• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جب امیدیں ٹوٹتی ہیں تو غصہ بہت آتا ہو گا، ہے نا وزیر اعظم صاحب۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

جب امیدیں ٹوٹتی ہیں تو غصہ بہت آتا ہو گا، ہے نا وزیر اعظم صاحب۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

اور بالآخر سانپ پٹاری سے باہر نکل ہی آیا۔ پچھلے 4/5 سال سے کراچی کے ساحل سے 230کلو میٹر کے فاصلے پر واقع انڈس جی بلاک میں دریافت کئے جانے والے کنوئیں ’’کیکڑا۔ون‘‘ میں 5،500 میٹر کی کھدائی کے بعد مزید ڈرلنگ بند کر دی گئی۔ وزیر اعظم عمران خاں کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ڈاکٹر ندیم بابر نے ایک معروف ٹیلی ویژن چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ڈرلنگ سے حاصل شدہ مواد کے لیبارٹری ٹیسٹ کی رپورٹ ڈائریکٹر جنرل پٹرولیم کو بھیج دی گئی ہے۔ اس ڈرلنگ پر 14 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالرز یعنی پاکستانی 15 ارب روپے تقریباً  کی لاگت آئی اور نتائج میں نہ تیل نکلا اور نہ ہی گیس نکلی۔

جس وقت مشیر پٹرولیم ڈاکٹرندیم بابر ٹیلی ویژن چینل کو یہ خبر سے رہے تھے، عین اُسی وقت وزیر اعظم پاکستان عمران خاں پشاور میں خطاب کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ قوم بڑی خوش خبری کا انتظار کرے۔ ہم کراچی سمندر میں جس کنویں کی کھدائی کر رہے ہیں، اُس سے اتنی گیس نکلےگی کہ پاکستان کو اگلے 50 سال تک کہیں سے گیس اور تیل منگوانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔اس سے پہلے عمران خان کی نا اہل اور ناکارہ ٹیم کے وزراء ہر ٹیلی ویژن چینل پر دعوے کرتے رہے تھے کہ بس چند دنوں کی بات ہے، اُس کے بعد ملک میں لہریں بہریں ہو جائیں گی۔ تیل اور گیس کے اتنے بڑے ذخائر نکلیں گے کہ ملک کے سارے قرضے ایک، دو سالوں میں ادا کر کے ہم دوسروں کو قرضے دیا کریں گے۔

’مکالمہ‘ پر ہی لکھے اپنے 16 اپریل کے کالم  “۔سمندر کی گہرائیوں میں چھپا ہوا کالا سونا یا ایک سراب میں راقم نے عرض کیا تھا کہ:-

’’کیکڑا ون سائیٹ پر پریشر ککس کا بھی بڑا شور ہے اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہ زیر زمین تیل و گیس کے غیر معمولی دباؤ کی وجہ سے ہے۔ پریشر ککس کو سمجھنے کے لئے احباب تصور کریں کہ چار پانچ ہزار میٹر مٹی سے دبی چٹانوں میں مائعات (تیل، پانی یا گیس) پھنسے ہوتے ہیں اور جب کھدائی کے دوران اوپر کی پرت ادھڑتی ہے تو یہ مائع پوری قوت سے کنویں کے راستے اوپر کی طرف اٹھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لئے پانی میں مختلف کیمیکل ملا کر نیچے پمپ کیا جاتا ہے جسے کیچڑ یا Mud کہتے ہیں۔ کیچڑ کی کمیت بڑھانے کے لئے اس میں وزن دار کیمیکل جیسے بیرائٹ ملایا جاتا ہے جس کی وجہ سے کیچڑ بھاری ہو جاتا ہے۔ کیچڑ سے زیر زمین پڑنے والے دباؤ کو Hydro static Pressure کہتے ہیں۔ جبکہ زیر زمین اوپر کی جانب دباؤ Formation Pressure کہلاتا ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ Hydro static Pressure زیر زمین دباؤ سے اتنا زیادہ تو ہو کہ چٹانوں میں پھنسا مائع اوپر کی جانب سفر نہ کر سکے لیکن اتنا زیادہ بھی نہ ہو کہ اس کے دباؤ سے زیر زمین چٹانیں ٹوٹ پھوٹ جائیں۔ زیرزمین دباؤ کے تخمینے میں بسا اوقات غلطی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے Pressure Kicks کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیکڑا-1 میں بھی جس Pressure Kicks کی جو بات کی جا رہی ہے وہ اسی قسم کی ایک چیز ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ پانی کی Kick ہو۔ اس لئے تحریک انصاف کی حکومت کو بہت زیادہ خوش فہمیاں نہیں پالنی چاہئیں‘‘۔اور بدقسمتی سے بالآخر وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

مگر اس سارے عمل میں حیران کُن امر یہ ہے کہ ٹیلی ویژن چینل 24 میں ڈاکٹر ندیم بابر کے حوالہ سے چلنے والے ٹاک شو میں کیکڑا ون سے حاصل مواد میں تیل اور گیس نہ مل سکنے کی لیبارٹری رپورٹ ڈائریکٹر جنرل پٹرولیم کو مہیا کر دی گئی تھی تو بیوروکریسی نے اس کی اطلاع وزیراعظم عمران خاں کو کیوں نہیں دی۔ وہ کیونکر پشاور میں خطاب کرتے ہوئے شرکاء کو اچھی خبر ملنے کی امیدیں دلواتے رہے۔ کسی نے انہیں یہ تک نہیں بتایا کہ کیکڑا ون پر تو اب کھدائی بھی بند ہو چکی ہے۔ کیا ڈاکٹر ندیم بابر معاون خصوصی پٹرولیم جھوٹ بول رہے ہیں یا وزیر اعظم پاکستان جھوٹ بول رہے تھے۔ اگر ڈاکٹر ندیم بابر سچ بول رہے تھے تو بھی انہیں فوراً  اس عہدے سے اس وجہ سے ہٹا دینا چاہیے  کہ انہوں نے وزیراعظم کو بروقت اس معاملہ پر رپورٹ کیوں نہیں کیا۔ اگر ڈاکٹر ندیم جھوٹ بول رہے ہیں تو انہیں اس وجہ سے عہدے سے ہٹا دینا چاہئے کہ انہوں نے اتنا بڑا جھوٹ کیسے بول دیا اور اس کے پیچھے کس کس ہاتھ ہے؟۔ بالفرض ان میں سے کچھ بھی غلط نہیں ہوا اور چینل 24 نے جھوٹ بولا ہے تو اس کے خلاف سخت ترین کاروائی کر دیجئے کہ اُس نے جان بوجھ کر قوم میں بددلی اور مایوسی پھیلانے کی سازش کی۔

باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شاید پورے پاکستان کے خلاف کاروائی کر دیں گے مگر ڈاکٹر ندیم بابر کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے سکیں گے کیونکہ وہ کابینہ میں جہانگیر ترین کے کوٹہ سے شامل ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر ندیم بابر ہیں جو سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے 86 کروڑ روپے کے نادہندہ ہیں۔ مسلم لیگ نون کے پچھلے دارالحکومت میں ڈاکٹر ندیم بابر قائد اعظم سولر پاور پارک اور لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے معاملات میں بھی ملوث رہے ہیں۔ اس کے علاوہ لندن کا آربٹریشن کورٹ (ثالثی عدالت) بھی ڈاکٹر ندیم بابر کے خلاف فیصلہ دے چکا ہے۔

عمران خاں عامۃ الناس کو بہت زیادہ امیدیں اور خواب دکھا کر اقتدار میں آئے ہیں۔ ملک میں جاری 72 سالہ کرپشن، اقربا پروری کی وجہ سے ملک کے تمام ادارے شکست و ریخت اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ کسی ادارہ میں کوئی اہلکار کام کرنے کو تیار نہیں ہے اور اگر بدقسمتی سے وہ کسی کام کرنے کی حامی بھر بھی لیتا ہے تو اُس کے لئے وہ رشوت مانگتا ہے۔ داخلہ، خارجہ، دفاع، پٹرولیم، صنعت، حرفت، طب، تعلیم، قانون، انصاف، شعور، آگاہی، سماجیات، جبر، ریونیو، لینڈ، پٹوار، خواتین کے مسائل، درآمدات و برآمدات، بین المذاہب ہم آہنگی، اقلیتوں کے حقوق، معاشرت، بہبود، فلاح، مساوات، ایوان، تفتیش، تحقیقات، سمندری تجارت، دہشت گردی، ہوا بازی، رجسٹریشن، خوراک، پانی و بجلی، ریلوے، شاہرات، جنگلات، ٹیکس، ادب، فنون لطیفہ، ثقافت، زبان، اطفال، مذہب، گروہی مساوات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قدیمیت، جدیدیت، وغیرہ سے متعلق پاکستان میں اس وقت جتنے بھی ادارے، وزارتیں، ڈویژن، مکمل شعبہ جات، ذیلی شعبے کام کر رہے ہیں یا قائم ہیں ان میں سے کوئی ایک ادارہ بھی ایسا نہیں ہے جو آج کے دن پاکستان میں اپنا فرض مکمل ادا کر رہا ہو اور اپنی کارکردگی سے عوام کی امنگوں پر پورا اترتے ہوئے ان کی امیدوں کا محور بن پایا ہو؟۔ ان حالات میں ٹیم کا انتخاب سفارش اور اقربا پروری سے کرتے رہنے سے مسائل پر قابو پانا ناممکنات میں سے ہے۔

جس طرح کیکڑا ون سے تیل اور گیس نہ نکلنے کی وجہ سے وزیراعظم کی امیدوں کا چراغ گل ہوا اور انہیں اس ناکامی پر مایوسی بھی ہوئی ہوگی اور شاید بہت غصّہ بھی آیا ہو کہ کیوں بروقت انہیں اس ناکامی کی اطلاع نہیں دی گئی، بالکل ٹھیک اُسی طرح عامۃ الناس بھی انسان ہیں، جذبات رکھتے ہیں اور امیدوں کے ٹوٹنے پر شدید غم و غصہّ کا شکار بھی ہوتے ہیں۔ کیکڑا ون سے تیل یا گیس نہیں نکلی، کوئی بات نہیں۔ معیشت کی بحالی کے لئے نااہل مشیروں اور خصوصا’’ ترین، خٹک جیسوں سے چھٹکارا حاصل کر کے اہل افراد کی ٹیم بنائیے۔ کامیابی مشکل ضرور ہے مگر نا ممکن نہیں۔ اگر وزیراعظم کے پاس ایسا سخت فیصلہ لینے کی جرأت نہیں ہے تو پھر یہ یاد دہانی کروانا لازم ہے کہ جن مظلوموں کی امیدیں ٹوٹتی ہیں تو ان کا ردعمل بھی بہت سخت ہو گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *