چلتے چلتے ۔ ۔ ۔راو قاسم اقبال

اقبال بڑا اپديشک ہے من باتوں ميں موہ ليتا ہے
گفتارکا يہ غازی تو بنا ،کردار کا غازی بن نہ سکا

علامہ صاحب نے تو خودی کو بلند کرنے کے لیے خوداحتسابی کی گنجائش نکالی تھی. کہ اقبال ھے تو اپدیشک جو باتوں کا غازی ھے کردار کا نہیں بن سکا. مگر موجودہ زمانے میں تو جسے دیکھو گفتار کے ساتھ ساتھ (بزعمِ خود) کردار کا غازی بھی کہلواتا ہے. اور ستم بالائے ستم یہ ھے کہ گفتار و کردار کے ان غازیوں کو درباری بھی ایسے ھی میسر ھیں جو نہ صرف بادشاہ سلامت کی ھاں میں ھاں ملانے والے بلکہ بادشاہ کو معصوم عن الخطا ثابت کرنے والے ھیں. پاکستانی سیاست ھی دیکھ لیں، نواز شریف صاحب کے چاھنے والوں کو وہ ایشیاء کے ڈیگال لگتے ھیں، کرپشن سے ان کا دامن بالکل گدلا نہیں ، دامن گدلا ھو بھی کیسے سرف ایکسل جو استعمال کرتے ھیں، اور اگر گدلا پن ڈھیٹ ھو تو دامن ھی جلا دیتے ھیں , دامن پر دھبا نہیں لگنے دیتے. کیونکہ ان کو گمان ہے کہ
ع. دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

نواز شریف صاحب کے چاھنے والوں کو لگتا ھے کہ پاکستان کو اگر کوئی شخص چاند پر پہنچا سکتا ھے تو وہ صرف حضرت مدظلہ امیر المومنین ھی ھیں حالانکہ یہ کام زرداری صاحب اپنے دور حکومت میں بخوبی انجام دے چکے ھیں،

کینیڈا والی سرکار آئی تو انہیں اور ان کے خواص کو لگا کہ بس اب پاکستان کو کینیڈا بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا. انھیں خواب میں بشارت ملی ھے کہ پاکستان جاؤ وہاں لوگ وقت کے مہدی کے منتظر ملیں گے، پھر اندر ہی اندر کوئی ایسی کھچڑی پکتی ھے کہ کینیڈا والی سرکار کھچڑی سمیت غائب…

ایک ھمارے پیارے خان صاحب ھیں جنہوں نے پی ایم والی شیروانی سلوا کے رکھی ھوئی ھے مگر امپائر ھے کہ انگلی کھڑی نہیں کر رھا، اس پہ سے ستم بالائے ستم ان کو احباب بھی ایسے میسر ھیں کہ بس رھے نام اللہ کا، ایک صاحب مشہور و معروف گدی نشین مسجود ملائک، عوام سے نذرانے وصول کرکر کے خود تخت تک پہنچ گئے اور عوام بیچاری:-

ھم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ھے روشن

لگتا تو نہیں، مگر خان صاحب کو لگتا ھے کہ اب رائےونڈ کی طرف مارچ کرتے ھیں اگر امپائر انگلی نہ بھی کھڑی کرے تو تبلیغی مرکز میں جا کر دعا کریں گے اور آسمان سے قطار اندر قطار فرشتے مدد کو اتر آئیں گے پھر ہم تم ھوں گے، شیروانی ھوگی رقص میں سارے برگر ھوں گے.

حضرت میر نے بھی پتہ نہیں کس “دھیان” میں فرمایا تھا
سارے عالم پر میں ھوں چھایا ھوا
مستند ھے میرا فرمایا ھوا

وہ تو حضرت میر تھے مگر آج کل تو شہر کا شہر ہی مستند فرماتا ھے وہ بھی تنقید سے بالاتر اور تو اور اپ اختلاف کی جسارت بھی نہیں کر سکتے ورنہ غدار، لفافہ بند، جمہوریت دشمن یہاں تک کہ شہید کر دئیے جاتے ھیں…

شہید سے یاد آیا اب تو شہادت بھی ایک ٹریڈمارک ھے کامیابی و کامرانی کا آخرت کا تو پتا نہیں دنیا میں تو …….

بھٹو فیملی کو ھی دیکھ لیں خیر سے اوپر سے نیچے تک سبھی شہید جمہوریت ھیں. اور شہید تو پھر ھوتا ھی زندہ ھے خاص طور پر الیکشن کے دنوں میں…

رھے نام اللہ کا

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *