وادی سندھ کا تصور اسلام—– دائود ظفر ندیم

پاکستان کے عوام کی غالب تعداد مسلمان ہے، اس لئے اسلام پاکستانیوں کی ایک اہم شناخت ہے مگر اس کے ساتھ ہمیں اسلام کے اس فہم کو بھی سمجھنا ہوگا جس کو پاکستانیوں کی غالب تعداد اپنی شناخت کا اہم ذریعہ سمجھتی ہے۔ اب گذشتہ سالوں سے جس قسم کے اسلام کی شکل سامنے لائی جارہی ہے وہ ایک متشدد اور تنگ نظر اسلام کی شکل ہے۔ مخصوص عربی اقدار کو اسلامی اقدار کہہ کر پیش کیا جا رہا ہے اور قرون وسطی کے ایک مخصوص نقطہ نظر کو اسلام کا ابدی اور حتمی نقطہ نظر کہہ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر بہت ضروری ہے کہ اسلام کی اس شکل سے واقف کروایا جائے جو گذشتہ ہزار سالوں سے وادی سندھ میں رائج رہی ہے۔

وادی سندھ میں اسلام صوفی دانشوروں کی وجہ سے آیا۔ جو کہ روشن خیال اور وسیع النظر تھے۔ جنہوں نے برداشت اور روداری کا سبق دیا ۔ محبت اور پیار کی بولی سکھائی۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور پختون خواہ، یا کشمیر، گلگت اور بلتستان، پاکستان کے کسی بھی علاقے میں چلے جائیے، کہیں بھی اسلام تشدد اور طاقت سے نہیں پھیلا۔ وادی سندھ کے لوگ مہاتما بدھ اور بدھ مت کی تعلیمات والے پر امن لوگ تھے۔ جب ان لوگوں کو بتایا گیا کہ مہاتما بدھ کے بعد عرب کے مہاتما محمدصلی اللہ علیہ و سلم نے ان تعلیمات کو مزید اعلی شکل میں نکھار دیا ہے توان لوگوں نے ایک تسلسل کے طور پر اسلام کو قبول کر لیا۔ صوفی دانشوروں نے وادی سندھ کے لوگوں کو بڑے پیار سے بتلایا تھا کہ اسلام اس ابدی اور لافانی پیغام کو ہی پیش کرتا ہے جو وادی سندھ کے لوگ پہلے سے مہاتما کی تعلیمات کی وجہ سے اپنائے ہوئے ہیں اور صرف ان پہلووں کو مسترد کرتا ہے جو زمانے کی وجہ سے یا کچھ مخصوص لوگوں کی اجارہ داری کی وجہ سے شامل ہوئے اورجن سے انسانی مساوات ، مخلوق خدا سے محبت اور اپنی صلاحیتوں کی شناخت اور ان کا درست استعمال جیسے تصورات کو نقصان پہنچا۔ توحید، نماز، روزہ حج جیسے ارکان کو اس سے زیادہ سادہ اور بہتر طور پر کیسے سمجھایا جا سکتا ہے۔ ان صوفی دانشوروں نے لوگوں کو سمجھایا کہ اسلام کا عقیدہ ہے کہ ہر علاقے میں اللہ تعالی نے نیک لوگ بھیجے۔ اور اسلام ان لوگوں کو اللہ کا سچا پیغبر جانتا ہے جسے یہاں کے لوگ اوتار جیسے ہیں۔ اللہ کے مختلف نام ہیں مگر اسے جس نام سے بھی پکارا جائے اس سے مراد وہی ذات پاک ہوتی ہے جو تمام انسانوں کا خالق اور پروردگار ہے۔ صوفی دانشوروں نے بتلایا کہ قران مجید میں ان نیک لوگوں کا کیسے ذکر آیا ہے جن کو عرب کے مسیحی اور یہودی پہلے سے مانتے تھے اسلام ان کے سب انبیا کو عموما اور موسی، دائود اور مسیح کو خصوصا اللہ کا خاص رسول قرار دیتا ہے جو اپنے زمانے میں لوگوں کی اصلاح، ہدایت اور راہنمائی کے لئے نازل کئے گئے۔

ان صوفی دانشوروں نے بتلایا کہ ایران اور فارسی علاقوں میں ایسے ہی مسلمانوں نے زرتشت، مانی اور دوسرے پیغمبروں کو بھی تسلیم کیا ہے اور پیغمبر کے لفظ کو بھی اور ان کے نماز، روزے کے الفاظ کو بھی اپنا لیا ہے۔ صوفی دانشوروں نے اسی طرح اوتاروں کو تسلیم کیا، رام، کرشن اور مہاتما کی فضلیت کو تسلیم کیا اور لوگوں کو بتلایا کہ یہ بھی سچے رب کے بھیجے لوگ تھے جو ان علاقوں میں لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے آئے۔ صرف ان کے نام پر جو انسان دشمن تعبیر کی گئی اور اس میں سرقہ کیا گیا, اسلام اس کو مسترد کرتا ہے۔ یا ان کی لافانی تعلیمات کو مزید بہتر رنگ و روپ میں پیش کرتا ہے۔ یہ صوفی دانشور یہ تعلیم دیتے تھے کہ ثقافت کا کوئی رنگ برا نہیں ہوتا اور کوئی انداز غیر اسلامی نہیں ہوتا۔ صرف اسلامی کے کسی بنیادی تصور پر زد نہ پڑتی ہو۔ خوشی منانے اور خوشی کی کوئی رسم منانا کوئی ناجائز بات نہیں۔ چانچہ وادی سندھ میں وجد، سماع کی محافل ہوئیں۔ قوالی اور مراقبہ ہمارے صوفی اسلام کی خاص شناخت بنا۔

مگر اب ایسے متشدد علما آگئے ہیں جو موسیقی اور رقص کی ہر صورت کو ناجائز اور حرام کہتے ہیں۔ یہ علما خوشی کی ہر رسم کو بدعت اور ہماری ثقافت کی ہر بات کو ہندو تہذیب سے منسوب کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے ہمارے ماضی کو مسترد کر دیا ہے اور چاہتے ہیں کہ ہم صرف عرب کی مخصوص اقدار اپنائیں، اس کے علاوہ کوئی گنجائش نہیں۔ جو اسلام سے مراد ایک لافانی، ابدی اور عالمگیر مذہب کی بجائے ایک عرب قبائلی اور روائیتی مذہب کا لیتے ہیں جس میں اجتہاد اور تشریح کے تمام دروازے ختم ہو چکے ہیں۔ کیا وقت نہیں آیا کہ ہم روشن خیالی، برداشت اور روداری کے ان دشمنوں کے سامنے کھڑے ہو جائیں، جو اسلام کو ایک غیر جمالیاتی مذہب بنانے پر تلے ہیں۔ جن کے نزدیک اسلام میں علمی اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *