ڈاکٹر مجاہد مرزا—کچھ سماجی تبدیلیوں سے متعلق

  سماج ایک زندہ نظم و ضبط کا نام ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیوں کا واقع ہونا ناگزیر ہوتا ہے۔ تبدیلیوں کا یہ عمل سست بھی پڑ سکتا ہے اور سریع بھی ہو سکتا ہے۔ کچھ تبدیلیاں تو مقامی معاملات کی مرہون منت ہوتی ہے، کچھ تبدیلیوں کا دارومدار عالمی رویوں پر ہوتا ہے اور کچھ تبدیلیاں بعض تبدیلیوں کے ردعمل میں ہوا کرتی ہیں۔ تبدیلیوں کے ضمن میں ذرائع ابلاغ عامہ اور خاص طور پر الیکٹرونک میڈیا کا عمل دخل بہت زیادہ ہوتا ہے۔ آج کا میڈیا رویے بنانے بگاڑنے دونوں میں ہی اپنا کردار ادا کر سکتا ہے لیکن اس کردار کو مثبت تبدیلیوں کی جانب موڑے رکھنے کا کام یا تو ریاستی ناظر ادا کر سکتے ہیں یا وہ عوامی تنظیمیں جن کی ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر ہو۔
یہ بات نہیں کہ میں کوئی بہت زیادہ عرصے بعد وطن لوٹا ہوں البتہ اتنا ضرور ہے کہ اس بار میرا دورہ طوفانی نوعیت کا نہیں ہے یوں معاملات کو بنظر غائر دیکھنے کا موقع مل رہا ہے جیسے ابھی ابھی ایک انٹرٹینمنٹ پروگرام میں ایک کردار نے بر سر عام کہا، “میری ایک گرل فرینڈ تھی ۔ ۔ ۔”
ممکن ہے پاکستان میں بسنے والوں کو اس فقرے کو سن کر کوئی اچنبھا نہ ہوا ہو کیونکہ وہ خود بھی بتدریج تبدیلی کے عمل کا حصہ ہوتے ہیں لیکن مجھے یہ فقرہ سن کر اچنبھے کے ساتھ ساتھ خوشی بھی ہوئی کیونکہ جب 24 سال پیشتر میں اپنی روسی دوست کے ہمراہ پاکستان آیا تھا تب جس نے اس کے  ساتھ میرےاس نوع کے رشتے کی تحریری طور پر تنقیص کی تھی وہ اپنی جوان بیٹیوں کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا۔ میں
نے جب اس “تبدیلی” پر تحیر کا اظہار کیا تو اس نے کہا کہ “اب یہ عام بات ہے”۔ تو ہوئی ناں یہ ایک تبدیلی۔
دوسری تبدیلی جس کا مجھے ذکر کرنا ہے وہ میرے قصبے میں آبادی کے بہت زیادہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ سائیکلوں اور تانگوں کا معدوم ہو
جانا اور موٹر سائیکل سواروں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہو جانا ہے۔ اس تکنیکی تبدیلی کے ساتھ ساتھ لوگوں کا “صارفیت” کی جانب مائل ہو جانا بھی ہے جسکا ثبوت قصبے کے بازاروں میں خریدار عورتوں کا ہجوم ہے جن میں سے بیشتر برقعوں اور نقابوں میں ہیں۔
ڈاکٹر اب دسیوں روپے کی بجائے سینکڑوں روپے لینے لگے ہیں اگرچہ اب مریض کے رشتے دار کے چہرے پر ہزار کا کرنسی نوٹ
نکالتے ہوئے وہ بے چارگی نہیں ہوتی جو بیس برس پیشتر اپنا ایک سو کا نوٹ ڈاکٹر کی جیب میں جاتے دیکھتے ہوتی تھی۔
میں عید الاضحٰی کے تہوار پر پاکستان خاص طور پر قصبوں میں موجود ہونے سے خائف رہتا تھا کیونکہ قربان کردہ جانوروں کی آلائشیں گلیوں میں نالیوں کے کنارے دھری پھولتی دکھائی دیتی تھیں جن سے تعفن اٹھتا تھا۔ میرے لیے پہلی بار تھا کہ نہ صرف کہیں کوئی آلائش دکھائی نہیں دی بلکہ جہاں سے  آلائش کو فوری طور پر ہٹایا گیا وہاں چونا بھی چھڑکا گیا ہے بلکہ آج عید کے دوسرے روز جب میں اپنے بچپن کی ایک یاد “ماٹھی کی کلفی” کو پورا کرنے کی خاطر بھتیجے کے موٹر بائیک کی پچھلی نشست پر بیٹھ کر گیا تو کلفی تو نہ ملی لیکن گلیوں میں خاکروب نالیوں سے ” چیک” نکال رہے تھے جس کا مطلب ہے کہ میونسپل کمیٹی کے عمال فعال ہیں۔ یہ بھی ایک تبدیلی ہے کہ
حفظان صحت کا کسی حد تک دھیان رکھا جا رہا ہے۔
اس کے برعکس یہیں کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ وزیر اعلٰی پنجاب نے اپنی عقل کے مطابق بہت بڑا کام کیا ہے کہ ڈاکٹروں پر نگاہ رکھنے کی خاطر “بائیومیٹرک” سسٹم نافذ کر دیا ہے مگر میں دو وقت بروقت جا کر انگوٹھا لگا کر لوٹ آتا ہوں اور اپنی پریکٹس کرتا ہوں۔ سوا لاکھ روپے ماہوار حکومت سے وصول کر لیتا ہوں اور مرتے دم تک بلکہ بعد میں بیوی یا کنواری بیٹی بھی لیتی رہے گی کیونکہ یہ ہمارا حق ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ ہسپتال میں کوئی مریض نہیں دیکھتا اور جو ڈاکٹر دیکھتے ہیں وہ ” ٹیبل پریکٹس” کرتے ہیں یعنی جو نسخہ لکھ کر کے دیتے ہیں، جس میڈیکل سٹور سے دوا خریدی جاتی ہے اس کا مالک شام کو اس آمدنی کا ایک حصہ ڈاکٹر کی نذر کر جاتا ہے۔ یوں ثابت ہوتا ہے کہ ایک منفی تبدیلی نظام صحت کا مزید خراب ہو جانا ہے۔
    مذہب پرستی میں عمومی اضافہ ہوا ہے خاص طور پر یونیورسٹیوں سے فارغ ہونے والیوں پر، جس کے ردعمل میں میڈیا سے کسی نہ کسی حوالے سے وابستہ ہونے والوں نے لبرل رویوں کو پروان چڑھانے کی سعی شروع کی ہے یہی وجہ ہے کہ عید کے ٹی وی پروگراموں  میں موجود مہمان خواتین “کولہے ہلانے” سے بھی گریز نہیں کرتیں جو ان کے خیال میں رقض کہلاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے “ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے” ۔ ابھی بہت زیادہ سماجی تبدیلیاں آنی ہیں اور وقت کے ساتھ تبدیلی کا یہ عمل سریع تر ہو جائے گا۔ ایک طرف عسکری کارروائی “ضرب عضب” نے بنیاد پرست افراد کی زبانیں “گنگ” کر دی ہیں تو دوسری طرف ” سی پیک” کی تکمیل سماجی تبدلیوں کے
عمل کو سریع تر کر دے گی بس چند سال کی دیر ہے جب پاکستان کا سماج عالمی سماج کا فعال حصہ بن جائے گا۔

(ڈاکٹر مجاھد مرزا روس میں مقیم نامور مصنف، تجزیہ نگار اور دانشور ہیں۔ آپ ایک عشرے سے زیادہ عرصے تک ریڈیو “صدائے روس” اور روس کی بین الاقوامی اطلاعاتی ایجنسی “سپتنک” کے ساتھ وابستہ رہ کر براڈ کاسٹر اور مترجم کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ایڈیٹر)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *