پہلا رمضان ،پہلی تراویح۔۔۔۔سلیم جاوید

سخت گرمی کا رمضان تھا۔ہماری عمر سات سال تھی اور پچھلی سردیوں میں ہی کلاچی سے شفٹ ہوئے تھے۔ یوں،ڈیرہ میں ہمارا پہلا رمضان تھا۔

بابا مرحوم نے بستی میں نئی مسجد کی بنا ڈالی تھی جس کی دیواریں بن چکی تھیں مگر چھت ڈالنا باقی تھا۔ مسجد کے صحن میں مٹی کا تھلہ (چبوترہ) بنایا گیا تھا جس پہ خس کی چٹائیاں، صف کا کام دیتی تھیں۔ ڈیرہ کے موضع ’کھتی‘ کے معروف زمیندار حافظ عبدالرحمان صاحب نے اسی سال مدرسہ نعمانیہ سے حفظ کیا تھا اور انہوں نے پہلا مصلیٰ ہمارے ہاں سنایا۔ یوں صدیقیہ مسجد، حافظ صاحب اور ہماری، تینوں کی گویا پہلی تروایح تھی۔

یادش بخیر! مسجد کے تین اطراف میں کھیت ہواکرتے اور چونکہ نیتوں میں فتور شروع نہیں ہوا تھا تو سرشام، خوشگوار ہوا بھی چلا کرتی ۔ مٹی کے تھلے پر، افطار سے پہلے پانی کا چھڑکاﺅ کیا جاتا۔ اس پہ مستزاد، دو عدد پیلے پیڈسٹل فین (ڈنڈے والے پنکھے) بھی باہر لگا دیئے جاتے تھے۔ اس زمانے میں پاکستان نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی تھی کہ ہر وقت لوڈ شیڈنگ ہوتی لہٰذا یاد پڑتا ہے کہ اس پنکھے کو درست کرتے ہوئے، امان اللہ عرف ’مانے‘ کو زبردست کرنٹ لگا تھا جس سے وہ لکڑی کی طرح بے دم ہو کر گر گیا تھا۔ اپنی وہ پہلی حیرت یاد ہے جب مسجد کے صحن میں مٹی کا گڑھا کھود کر، ’ مانے‘ کو کھڑا کرکے دفن کیا گیا مگر اس نے آنکھیں کھول دیں (یہ جانکاری بعد میں ہوئی کہ مٹی کے ساتھ گراﺅنڈ کرنے سے زمین، کرنٹ کو چوس لیا کرتی ہے)۔

مانا ’ابھی زندہ ہے اور اس کو بچانے والے نمازی بھی۔ یہ لوگ آج ’مانے‘ کو بدست خود بھینٹ کرنے کو تیار ہیں اگراس کے عوض حکومت بلاتعطل بجلی فراہم کرنے کو تیار ہو۔

تراویح میں بچے بڑے شوق سے شریک ہوتے تھے۔ (فقہ حنفی وحنبلی کا ایک مہین فرق یہ بھی ہے کہ احناف، فرض نمازوں میں چھوٹے بچوں کو مسجد لانا بہتر نہیں سمجھتے مگر تراویح کی نفل نماز میں بزور حوصلہ افزائی کیا کرتے ہیں)۔ نماز تروایح کیلئے تین صفیں بنائی جاتی تھیں۔ ایک ان لکھا اصول تھا کہ سفید ریش اور باریش نمازی، پہلی صف میں جبکہ نوجوان دوسری صف میں کھڑے ہوتے تھے

چونکہ اس زمانے میں ریٹائرڈ فوجی افسر، ولایت پلٹ بوڑھے اور غذا میں وٹامنز عام نہیں تھے تو ہم نے کسی مسجد میں نماز کیلئے کرسی رکھی نہیں دیکھی تھی۔

دس سال سے کم عمر بچے آخری صف میں کھڑے کئے جاتے۔ بوجوہ، خاکسار کو دوسری صف کے کنارے پرجگہ دے کر عزت افزائی کی جاتی، جس پر ہم قطعاً خوش نہ ہوتے تھے مگر حکم بابا، مرگ مفاجات۔

باہمی مشورے سے ’چاچا نازو‘ کو استثنا دیا گیا تھا کہ وہ بچوں کی صف میں نماز ادا کرے۔ چاچا کے فرائض میں بچوں کی نگرانی کرنا تھی جس کے لئے اس کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات حاصل تھے۔ اس زمانے میں گاؤں کا ہر بڑا، کسی کے بچے کو بھی ادب سکھانے کے لیے تھپڑ رسید کرسکتا تھا اور اس تھپڑ کی گھر میں شکایت لگانے پر ایک اور تھپڑ کا اندیشہ ہوا کرتا تھا۔چاچا نازوکو اپنے فرائض کا فریضہ خداوندی سے بھی زیادہ احساس تھا چنانچہ، وہ رکوع میں جانے تک نیت نہ باندھتا تھا بلکہ عین دوران نماز بھی ، کسی نہ کسی بچے کے سر پر تھپڑ کی ایمان افروز آواز سنائی دیا کرتی تھی۔ چاچا کے اس احساس ذمہ داری کے ہم عینی شاہد ہیں کہ ایک بار دورانِ سجدہ، ہم نے اپنے کزن کو دیکھنے کے لیے سر اٹھایا تو چاچا کو بھی اپنی طرف دیکھتے پایا۔

پہلی تراویح کا قصہ چل رہا ہے۔

ہماری بستی میں ایک حد سے زیادہ فربہ شخص تھا جو بڑی دقت سے نماز کو آتا تھا۔ پہلی صف میں کھڑا بلکہ گڑا ہوتا تھا۔ خاص طور پر جب سجدے سے قیام میں کھڑا ہوتا تو منظر دیدنی ہوتا۔ اس کے ہر طرف پھیلے ہوئے باڈی پارٹس، قسطوں میں اٹھتے، دائیں بائیں جھولتے غرض، ساتھی نمازیوں پر زلزلہ برپا کرتے ہوئے وہ بمشکل قیام افروز ہوتا تھا۔ ہمیں اس پہ بڑا ترس آیا چنانچہ، اسکی مدد کیلئے اپنے ذہن رسا میں ایک سائنسی منصوبہ ترتیب دیا۔

ہماری مسجد میں شیشم کی لکڑی کے بڑے رحل پڑے تھے جن پر بڑے قرآن رکھ کر بزرگ حضرات تلاوت فرماتے۔(قرآن، چھوٹا ہوتا یا بڑا مگراس پر ریشمی کپڑے کے غلاف چڑھائے جاتے تھے)۔ چند رکعات کے بعد، میں نے ایک رحل اٹھا کراپنے پاس رکھ لیا۔ جب اگلی صف سجدے میں گئی تو میں نے رحل کھول کر، موٹے کے قدموں میں رکھ دی تاکہ وہ اس پہ بیٹھ کرکھڑا ہو۔ حاشا و کلا ہمیں مستقبل کے دردناک، افسوسناک اور خطرناک حالات کا ذرا بھی اندازہ ہوتا تو یہ سائنسی ایجاد نہ کرتے۔ہم تو موصوف کی رحل میں لینڈنگ کے بدلے کشش ثقل کے کسی نئے قانون کی دریافت کی آس لگا کر، خود کو نیوٹن گمان کئے بیٹھے تھے۔

رحل اگرچہ کشادہ تھی تاہم اس جبل جالوت کو سمانے کے لیےاسکی تنگ دامنی عیاں تھی چنانچہ لکڑی کا وہ رحل جو وحی الٰہی کا بوجھ اٹھا لیتا تھا، اس بشری وزن سے عاجز آگیا۔ سجدے سے اٹھتے ہوئے، موصوف کی تشریف کی بائیں گولائی کا چوتھائی جزو، اس رحل میں در آیا اور ساتھ ہی ایک زبردست ’تڑاخ‘ کی آواز آئی چونکہ پرامن زمانہ تھا- لوگ، زمانہ حال کی طرح خودکش دھماکے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو کر مسجد نہ آتے تھے، تو اس ’تڑاخ‘ کی آواز نے ساری مسجد میں یک گونہ اضطراب پیدا کردیا۔

بات یہیں تک نہیں رکی۔ شیشم کا رحل اگرچہ ’چھرے دار پریشر ککر‘ نہیں تھا مگر اس پر شہاب ثاقب کا گرنا تھا کہ لکڑی لیر لیر ہوگئی اور اس کی اڑچنیں، نہ جانے کن وادیوں میں جا گم ہوئیں۔ موٹے کی جسامت برعکس، اس کی آواز بہت ہی پتلی تھی۔ پس ایک لمبی ’اوئی ی ی ی ی‘ جس کے بعد جھٹکے دار’ آہ،اف اور ہائے‘ ترتیلتے ہوئے، موصوف واپس سجدے میں چلے گئے۔

موٹے صاحب کے پہلو میں حاجی نورمحمد کھڑے تھے جنہیں ’حاجی مرچی‘ کہا جاتا تھا۔ حاجی صاحب کا جسم نحیف مگر آواز بہت بھاری تھی۔ ہمسائے پر ناگہانی اور نادیدہ افتاد دیکھ کر انہوں نے گرجدار نعرہ لگایا’ خدایا خیر‘-

یہ تینوں آوازیں اگرچہ میں نے وقفے سے بیان کی ہیں مگر ان کا مجموعی دورانیہ چند سیکنڈ ہی تھا۔ پہلے رحل کی ’تڑاخ‘ نے تھاپ ماری، جس پر ’اوئی‘ کی بانسری نے لے اٹھائی اور ساتھ ہی’خدایا خیر‘ کی شہنائی نے تانا کسا۔

اس بے ہنگم آرکسٹرا کا سر اٹھانا تھا کہ حافظ صاحب کے ذہن میں تیسوں پارے آپس میں گڈمڈ ہوگئے۔چند لمحے مبہوت رہنے کے بعد، ان کے اوسان بحال ہوئے تو پہلا کام یہ کیا کہ کھڑے کھڑے سلام پھیر دیا۔

آپ منتظر ہوں گے کہ مسجد میں یہ عظیم انقلاب لانے والا’ چی گویرا‘ کیا کر رہا تھا؟

جناب، ہم ابتدا سے ہی موٹے پہ مستقل نگاہِ عمیق ڈالے ہوئے تھے۔ خلاف توقع جب رحل کا ضبط جواب دینے لگا تو فوراً ہی ہماری چھٹی حس نے موہوم اندیشوں کا سراغ پا لیا اور ہم نے بغیر نیت توڑے، جوتوں کی طرف منہ کیا۔ جوتے پہننے پر وقت ضائع کرنا حماقت ہوتی لہٰذا بغل میں دابا اور موٹے کی ’اوئی‘ تک ہم چاچے نازو کی رینج سے باہر آ چکے تھے۔حاجی مرچی کے نعرے تک ہم نے ڈیوڑھی کراس کر لی تھی، دروازے سے نکلتے ہوئے ہمیں تین آوازیں سنائی دیں۔

پہلی نامعلوم آواز: ’کون تھا؟ کس نے کیا؟‘
دوسری نامعلوم آواز: ’حاجی صاحب کا بڑا لڑکا تھا۔ میں نے خود اس کو کھسکتے دیکھا ہے۔‘
تیسری آواز بابا مرحوم کی تھی:’ پکڑو اسے۔ جانے نہ پائے‘۔

اس کے بعد ہم نے گھر کی طرف اندھا دھند دوڑ لگا دی۔

خدا ئ حکمت ہے کہ اس نے کشش ثقل کو پیدا کیا جس کی وجہ سے انسان صرف ’افقی سمت‘ ہی دوڑ لگا سکتا ہے۔
اگر’عمودی سمت‘ کو بھی دوڑ لگانا ممکن ہوتا تو اس دن ناسا والے ہم کو زمین کے مدار سے باہر تلاش کرتے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *