نوری سال۔۔۔محمد یاسر لاہوری

نوری سال

اردو میں نوری سال اور انگلش میں Light year جسے عموما ly بھی لکھا جاتا ہے۔روشنی ایک سیکنڈ میں تین لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ایک دن میں چھیاسی ہزار چار سو 86400 سیکنڈز ہوتے ہیں۔ایک دن میں روشنی پچیس ارب بانوے کروڑ کلومیٹر کا سفر طے کر جاتی ہے۔پچیس ارب بانوے کروڑ کو جب ہم سال کے تین سو پنسٹھ 365 دنوں سے ضرب دیں گے تو جواب ہو گا چورانوے 94 کھرب کلومیٹر۔روشنی ایک سال میں جتنا فاصلہ طے کرتی ہے اسے نوری سال کہا جاتا ہے۔

tripako tours pakistan

میں اس وقت کمپیوٹر ٹیبل کے قریب ہی بیٹھا ہوں۔۔۔اگر میں اپنے اور کمپیوٹر ٹیبل کے درمیان والے قلیل سے فاصلے کو سینٹی میٹر cm یا ملی میٹر mm کے پیمانے سے ناپتا ہوں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔لیکن اگر میں ان نہایت چھوٹے پیمانوں (سینٹی میٹر یا ملی میٹر) سے ماسکو Moscow (روس کے شہر) سے جوہانسبرگ (افریقہ کے شہر) تک 9000 نو ہزار کلومیٹر کا لمبا فاصلہ ناپنے لگ جاؤں تو یہ دماغ اور جان کو کھپا دینے والا کام ہو گا۔

جب تک ہم اپنے نظام شمسی کے اندر موجود فاصلوں کو ناپتے ہیں تو ہمیں ان پیمائشوں کے لئے کلومیٹر اور میل کا پیمانہ کافی رہتا ہے لیکن جب ہم اپنے نظام شمسی سے باہر نکل کر ستاروں کے درمیانی فاصلوں کو ناپنا چاہیں گے تو یہ اتنی زیادہ دوری اور لمبے فاصلے ہوں گے کہ یہاں کلومیٹر یا میل کا پیمانہ بالکل ایسے محسوس ہو گا جیسے کہ روس سے افریقہ تک کے راستے کی پیمائش سینٹی میٹر یا ملی میٹر سے کی جائے۔

مثال کے طور پر ہمارے سورج کے بعد ہماری زمین سے قریب ترین ستارہ ایلفا سینٹوری Alpha Century ہے۔یہ ہم سے چار اعشاریہ پچیس 4.25 ly نوری سال کی مسافت پر ہے۔یہ اتنا زیادہ فاصلہ ہے کہ “ایک ایسا خلائی جہاز جس کی رفتار 60000 km/h ساٹھ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہو۔۔۔وہ خلائی جہاز بغیر کسی وقفے کے 76000 چھہتر ہزار سال تک اسی رفتار سے چلتا رہے تب جا کر یہ خلائی جہاز ہمارے پڑوسی ستارے ایلفا سینٹوری تک پہنچے گا۔

(یاد رہے وائجر ون خلائی جہاز اسی رفتار سے ہمارے پڑوسی ستارے کی طرف جا رہا ہے۔اسے زمین سے اڑان بھرے کم و بیش چار دہائیاں ہو چکی ہیں، ان بیالیس سالوں میں وہ ہم سے اکیس 21 ارب کلومیٹر سے بھی زیادہ دور جا چکا ہے)

روشنی ایک سیکنڈ میں تین لاکھ کلومیٹر 300000km کا سفر طے کرتی ہے۔جو کہ ایک سال میں تقریبا ساٹھ کھرب میل کا فاصلہ بنتا ہے۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے سورج کا پڑوسی ستارہ ایلفا سینٹوری ہم سے کم و بیش دو سو پچپن 255 کھرب کلومیٹر دور ہے۔

اس اکائی یا اس پیمانے کو نوری سال ہی کیوں کہا جاتا ہے؟
در اصل رات کے آسمان پر ہم جو کچھ بھی دیکھتے ہیں چاہے وہ ستارے ہوں یا سیارے، کہکشائیں ہوں نیبیولا اصل میں ہم ان کی طرف سے آئی روشنی کی وجہ سے ہی انہیں دیکھ پاتے ہیں۔

مثال کے طور پر میں 2018 میں اپنی دور بین سے اینڈرومیڈا گلیکسی Andromeda Galaxy (اینڈرومیڈا گلیکسی ہم سے پچیس لاکھ نوری سال دور ہے) کودیکھتا رہا ہوں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب بھی میں اینڈرومیڈا کو دیکھتا ہوں تو در اصل میں پچیس لاکھ سال پیچھے ماضی میں دیکھ رہا ہوتا ہوں۔

اس بات کو مزید آسانی سے سمجھتے ہیں۔
غالب گمان یہ ہے کہ آپ میری یہ تحریر اپنے موبائل کی سکرین پر پڑھ رہے ہوں گے۔اب آپ کے موبائل کی سکرین اور آپ کی آنکھوں کے درمیان کم و بیش آٹھ سے دس انچ کا فاصلہ تو ہو گا ہی۔اب اگر میں یہ کہوں کہ آپ موبائل کو دیکھتے ہوئے بھی ماضی میں ہی دیکھ رہے ہیں تو میری یہ بات غلط نہیں ہو گی۔
وہ کیسے؟

موبائل کی سکرین آپ کو کیوں نظر آ رہی ہے؟
اس سوال کا جواب ہو گا کہ “کیوں کہ وہ روشن ہے”
ہوا یہ کہ موبائل کی سکرین سے روشنی کی لہریں نکلیں اور سفر کرتے ہوئے آپ کی آنکھ سے ٹکرائیں، آنکھ میں موجود قدرتی سینسرز اور پچیدہ نظام نے اس روشنی کو تصویر بنا کر آپ کو یہ تحریر دکھائی جو آپ پڑھ رہے ہیں، لیکن یہ آٹھ دس انچ کا فاصلہ روشنی کی رفتار کے لحاظ سے اتنا کم ہے کہ اس پر صَرف ہونے والے ٹائم کو نکالنا انتہائی مشکل کام ہو گا۔روشنی ایک سیکنڈ میں اتنا لمبا فاصلہ طے کر جاتی ہے کہ اس فاصلے میں سے آٹھ دس انچ کے فاصلے پر لگنے والا ٹائم انتہائی قلیل ہو گا۔لیکن یہ بات حتمی ہے کہ آپ اپنے موبائل سکرین پر نظریں جمائے ہوئے ماضی میں ہی دیکھ رہے ہیں۔ایسے ہی ہم آسمان پر نظر آنے والے ہر فلکیاتی جسم کو دراصل اس کی ماضی والی حالت میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔یہ ذہن میں رہے کہ روشنی ہماری کائنات کی (اب تک کی تحقیقات کے مطابق) سب سے تیز رفتار چیز ہے۔

کائنات کتنی وسیع ہے؟
یہ بات علم میں رہے کہ سورج کے بعد ہم سے قریب ترین ستارہ ایلفا سینٹوری ہے جو کہ ہم سے 4.25 نوری سال دور ہے۔لیکن انسان کی بنائی ہوئی جدید دوربینوں کی نظریں بہت آگے تک جا چکی ہیں۔اب تک کی سب سے دوری والی کہکشائیں جو جدید دوربینوں نے دریافت کی ہیں وہ ہم سے چودہ سو کروڑ نوری سال (14 Billion ly) کی مسافتوں پر واقع ہیں۔

یعنی اگر ہم سب سے دور والی کہکشاؤوں تک جانا چاہیں اور ہمارے پاس کوئی ایسی سواری ہے جس کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہو تو ہمیں اس آخر میں نظر آنے والی کہکشاؤوں تک پہنچنے کے لئے کم و بیش چودہ ارب سال لگ جائیں گے۔یہ کائنات، اس کے نظارے اور اس کی مسافتیں ہمیں ہر دم ہر لمحہ حیرتوں کے سمندر میں غوطہ زن کئے رکھتی ہیں۔کبھی وقت ملے تو غور ضرور کیجیے گا کہ جس کائنات میں ہم رہ رہے ہیں، یہ کائنات ہم سے کیا کہنا چاہتی ہے؟ میں نے تو جب بھی اس کائنات پر غور کیا ہے تو مجھے اس کائنات کے دور دراز کے گوشوں سے آئی ہوئی یہی سرگوشیاں سنائی دی ہیں کہ “یہ پُرتجسس کائنات غور فکر کئے جانے کے لئے ہی تخلیق کی گئی ہے”

وائجر ون خلائی جہاز کے متعلق وضاحتی آرٹیکل نیچے لنک میں

https://m.facebook.com/groups/2100179193327606?view=permalink&id=2229163140429210

ستارہ ایلفا سینٹوری کے متعلق تفصیل سے پڑھنے کے لئے نیچے دیا گیا لنک اوپن کریں

https://m.facebook.com/groups/2100179193327606?view=permalink&id=2244946552184202

Avatar
محمد یاسر لاہوری
محمد یاسر لاہوری صاحب لاہور شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بہت عرصہ سے ٹیچنگ کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سائنس، فلکیات، معاشرتی بگاڑ کا سبب بننے والے حقائق اور اسلام پر آرٹیکلز لکھتے رہتے ہیں۔ جس میں سے فلکیات اور معاشرے کی عکاسی کرنا ان کا بہترین کام ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *