بھائیا افضل خان ۔۔۔۔محمدخان چوہدری

عشق کی مثال اُس مٹی کے دیے  کی طرح ہے، جو سارا تیل اپنے اندر جذب کر لیتا ہے،پھر ساری زندگی جب بھی یاد کی دیا سلائی  سے جلایا جائے  تو وہ اپنے آپ کو نچوڑ کے جیوٹ کو تر کر کے جلائے رکھتا ہے۔
میں پہلی بار امریکہ آیا تو بھائیا کو یہاں آئے کوئی  دس سال ہو چکے تھے۔میں ان کے پاس ہی ٹھہرا تھا، سفر کی تھکان ، جیٹ لیک اور نئے ماحول  کی وجہ سے مجھے امریکہ میں   ایڈجسٹ کرنے میں کئی دن لگے۔لیکن بھائیا ذہنی طور پہ  فورا ً چکوال پہنچ گیا۔
گھنٹوں ماضی میں کھویا رہتا، ایک ایک بندے اور ہر ایک جگہ کو یاد کرتا،ان دنوں انکا اپنی کاغذی شادی سے طلاق کا کیس بھی چل رہا تھا،شہریت لینے کے لئے جس امریکی خاتون سے پیپر میرج کی تھی
اس کا تو یہ کاروبار تھا،شوہر کو جب نیشنیلٹی مل جاتی تو وہ علیحدہ ہو جاتی،اور اس وقت کی جائیدا ان میں برابر تقسیم ہو جاتی ۔
یہ عام دستور تھا، بھائیا کو جائیداد کی تقسیم کا تو کوئی  رنج تھا ہی نہیں۔۔۔وہ تو اس خاتون کو ساری ملکیت دینے پہ تیار تھے،
مسئلہ یہ ہوا کہ وہ اسے اپنی حقیقی شریک حیات کی طرح چاہنے لگے تھے۔
میری جاب لگ گئی  اور میں نے گھر لے لیا۔۔اور بھائیا کی علیحدگی سب کچھ ساتھ ساتھ ہی ہو گیا تھا۔
اس وقت میں نے بھائیا کو بہت ہی ناقابل بیان کرب میں پہلی بار دیکھا۔۔۔۔۔
ہماری ملاقات رہتی ہے،میرا پاکستان جانے کا پروگرام انہیں معلوم تھا،روانگی سے ایک دن پہلے وہ ملنے آئے، اور مجھے ایک گفٹ پیک دیا۔
میں نے وصول کنندہ کا پوچھا تو بیٹھے بیٹھے کہیں کھو گئے، میں بھی چُپ چاپ ان کو دیکھتا رہا۔
کافی دیر کے بعد بولے۔۔۔تو مجھے ان کی وہ کرب والی کیفیت یاد آ گئی،وہ میرے سامنے تھے لیکن تھے کہیں اور۔۔
کہنے لگے۔۔
مسعود ٹائم نکال کے میرے گاؤں جانا،لیکن شام کے وقت۔۔۔وہاں بڑے تالاب کے سامنے گراؤنڈ کے کونے پہ  مسجد ہے،اس کے ساتھ گلی میں تین دکانیں ہیں اور ان سے آگے ایک ڈھابہ ہوٹل ہے،گلی میں بنی  کمرہ نما کوٹھڑی میں،جس کے پیچھے چھوٹا سا چھپر اور صحن ہے جہاں تندور لگا ہوا ہے۔۔یہ ڈھابہ چاچے گلستان کا ہے، کسی سے پوچھنا نہیں  پڑے گا،باہر چارپائیاں پڑی ہونگی، سامنے چائے اور ہانڈی پکانے کے چولہے جل رہے ہوں گے،چاچا تمہیں مسجد کے پاس سے ہی  نظر آ جائے گا۔۔۔اسے میرا سلام دے کے تم بس پچھلے صحن میں چلے جانا،وہاں چاچے کی اکلوتی بیٹی زرینہ آٹا گوندھ رہی ہوگی،یا تندور میں روٹیاں لگا رہی ہوگی۔۔
تم انتظار کرنا، جب وہ فارغ ہو کے ہاتھ دھو لے گی نا،تو اسے یہ گفٹ پیک دینا،بلکہ کھول کے پکڑانا وہ تو اسے کھول ہی نہیں  پائے گی،اس میں دو سویٹر ہیں، ایک گرم شال ہے۔۔پتہ ہے جب میں گاؤں سے آ رہا تھا، ناں ۔۔تو سردیاں تھیں۔۔
زرینہ اور میں رات بھر صحن میں چارپائی پہ  ایک پھٹے ہوئے کمبل میں بیٹھے رہے تھے،اسے سردی بہت لگتی ہے۔جو بندہ زیادہ گرم جگہ رہتا ہو اسے ٹھنڈی جگہ ٹھنڈ تو زیادہ لگے گی نا،زرینہ تو رہتی ہی تندور کے پاس ہے۔بس فارغ ہو تو صحن میں چارپائی پہ  لیٹ کے کمر سیدھی کر لیتی ہے،
یار جب میں امریکہ آنے کے لئے،صبح گاؤں سے نکلا تھا ناں۔۔۔۔تو اسے یہ کہہ کے آیا تھا  کہ واپسی پہ  اس کے لئے شال اور سویٹر لے کے آؤں گا۔۔
پتہ ہے اس نے کیا کہا تھا۔۔۔؟
وہ بولی جلدی آ جانا۔۔۔
یہ نہ ہو کہ تم سردی گزار آؤ اور مجھے گرمیوں میں سویٹر پہن کے اوپر شال بھی لینی پڑے،اور گاؤں والے مجھے پھر سے کملی کملی کہنا شروع ہو جائیں۔،
جیسے تمہاری لائی  ہوئی  چوڑیاں پہن کے  تندور میں روٹیاں لگانے سے میری کلائیاں بھسمی ہونے پہ  کہتے تھے۔
مسعود میں نے پہلے ہی بہت دیر کر دی تم اور دیر نہ کرنا۔۔۔اور ہاں وہ میرے لئے میٹھے تندوری پراٹھے پکا کے دے گی،وہ بہت سنبھال کے لے آنا۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *