طاعون ۔۔۔محمد شجاع الدین

پیٹ کی بھوک انسان کو خودکشی جیسے حرام کام پر بھی مجبور کر دیتی ہے لیکن رفاقت علی شہید کی بہادری کو سلام کہ چار ماہ تک تنخواہ نہ  ملنے کے باوجود وہ خودکشی پر مائل نہ ہوا ۔ آخر قدرت کو اس پر ترس آ گیا ۔ داتا دربار کے باہر دھماکہ ہوا اور وہ جان کی بازی ہار گیا ۔ رفاقت علی سرکاری ملازم نہیں تھا اس لئے حکومت کیطرف سے مالی امداد  ملنے کی امید کم ہی ہے ۔ وہ ایک نجی کمپنی کا ملازم گارڈ تھا لیکن وہاں سے بھی اس کے اہل خانہ کو کچھ نہیں ملے گا کیونکہ رفاقت علی جیسے ضرورت مندوں کا خون نچوڑ کر لاکھوں کروڑوں کمانے والے نجی کمپنی مالکان خود کو دیوالیہ کہتے ہیں ۔ جیو نیوز کے خدا ترس رپورٹر میاں عابد کی رپورٹ اور پروڈیوسر نسیم حیدر کی دریا دلی کے بعد اندرون و بیرون ملک سے آنیوالی ٹیلیفون کالز سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سے لوگ رفاقت علی شہید کی بیوہ اور اس کی تین کمسن بچیوں کا سہارا بننے کیلئے تیار ہیں ۔ ثابت ہوا کہ دنیا سے نیکی ابھی رخصت نہیں ہوئی ۔۔ بس ایک بم دھماکے میں جان سے ہاتھ دھونے کا حوصلہ چاہیے ۔

بعد از مرگ عالم ارواح میں نیرنگی قدرت کا تماشا دیکھنے والے رفاقت علی کے گوش گزار کر دوں کہ حق حلال کی تنخواہ سے محروم ۔۔ بیوی کی ضروریات پوری نہ کرنے پر شرمندہ اور کمسن بیٹیوں کی ننھی منی خواہشات پر نت نئے بہانے بنانے والا ۔۔۔ روز مرتا روز جیتا ۔۔ وہ اکیلا نہیں تھا ۔۔۔ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایسے بے بس ابھی زندہ ہیں جو روز تنخواہ ملنے کی امید میں کیلنڈر کی تاریخیں دیکھتے رہتے ہیں ۔۔۔ پہلا مہینہ گزر گیا ۔۔ دوسرا بھی ختم ہوا ۔۔۔ تیسرا مہینہ چڑھ آیا ۔۔۔ چوتھے مہینے بھی تنخواہ نہیں آئی ۔۔۔۔ پانچواں لگ گیا ۔۔۔ گھریلو ضروریات پوری نہ ہونے کے باوجود مشقت پھر بھی جاری ہے کیونکہ تنخواہ ملنے کی امید ابھی نہیں ٹوٹی ۔۔۔ خودکشی حرام ہے پر ایمان ابھی پختہ ہے ۔۔۔۔ ہاں بچ رہنے والے بے تنخواہوں کیلئے بھی کوئی دھماکہ ہو جائے تو ضرب تقسیم کی ادھیڑ بن میں پھنسی جان جائے سو جائے پیچھے والوں کا تو کچھ بھلا ہو جائے گا ۔۔۔ سرکار یا نجی کمپنی مالکان بھلے کچھ نہ دیں گے لیکن خوف خدا کھانے والے بہت ہیں ۔۔۔
یاد رہے سیاہ موت یعنی طاعون نے 14 ویں صدی کے وسط میں موت کے پنجے گاڑھ دیئے تھے ۔ موذی مرض نے یورپ ایشیا چین روس ہندوستان مشرق وسطی الغرض کل عالم میں تباہی مچا دی تھی ۔ تاریخ کی کتابیں گواہی دیتی ہیں کہ کم از کم 7 کروڑ 50 لاکھ انسان لقمہ اجل بن گئے تھے ۔ یہ جان لیوا وبا چوہے نما تیز دانتوں والے جانور کے کاٹنے سے پھیلی اور پھر پھیلتی ہی چلی گئی ۔ اس بیماری کے آثار میں تیز بخار ۔۔ ناقابل برداشت سر اور کمر درد نمایاں تھے ۔ درد اس قدر شدید ہوتا کہ چیخیں نکل جاتیں ۔ کچھ دلدوز چیخیں مارتے ۔ سر پٹختے مر جاتے لیکن کچھ آدمیت کا بھرم رکھتے خاموشی سے گزر جاتے ۔۔ مورخ لکھتے ہیں کہ اس زمانے میں حفاظتی اقدامات کے طور پر دوا دارو کے ساتھ ساتھ کتوں بلیوں کو مارنا اور بھکاریوں کو ختم کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا ۔ میڈیکل سائنس کی کتابوں میں 18 ویں صدی میں سیاہ موت یعنی طاعون کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا تھا لیکن آثار بتاتے ہیں کہ وبا ختم نہیں ہوئی اس کی چیرہ دستیاں آج کے جدید دور میں بھی جاری ہیں
چار چار ماہ کی تنخواہ سے محروم ۔۔۔ آج نہیں تو کل پیسے مل ہی جائیں گے کی امید لگائے ۔۔۔۔ جبری مشقت کا شکار نوکری پیشہ افراد میں کیا طاعون کی بیماری کے آثار نہیں پائے جاتے ۔۔ کمپنی بہادر کے کارپردازوں کی کھلی عیاشیاں دیکھ کر ان کے سر میں درد نہیں اٹھتا کیا ۔۔ دن رات کی بیگار سے ان کی کمر دوہری نہیں ہو گئی کیا ۔۔۔۔ معصوم بچوں کی خواہشات پر ان کے دل خون کے آنسو نہیں روتا ۔۔ہر باپ کے اندر سے چیخیں بھی نکلتی ہیں لیکن وہ بیچارہ اپنی مردانگی بچانے کے چکر میں ان چیخوں کو سینے میں دبا لیتا ہے ۔۔ اپنے بچوں کا ہیرو جو ٹھہرا جس کو کمپنی مالکان کی ہوس زر نے زیرو بنا کر رکھ دیا ہے ۔۔ یہ 21 ویں صدی ہے ۔۔ کتے بلیاں اپنی طبی موت مریں گے لیکن تنخواہوں سے محروم ملازمین کو بھکاری بنا بنا کر مارا جا رہا ہے ۔۔۔ کئی ایک ایڑیاں رگڑتے مر گئے کچھ سفید پوشی کا بھرم رکھتے رکھتے خاموشی سے گزر جائیں گے لیکن جب تک پیسے کے پجاری زندہ رہیں گے طاعون کی وبا ختم نہیں ہو گی ۔۔۔۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *