کٹے ہاتھوں سے بکے ہوے ہاتھوں تک— اسمارا مرتضی

صحافت ایک غیر جانبدار اور معاشرے کی مثبت انداز میں تعمیر نو کا شعبہ ہوتا ہے۔ افسوس، گو سب تو نہیں مگر اکثر، پاکستانی میڈیا اس وقت سیاسی میدان میں بکاو مال ہو کر رہ گیا ہے۔ غریب کی آواز دبانے اور سیاسی اشرافیا کی پاؤں کی جوتی بن کے ملک کا بیڑا غرق کرنے میں صحافت بھی حصہ دار بن گئی ہے۔ ایک ٹھکیدار کو چائے کی پیالی پہ چینلز پہ بلانا بھی اس صحافت کا ہی کارنامہ ہے اور شیخ رشید کا کرکٹ پہ تبصرہ کرانا، قندیل بلوچ کو سیلبرٹی بنا کر اس کے قتل میں کسی حد تک زمہ دار ہونا ، زاہد حامد کو پاکستان کا سفیر بنانا یہ سب اسی تماشاگیر صحافت کے مرہون منت ہی ہے۔ ان ہی تمام تر کارناموں کی بنیاد پہ میڈیا آج ایک مافیا بن گیا ہے۔

محنت کشوں کی ابھرتی تحریکوں اور ان کے حقیقی مسائل کو اجاگر کرنے کے بجائے دبانے کا کردار بھی اسی میڈیا کے سر جاتا ہے۔ سرمایہ دار کے گلے میں ہڈی پھنس جائے تو صحافت ناچنے لگتی ہے مگر “عرب ٹیگ” کے محنت کشوں کی ہڑتالیں اور دوسرے اہم موضوعات کو کوریج نہ دینا اس صحافت کا ہی کارنامہ ہے۔

سرِ شام سے نصف شب تک جو یہ میڈیا اور صحافت نئی نویلی دلہن کی طرح اپنی دکانداری چمکائے بیٹھا ہوتا ہے۔ کبھی غور کیجیے کہ اس ساری گفت و شنید سے عام انسان کو حاصل کیا ہوتا ہے ؟ یہ جو پلانٹڈ ، ریٹنگ ریس ، معاوضہ شدہ پروگراموں میں دست و گریبان ہونے کی نمائش لگائی جاتی، یہ وہ چکر ہے جو عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آتا ۔ کچھ اینکر پرسنز کو چھوڑ کر، باقی سب نے گھنگرو باندھے ہوئے ہیں اور ایک ایک ٹھمکا پیچھے سے ڈوریاں ہلانے والوں کے مرہونِ منت ہے۔ پیسہ پھینک تماشہ دیکھ والا حساب ہے۔ جو جتنا اچھا تماشہ لگائے گا، جتنی اچھی ڈُگڈُگی بجائے گا، اس کو اتنی ریٹنگ ملے گی۔ اور ریٹنگ دینے والے یا ایسے پروگراموں پر بلڈ پریشر ہائی کرنے والے احباب اور ویورز کی حالت بھی کسی ٹُن تماش بین سے زیادہ نہیں جو حقیقت اور مصنوعی دکھانے والی چیز میں تمیز تک نہ کر سکے ۔

کتنے پروگرام ہوں گے ؟ کتنے مہمان ( عوامی نمائندے ) ہوں گے جو اس آپس کی دھینگا مشتی میں عوام کے مسائل پر بات کرتے ہیں؟ آپ نے شاید دیکھا ہو؟ میں نے تو ہمیشہ سیاسی سکورنگ ، کسی ایک جماعت سے وابستگی اور جانبداری ہی دیکھی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس پلیٹ فارم کو عوامی مسائل اور ان کے حل کے لیے بھی کبھی استعمال کیا جاتا، مگر ایسا کریں گے تو رمضان کی بے ہودہ ٹراسمیشن سے بہروپیے کروڑوں کیسے کمائیں گے ؟ طاہر شاہ جیسے اینجل سے آنکھیں کون ملائے گا- بلا وجہ کسی کو بھی پکڑ کے ان کی پگڑیاں کون اچھالے گا۔ ؟

صوبائی اور وفاقی اسمبلیوں ، جلسے جلوسوں ، ریلیوں میں ہر جماعت کا اپنا اپنا رونا ہے۔ تو عوام کی بات اسمبلی ، میڈیا ،یا کسی بھی پلیٹ فارم پہ نہیں ہوگی تو کہاں ہو گی ؟ کیسا کلچر ، کیسی فکر اور کیا مسائل کا حل مل رہا ہے ہمیں ؟ بس یہاں دست و ہنر بِک رہا ہے۔ پہلے ہاتھ کاٹے جاتے تھے اب خرید لیے جاتے ہیں۔

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک راجا تھا ۔ بہت با ذوق ۔ اچھی اچھی اور خوبصورت عمارتوں کا اسے بڑا شوق تھا۔ اس نے دنیا بھر سے ماہر کاریگر بلائے اور ان سے عمارتوں کے خاکے بنوائے۔ جنہوں نے اچھے سے اچھا نقشہ بنا کر پیش کیا ان کو اپنے دربار میں رکھ لیا ۔ بڑی آؤ بھگت کی اور انہیں عمارت بنانے کا حکم دیا۔ عمارت میں استعمال ہونے والے سامان فراہم کرایا مزدور بھی دیئے گئے۔ عمارتیں تیار ہوگئیں ۔ بڑی عالیشان،دنیا میں انوکھی ۔ دیکھنے والے دیکھتے رہ جاتے ۔ سارے عالم میں ان عمارتوں کی شہرت پھیل گئی۔بہت دور دورسے لوگ دیکھنے آتے اور دیکھ کر اپنی غریبی پر آٹھ آٹھ آنسو بہاتے۔ لیکن وہ زمانہ بہت پرانا تھا۔ ترقی و ایجادات نے پر نہیں پھیلائے تھے۔ جو چیزیں استعمال میں آجاتیں وہ دوبارہ کام کے لائق نہیں رہتی تھی ۔ ابھی Recycle یعنی استعمال شدہ چیزوں کو شکل بدل کر دوبارہ استعمال کرنے کی تکنیک ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ جب کوئی عمارت بن کر پوری طرح تیار ہو جاتی تو راجا کو یہ بات تکلیف دیتی کہ ایک شخص جس نے اسے اتنی خوبصورت عمارت بنا کے دی ساری دنیا میں اس کا نام روشن کیا، تو یہ اپنا ہنر کسی اور کے لیے وقف نہ کرے۔ تو راجہ اس معمار کے ہاتھ کاٹ دیا کرتا تھا۔ لیکن وہ سوچتا رہا کہ کیوں نہ ایسی ترکیب نکالی جائے کہ اس کے ہاتھ بھی بچ جائیں اور ان کو ایسے کاموں میں لگا دیا جائے کہ وہ کسی دوسرے شخص کے لیے اس طرح کی عمارت نہ بناسکے۔ایک دن اس نے اپنے دیس کے عقل مند وزیروں اورماتحتوں کو بلایا اور ان کے سامنے اپنی تکلیف بیان کی۔ اس کے ایک وزیر با تدبیر کو ایک دن بہت آسان ترکیب سوجھی اور یہ نئی ترکیب دست ہنر کو کاٹنے کے بجائے خریدنے کی تھی۔ اب کسی ہنر مند کو اپنے نادر و نایاب فن کے اظہار کے بدلے ہاتھ کی قیمت نہیں دینی پڑتی۔اب جب کوئی شخص اپنے نادر فن کا اظہار کرتا تو دربار میں اسے بلایا جاتا اور اس شرط پر کہ وہ یہ کام کسی دوسرے کے لیے نہیں کرے گا اس کو زر و جواہرات میں تول دیا جاتا۔ 

ظل الٰہی کے اس فلاحی سوچ کے فائدے اس زمانے میں کتنوں کو ملے میں نہیں جانتی لیکن موجودہ دور اور آج کے پاکستان میں بہت سے لوگ یہ انعام و کرام سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ صحافت جو کبھی چراغ حسن حسرت، فیض، برنا اور خاور ہاشمی جیسے ہاتھوں کی محنت کا، ہنر کا ثمر تھی، آج “نازل صحافیوں” کے ہاتھوں ایک ناچتی، دل بہلاتی رقاصہ بن گئی۔

(اسمارا مرتضی بچوں کی ڈاکٹر ہیں مگر معاشرے کی مسائل کی مسیحائی بھی کرنا چاہتی ہیں)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *