوں پوائنٹس اپنے حق میں کرتے ہوئے مقابلہ ٹائی بریک تک لے گیا اور وہاں جا کر جیت گیا۔ جوکووچ نے ثابت کیا کہ اسے بجا طور پر “دی وال” (The Wall) کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔

فرنچ اوپن 2013ء سیمی فائنل

کلے کورٹ پر کھیلا جانے والا عظیم ترین مقابلہ اور چند بڑے مقابلوں میں سے ایک جس میں کلے کورٹ کنگ نڈال نے اعصاب شکن اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد جوکووچ کو زیر کیا۔ مقابلہ 4 گھنٹے اور 37 منٹ تک جاری رہا جس میں نڈال کی فتح کا اسکور 6-4، 3-6، 6-1، 6-7 اور 9-7 رہا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب نڈال کو اس کو قلعے میں ہرانا قریب قریب ناممکن سمجھا جاتا تھا اور اب تک اسے صرف ایک شکست ہوئی تھی۔ جوکووچ یہ معرکہ سرانجام دینے کے قریب تھا لیکن نڈال نے اپنے اعصاب قابو میں رکھے اور مقابلہ اپنے حق میں کیا اور اس طرح کسی حد تک 2012ء آسٹریلین اوپن فائنل کی ہار کا بدلہ بھی چکا دیا۔

ومبلڈن 2018ء سیمی فائنل

یوں معلوم ہوتا ہے جیسے تاریخ کے چند عظیم اور بڑے مقابلے ومبلڈن میں ہونے طے پائے گئے ہیں۔ 2008ء اور 2019ء کے فائنلز کی طرح 2018ء کا یہ سیمی فائنل بھی تاریخ کے نقوش میں انمٹ ہے کہ جس میں انجری سے واپس آنے والے جوکووچ نے نمبر 1 سیڈ نڈال کو انتہائی دلچسپ مقابلے کے بعد شکست سے دچار کیا۔ 5 گھنٹے اور 16 منٹ تک جاری رہنے والے اس مقابلے میں جوکووچ نے نڈال کو 6-4، 3-6، 7-6، 3-6 اور 10-8 سے مات دی اور فائنل تک رسائی حاصل کی۔

کون ہو گا “گوٹ” عظیم ترین۔۔۔؟؟

یہ وہ سوال ہے کہ جو تینوں کے مداح اپنے اپنے انداز میں دیتے ہیں۔ مگر ماہرین، ناقدین، تجزیہ کاروں اور سابقہ کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد فارم، فٹنس، کھیل اور عمر کو دیکھتے ہوئے نوواک جوکووچ کو اس اعزاز کے لیے پسندیدہ قرار دیتی نظر آتی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔۔۔!! لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم ان “تین بڑوں” کے ممنون احسان ہیں کہ انھوں نے ہمیں ٹینس کی تاریخ کا سنہرا ترین دور دیا ہے جس کے دوبارہ آنے کی امید بہت کم ہے۔

چلیے اپنا رخ یو ایس اوپن کی طرف کرتے ہیں اور بے چینی سے انتظار کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس تکون میں سے وہ کون ہے جو سب سے پہلے اکیسواں گرینڈ سلیم جیتنے کا اعزاز حاصل کرتا اور اپنے دیرینہ حریفوں کو پیچھے چھوڑتا ہے ۔ ۔ ۔

Advertisements
merkit.pk

(نوٹ: تمام شماریات اور ریکارڈز 11 جولائی 2021ء ومبلڈن فائنل تک کی تاریخ سے لیے گئے ہیں)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply