• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مارکسزم اور جدیدیت / ترقی کی جدلیات و تضادات(قسط1)۔۔۔کامریڈ بشارت عباسی

مارکسزم اور جدیدیت / ترقی کی جدلیات و تضادات(قسط1)۔۔۔کامریڈ بشارت عباسی

ہم جب بھی کسی نظریہ کے متعلق بات کرتے ہیں تو پہلا سوال یہی ذہن میں آتا ہے کہ آخر جس نظریے کے متعلق بات کی جا رہی ہے ،وہ ہے کیا؟ ۔
تو بحث کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ واضح کر لیا جائے کہ آخر مارکسزم کیا ہے؟ ویسے تو مارکسزم کی کئی شاخیں اور رجحانات ہیں اور ہر ورائٹی کی اپنی ہی تشریح یا ڈیفینیشن ہے، اور یہ بھی لازم نہیں کہ جو تشریح میں دینے جا رہا ہوں اس پہ سبھی دوست متفق بھی ہو جائیں، کیونکہ مارکسزم صرف ایک فلسفہ برائے فلسفہ نہیں بلکہ ایک عملی فلسفہ ہے اور عمل ہمیشہ سیاسی اور سماجی ہوتا ہے اس لیے اس سے مختلف سیاسی رجحانات رکھنے والے دوست مارکسزم کی مختلف تشریحات کو ماننے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب تشریحات درست ہیں؟ اگر سب لوگ مارکسزم کی مختلف تشریحات کرتے ہیں تو اس بات کا کیا پیمانہ ہوگا کہ کون صحیح تشریح کر رہا ہے اور کس کی تشریح کو صحیح مانا جائے؟ مارکسزم صرف ایک عملی فلسفہ نہیں بلکہ ایک تنقیدی عملی فلسفہ ہے، یعنی ہم تنقید کو عمل سے علیحدہ نہیں کرسکتے، تو گویا یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ماکسزم میں تنقید اور عمل کا ایک جدلیاتی اور نامیاتی تعلق ہے۔ اس کا مطلب مارکسزم ہمیں اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ ہم اپنے سیاسی اور نظریاتی نقطہ نظر کو بغیر تنقیدی عمل سے گزارنے کے قبول نہ کریں، اور اسی عمل کو ریڈیکل ازم کہا جاتا ہے، یعنی تنقید کا عمل ہمیشہ اپنے سیاسی عقائد و نظریات سے شروع کرنا چاہیے (baptism of self-criticism)۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا کہ مارکسزم ایک عملی فلسفہ ہے، اور تنقید اس کا لازمی جز و اس لئے ہے کہ کیا وہ نظریاتی سیاست، جس پہ آپ عمل پیرا ہیں، وہ آپ کو آزادی کی طرف لے کے جاتی ہے یا نہیں؟ مطلب تنقید کا ماخذ ہمیشہ انسانی آزادی ہی ہوگا۔ لیکن مارکسزم کس آزادی کی بات کرتا ہے اور اس آزادی کا سماجی ترقی سے کیا تعلق ہے؟ آئیے ہم اسی نقطے سے آغاز کرتے ہیں۔
یورپی جدیدیت کا آغاز فیوڈل دور کے اپنے اندرونی معاشی اور سیاسی تضادات کے نتیجے میں ہوا- یورپ مین 1347-1353 کے درمیان آنے والے طاعون (Bobanic plague/ black death ) کی وجہ سے کروڑوں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے اور یورپ کی فیوڈل معیشت پہ اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے (یہ اسی طرح کی ایک وبا تھی جس کا سامنا آج پوری دنیا کو ہے اور ہم موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات پہ بات کر رہے ہیں، اور مارکسزم کو بھی ایک لحاظ سے تضادات کی سائنس ہی کہا جاتا ہے، کیونکہ مارکسزم یہ کہتا ہے کہ تضادات کے بغیر انسانی سماج میں تبدیلی اور ترقی ناممکن ہے)، بہرحال اس طاعون کی وجہ سے جتنی اموات ہوئیں اور معیشت کی تباہی ہوئی، اس نے ایک جدید یورپ کی بنیاد ڈالی اور جو یورپ پہلے ہی اپنے اندرونی و بیرونی تضادات کا شکار تھا (جیسا کہ یورپ کے ایشیا کے ساتھ تمام تجارتی راستے مسلم ایمپائرز کے ہاتھوں میں تھے اور یورپ معاشی اعتبار سے چین، ہندوستان، اور عثمانی سلطنت سے بہت پیچھے تھا) اس طاعون نے ان تضادات کو اور تیز کر دیا اور آنے والی صدیوں میں انگلینڈ اور فرانس کی سو سالہ جنگ، ہولی رومن ایمپائر کا کمزور ہونا اور ٹوٹنا، یورپ میں نشاة ثانیہ کا آغاز، پرنسلی اسٹیٹس کا قیام، کسان بغاوتیں، پروٹسٹنٹ ریفارمیش، لبرل سیاسی انقلابات اور روشن خیالی کے دور کا آغاز وغیرہ۔پروٹسٹنٹ ریفارمیشن کے نتیجے میں یورپ میں دو طرح کی تبدیلیاں سامنے آئیں، ایک معاشی تبدیلی جس کے نتیجے میں یورپ کے اندر ایک نئے تاجر طبقے عروج (جنہیں بورژوازی یا شہری متوسط طبقہ بھی کہا جاتا ہے ہے) ہوا جس نے ریفارمیشن کے نتیجے میں اس طبقے نے ریاست کو معیشت سے علیحدہ کر کے اوائلی سرمایہ دارانہ نظام یا (primitive accumulation ) کا آغاز کیا۔ اور دوسری تبدیل سیاسی تھی جس میں اسی بورژوازی تاجر طبقے نے دوسرے شہری متوسط طبقے (جس میں شہری پیشہ ورانہ افراد شامل تھے) کے ساتھ مل کر سیاسی انقلابات کا آغاز کیا جن کا مقصد ایک ایسا سیاسی نظام وجود میں لانا تھا جو کہ نئی معاشی اور سماجی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور ان طبقات کی سیاسی نمائندگی بھی کے۔ ان انقلابات میں بورژوازی طبقے نے نچلے طبقات کو بھی اپنے ساتھ ملایا (displaced peasants who later became the urban proletariat classes) اور ان کو اپنے سیاسی ایندھن کی طرح استعمال کیا۔
اوپر بیان کردہ ان تمام تر معاشی، سماجی، و سیاسی انقلابات کا سفر نہایت ہی پیچیدہ تھا اور اس کے نتیجے میں کروڑوں لوگ مارے گئے۔ تاریخ میں اس طرح کی ٹرانسفارمیشنز کبھی سموتھ نہیں ہوتیں بلکہ خونریز ہوتی ہیں۔ صرف پروٹیسٹنٹ ریفارمیشن اور اس کے بعد یورپ میں ٣٠ سالہ جنگ میں ہی ٨٠ لاکھ سے ایک کروڑ لوگ مارے گئے۔ اس کے بعد انگلش اور فرانسیسی انقلابات میں بھی لاکھوں کی تعداد میں لوگ مارے گئے۔ تاریخ میں ترقی و تبدیلی کے انہی تضادات کو تاریخ کی جدلیات کہا جاتا ہے جسے پہلے ہیگل نے اپنے خیال پرستانہ فلسفے میں بیان کرنے کی کوشش کی اور پھر مارکس ہیگل کی خیال پرستانہ اور مابعدطبیعاتی فلسفہ کو رد کر کے اس کی جدلیات کو مادی انداز میں پیش کیا۔ اسی وجہ سے مارکسی فلسفے کو جدلیاتی اور تاریخی مادیت بھی کہا جاتا ہے (جس کا تفصیل سے آگے جائزہ لیں گے)۔
افکار کی تبدیلی اور معروضی حالات کی تبدیلی کا ایک جدلیاتی تعلق ہوتا ہے، نئے معروضی حالات انسان کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں اور اس نئی سوچ کے نتیجے میں میں انسان اپنے معروضی حالات کی نہ صرف تشریح کرتا ہے بلکہ وہ ان نئے افکار کے نتیجے میں معرروض پر اثر انداز ہونے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ اور یہی جدید یورپ میں بھی ہوا۔ ایک طرف یورپ میں اوپر بیان کی گئی معاشی، سماجی اور سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور دوسری طرف جدید فکر و فلسفے نے نہ صرف ان معروضی تبدیلیوں کی تشریح کرنے کی کوشش کی بلکہ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں وجود میں آنے والے ایک نئے انسان (جو کہ بورژوازی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد تھے) کی نہ صرف تشریح کی بلکہ نیا نظریہ انسان بھی دیا، جسے ہم انسان پرستی یا انسان دوستی کا فلسفہ بھی کہتے ہیں (bourgeoisie humanism)۔ اس نئے انسان دوست فلسفہ کی بنیاد فرانسیسی فلسفی ڈیکارٹ نے رکھی۔ ڈیکارٹ اپنے فلسفے کی بنیاد کائنات یا خدا پہ نہیں رکھی بلکہ اس کی بنیاد انسانی شعور یا self consciousness پہ رکھی۔ اور یہیں سے انسانی آزادی و خودمختاری کے فلسفے کا آغاز ہوا۔ اس نئے انسان دوست فلسفے کے مطابق باشعور انسان وہی ہے جو تمام تر مذہبی، گروہی، نسلی، لسانی، اور جغرافیائی تعصبات سے بالاتر ہو۔ اس انسان دوست فلسفے کو abstract and historical humanism بھی کہا جاتا ہے جس کا influence ہمیں روشن خیالی کے تمام تر فلسفوں میں نظر آتا ہے (یعنی ڈیکارٹ سے لے کر کانٹ تک)۔ اس فلسفے میں بظاہر انسان کا ایک آفاقی اور غیر تاریخی نظریہ نظر آتا ہے لیکن اصل میں یہ ایک یورپین بورژوازی نظریہ انسان تھا اور ہیگل وہ پہلا فلسفی تھا جس نے اس فلسفے کے بورژوازی نظریے کو بے نقاب کیا اور اسے آفاقی نظریے کے بجائے یورپی تاریخیت کی پیداور بتایا۔
بہرحال ایک طرف یورپ میں اس نئے بورژوازی انسان پرست اور انسان دوست فلسفے کا آغاز ہوا تو دوسری طرف یورپ میں پیدا ہونے والے نئے سرمایہ دار طبقے نے ایک نئے معاشی نظام کی بنیاد ڈالی جس کا آغاز آزادانہ تجارت، جدید سودی بنکاری، اور اندسٹریل پروڈکشن سے ہوا۔ اس سرمایہ دارای نظام کے نئے mode and relations of production کا تقاضا یہ تھا کہ خام مال اور بیرونی اشیاء صرف کے حصول کے لئے نئ منڈیاں تلاش کی جائیں اور نئے بحری راستے تلاش کئے جائیں جن کے ذریعے ھندوستان، چین، اور مشرق بعید کی منڈیوں تک رسائی ممکن ہو، بری راستے، جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا کہ مسلم سلاطین کے قبضے میں تھے اس لئے بحری راستے کا انتخاب ہی واحد حل تھا۔ اور پھر ہم نے دیکھا کہ نہ صرف ھندوستان کی مندی تک بحری رسائی کا راستہ تلاش کر لیا گیا، بلکہ اسی جستجو میں بر اعظم امریکہ بھی دریافت ہو گیا۔ مغرب کی ان تجارتی کمپنیوں نے پہلے تو آزادانہ تجارت کا آغاز کیا پھر آہستہ آہستہ ان کو احساس ہوا کہ ان مشرقی سلاطین کے اندرونی تضادات اتنے گہرے ہیں کہ ان پہ قبضہ کر کے ان کو نو آبادیات (colonies) میں تبدیل کیا جاسکتا ہے اور پھر ان سے آزاد تجارت کے بجائے ان کی لوٹ کھسوٹ کی جاسکتی ہے۔ پھر جیسا کہ ہم جانتے ہیں مغرب نے تقریباً پوری دنیا کو کالونائز کر لیا۔ بر اعظم امریکہ، آسٹریلیا، اور نیوزی لینڈ میں تو انہوں نے وہاں بسنے والے لوگوں کی نسل کشی ہی کر دی، بر اعظم افریقہ کے بیشتر علاقوں کو نہ صرف کالونائز کیا بلکہ افریقہ کے سیاہ فام لوگوں کو غلام بنا کر یورپ اور امریکہ لے جایا گیا اور ان کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا گیا۔ ہندوستان آہستہ آہستہ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے میں آتا چلا گیا اور مقامی حکمرانوں کو ایک کے بعد ایک شکست ہوتی چلی گئی۔ کمپنی نے ہندوستان کا تمام استحصال اور لوٹ کھسوٹ کرنا شروع کردی اور یہاں سے لوٹا ہوا مال انگلستان جانا شروع ہو گیا۔ اس ساری نسل کشی، قتل و غارت، لوٹ مار اور استحصال کو بورژوازی انسان پرستی اور پروٹسٹنٹ عیسائیت کی فکر کے ذریعے جسٹیفائی کیا گیا۔ بورژوا انسان پرستی کا مطلب یہ تھا کہ صرف یورپین نسل کے گورے لوگ ہی حقیقی معنوں میں انسان ہیں اور باقی دنیا کے لوگ جو نہ پروٹسٹنٹ عیسائی ہیں اور نہ ہی ان کے اندر یورپی انسان دوستی کا فلسفہ موجود ہے لہذا نہ صرف ان کا استحصال جائز ہے بلکہ ان کو غلام بنانا اور ضرورت پڑنے تو مار دینا بھی جائز ہے۔ غیر یورپی لوگوں کو وہ سب ہیومن کہتے تھے اور ان کی زمین کو خالی زمین (Terra Nullius) کہتے تھے کیونکہ ایک تو یہ زمین کسی انسان کی نہیں اور یہاں کے سب ہیومن لوگ ذاتی ملکیت کے انسانی حق (human right of private property) کو نہیں مانتے۔ تو طے یہ ہوا کہ غیر یورپی لوگ نہ ہی انسان تھے اور نہ ہی وہ انسانی حقوق پہ مبنی قوانین کو مانتے ہیں، لحاظہ ان کے ساتھ ہر غیر انسانی سلوک جائز ہے کیونکہ یہ لگ انسان کی ڈیفینیش میں آتے ہی نہیں۔ یہ تھی اصل حقیقت یورپی انسان پرست فلسفے کی (اگر آپ لوگوں کو اوپر بتائی ہوئی کسی بات پہ بھی شک ہو تو میرے پاس بے شمار حوالہ جات موجود ہیں)۔۔۔ یورپ کے اسی کالونئل ازم کی وجہ سے ہی یورپ اور اس کے سرمایہ دارانہ نظام نے ترقی کی (The development and progress of Europe not only depended on the exploitation of the European proletariat but also on the colonialism, loot and plunder, enslavement and genocide of the non-western colonies )
اب ہم آ تے ہیں یورپ کے اندرونی تضادات کی طرف : جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ پروٹسٹنٹ ریفارمیش کے بعد یورپ میں جو لبرل سیاسی انقلابات آئے اس کے نتیجے میں پرانے کیتھولک بادشاہتوں کا خاتمہ ہوا (انگلستان اور فرانس میں) اور ایک نئے عمرانی معاہدے کا آغاز ہوا (فرانسیسی انقلاب تو رد انقلاب کا شکار ہو گیا اور نپولین کی شکست کے بعد بربن بادشاہت کو ریسٹور کر دیا گیا) اور نئے قوانین بنائے گئے جن کی بنیاد بورژوا انسانی حقوق کی بنیاد پر رکھی گئی یعنی زندگی، آزادی، اور نجی ملکیت کے حقوق۔ یورپ کے اندر اس بورژوا ٹرانسفارمیش کے نتیجے میں کیتھولک عیسائیت سیاسی طور پہ کمزور ہوئی، پرانی بادشاہتوں کی سر پہ عوامی انقلابات کا خطرہ منڈلانے لگا، پرانے فیوڈل سماجی ڈھانچے اور ریلیشنز بدل گئے اور یورپین سماج میں ایک نیا تضاد جنم لینے لگا، اور وہ تضاد تھا بورژوا اور پرولتاریہ طبقے کے درمیان۔ یہ پرولتاریہ کا طبقہ وہی peasant طبقہ تھا جو مذکورہ بالا معاشی اور سیاسی اتھل پتھل کے نتیجے میں displace ہوا اور شہروں میں دیہاڑی دار مزدور کے طور پہ کام کرنے لگا اور انتہائی کم اجرت پہ روزانہ تقریباً 18 گھنٹے کام کر کے اپنا گزر سفر کرنے پر مجبور ہوا۔ بورژوا طبقے نے پرولتاریہ طبقے کے اس بہیمانہ استحصال کو بھی اپنے انسان پرست فلسفے سے جسٹیفائی کیا کہ یہ پرولتاریہ طبقہ چونکہ ان پڑھ اور جاہل ہے اور اس کے پاس اپنی ذاتی ملکیت بھی نہیں (اور یہ دونوں شرائط انسان یعنی بورژوازی انسان ہونے کے لئے لازمی تھین) اس لئے ان کا غیر انسانی استحصال جائز ٹھہرا۔ بورژوازی سماج اور فلسفے کے اسی تضاد نے نئے سوشلسٹ فلسفوں اور نظریات کو جنم دیا جو کہ اس بورژوازی سماج اور اس کی نام نہاد انسان دوست فلسفے کے تضادات کو واضح کرتا چلا گیا۔ ان اوائلی سوشلسٽ نظریات کو یوٹوپیائی سوشلزم کہا جاتا ہے، یوٹوپیائی اس لئے کہ ان کے پاس بوژوا سماج پہ تنقید تو تھی لیکن مستقبل کے لئے کوئی واضح یا کنکریٹ پروگرام نہ تھا، صرف خیالی خاکے ہی تھے جن کا تاریخ اور موجودہ سماجی ڈھانچے کے ساتھ کو عملی طور پہ بدلنے کا کوئی واضح سیاسی پروگرام نہ تھا۔
کارل مارکس نے جب اپنی شعوری زندگی میں قدم رکھا تو اپنے آپ کو انہی حالات اور جدید سماج کے تضادات میں پایا اور پھر اپنی پوری زندگی انہی تضادات کے خلاف جدوجہد میں گزاری۔ مارکس نے ایک طرف جرمن خیال پرستانہ فلسفے پر تنقید کی دوسری طرف فرانسیسی رپبلکن نظریے اور یوٹوپیائی سوشلسٹون پر تنقید کی تو تیسری طرف برٹش پولیٹیکل اکانومی یعنی سرمایہ دارانہ نظام کی معیشت کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مارکسزم دراصل ان تینوں چیزوں کا مرکب ہے۔ انہی تینوں چیزوں کے مرکب کو جدلیاتی اور تاریخی مادیت کہا جاتا ہے۔ جدلیاتی تاریخی مادیت تاریخ کے ہمہ جہت تضادات کے مطالعے کا نام ہے اور اس مطالعے کا مقصد انسانیت کو ان تضادات سے نجات دلانا ہے۔ وہ تضادات جن کی نوعیت نہ صرف معاشی، سماجی اور سیاسی ہے بلکہ نفسیاتی بھی ہے۔ یعنی موضوعی اور معروضی دونوں، کیونکہ انسان کی غلامی کا تعلق نہ صرف معروضی معاشی، سیاسی اور سماجی ڈھانچے سے ہوتا ہے بلکہ انسان کی نفسیات کے ساتھ بھی ہوتا ہے جو اسی اندرونی اور بیرونی جدلیات کے نتیجے میں وجود میں آ تی ہے اور انسان کو ذہنی محکومیت و غلامی کی طرف لے جاتی ہے۔ مارکسزم کا پورا فلسفہ جدیدیت کے ان تضادات کو حل کرنے کی ایک جدلیاتی جدوجہد کا نام ہے جس میں ایک طرف انسان دوستی/ پرستی، مساوات، اور بھائی چارے کے نعرے ہیں لیکن عملی طور پر ایک طبقے (مغربی بورژوازی) کی حکومت اور دوسری طرف پوری انسانیت کی محکومیت۔ لیکن مارکس کوئی جذباتی یا بیوقوف یوٹوپیائی سوشلسٹ نہیں تھا، وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ دنیا کو صرف جذباتی نعروں کے ذریعے نہیں بدلا جا سکتا ہے، اس کے لئے ایک گہرے سائنسی، سیاسی، معاشی، اور سماجی مطالعہ کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کے بعد ہی دنیا کو تبدیل کرنے کا کوئی عملی حل پیش کیا جاسکتا ہے۔ اور اسی گہرے مطالعہ کے بعد ہی ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کی آنے والی دنیا یعنی سوشلزم کے خدوخال کیا ہوں گے یا کیا ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سوشلزم موجودہ دنیا کی تجریدی نفی کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک جدلیاتی نفی کا نام ہے، جس میں پرانی دنیا کی تمام تر مادی ترقی (جو کہ ظلم جبر اور استحصال کے نتیجے میں حاصل کی گئی ہے) کو اس سوشلسٹ سماج کے اندر شامل کیا جائے گا (سوشلزم پہیئے کو دوبارہ ایجاد کرنے کا نام نہیں، جو کچھ بیوقوف رومانٹک سوشلسٹون کا خیال ہے) اور اس ترقی کے ساتھ جڑے استحصال کو ٹیک سائنسی انداز میں بتدریج ختم کیا جائے گا۔ مارکس کی نظر میں سوشلزم ایک عبوری دور کا نام ہے جس میں سرمایہ دارانہ نظام کے استحصالی تضادات کو عملی اور سائنسی انداز میں ختم کیا جائے گا۔ جب پرانی دنیا کے تمام تضادات ختم ہو جائیں گے اور حاکم اور محکوم کی طبقاتی جنگ کا خاتمہ ہوجائے گا (یعنی طبقات باقی نہیں رہیں گے ) تو سماج ایک نئی معیاری جست کے لئے تیار ہو جائے گا، اور مارکس اس معیاری جست کو کمیونزم کا نام دیتا جو انسانی تاریخ کے ایک نئے، حقیقی جمہوری اور آزاد دور کا آغاز ہوگا۔
مارکس کا خیال تھا کہ یہ سوشلسٹ انقلاب ترقی یافتہ مغربی ممالک میں آئے گا کیونکہ ان ممالک میں طبقاتی تضاد یعنی بورژوا اور پرولتاری طبقہ کے تضادات اپنے عروج پر ہیں، اس لئے انہیں ممالک میں پرولتاری طبقہ بریو طبقہ کے خلاف ایک آرگنائزڈ جدوجہد کرے گا اور سوشلسٹ انقلاب لائے کا۔ لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ سوشلسٹ انقلاب مغربی ممالک کے بجائے روس جیسے پسماندہ ملک میں آیا اور اس انقلاب کے نتیجے میں نئے تضادات سامنے آئے۔ اس تحریر کے دوسرے حصے میں میں انقلاب روس اور مارکسزم لینن ازم پہ تفصیل سے بات کروں گا۔
جاری ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *