قرآن کریم۔۔۔شاہد کمال

آئینہ در آئینہ در آئینہ قرآن ہے
مصطفیٰ قرآن ہے اور مرتضیٰ قرآن ہے

جو مشیت کے لبوں پر رقص فرماتا رہا
ہاں وہی رمزِ سکوتِ  ماورا قرآن ہے

کر رہا ہے وہ جو تدوین ِ نصابِ کائنات
سینہء کُن میں وہی حرفِ صدا قرآن ہے

ہے جوازِ خلقتِ  آدم محمد کا وجود
مظہر ِ نورِ جلی نطقِ رَسا قرآن ہے

ہے تصرف میں اُسی کے عالم بودونبود
جس کے لوحِ قلب پر لکّھا ہوا قرآن ہے

جس کے کشکولِ اَبد میں ہے نظام کائنات
ہاں اُسی صبح اَزل کی ابتدا قرآن ہے

وہ محمد ہے عروج آدمیت کا غرور
جس کے ہر موجِ نَفس کی انتہا قرآن ہے

سرنگوں اہلِ عجم ہیں ورفصیحانِ عرب
ساری دنیا کے لئے وہ معجزہ قرآن ہے

ہے کوئی ممکن تولے آئے کوئی اس کا جواب
یو ں تو اک نقطے میں یہ سمٹا ہوا قرآن ہے

اس کو پھیلاؤ تو قدآور علی بن جائے گا
ورنہ اک نقطے میں یوں سمٹا ہوا قرآن ہے

دے رہی ہے یہ شب ِاسریٰ گواہی آج تک
عبد اور معبود میں اک رابطہ قرآن ہے

مصطفیٰ سے گفتگو کرتا ہے اُن کی آل سے
یہ نہ سمجھے کوئی ،بے صوت و صدا قرآن ہے

اُن کی عظمت کے قصیدے اور خالق کی زباں
مدح خوانِ سیرتِ اہل کسا قرآن ہے

جس کے سائے میں پلی ہے عالمِ انسانیت
مختصر یہ ہے کہ وہ لفظ دعا قرآن ہے

آتیوں میں گفتگو کرنے کے اِس انداز سے
اے کنیزے سیدہ حیرت زدہ قرآن ہے

جب علی اصغر کو لے کے آئے خیمے سے حسین
یوں لگا جیسے کہ ہاتھوں پر رکھا قرآن ہے

کربلاکے دشت میں انسانیت تو بچ گئی
کیا ہَوا جو خاک پہ بکھرا ہوا قرآن ہے

جس نے ایک آیت میں بھی ہونے نہ دی تصحیف تک
کربلا کے بعد ممنون عزاقرآن ہے

اَنفس وآفاق کو زیر وزبر کرتا ہے پھر
جب سرِ نوکِ سناں پر بولتا قرآن ہے

نظم ہوتے کاش اس میں قافیے کچھ منفرد
جیسے مصرعے کی ردیفِ بے بہا قرآن ہے

اِس سے تو اغماز کر سکتا نہیں شاہدؔکمال
ذہنی انسانی کا حرف ارتقا قرآن ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *