نیکی کمانے اور سکون قلب کا آسان نسخہ ۔۔۔۔عبیداللہ چوہدری

ایک انتہائی پسماندہ گاوں نواں پنڈ گوجرانوالہ سے جب یتیم اور مسکین ۲۱ سالہ محمد صادق نے لاہور ہجرت کی تو قلعہ گوجر سنگھ میں کرائے کے ایک کمرے میں ایک بستر سے اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا۔ کمرے میں ان کے علاوہ ۲   نوجوان اور  بھی تھے۔ خوشخطی کے فن سے مالا مال اس نوجوان نے کوہستان اخبار میں روز گار تلاش کیا۔ جنس،رنگ، نسل، قد ، جسامت، ذہانت، شکل و صورت اور علاقہ صرف قدرت کی دین ہوتی ہے۔ اس میں اگر سب اچھا ہے تو کسی کا کوئی کمال نہیں اور اگر برا ہے تو کسی کا کوئی قصور نہیں۔ محنت، ایمانداری، لگن، انسانیت کا درد، قربانی اور ایثار کا جذبہ ، وفا داری، دوسروں کی مدد اور کڑی محنت کے باوجود اللہ جس حال میں رکھے اسی میں خوش اور مطمن رہنا وہ خصوصیات ہیں جس کے ہونے اور نہ ہونے میں بندے کا اپنا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ اسے خوش بختی کہیے یا پھر قدرت کا انعام کہ  محمد صادق میں یہ تمام خوبیوں (قدرتی اور ذاتی) سے مالا مال تھے۔ شہری زندگی اور اچھی کمپنی نے ان کی شخصیت کو مزید چار چاند لگا دیے۔

اپنے چار بھائیوں میں چودھری محمد صادق زیادہ مختلف نہ تھے ۔ کہتے ہیں نا جینز کا بڑا اثر ہوتا ہے۔لیکن ہجرت، شہری زندگی،   اچھی اور پڑھی لکھی صحبت نے ان کو سب سے منفرد کر دیا اور اس بات کا احساس خود چودھری صادق کو بہت تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ایک ایک کر کے اپنے بھتیجوں اور سسرالی رشتہ داروں کے ۷ عدد بچوں کو پڑھانے کیلئے لاہور لے آئے۔

لاہور آئے ۷ میں سے ۶ بچے اپنی زندگی بدلنے میں کامیاب ہو گئے اور آج ایک باعزت اور آسودہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اسی ماحول میں چودھری صادق نے اپنے ۵ بچوں کی بھی پرورش کی۔ خوش قسمتی سے صادق صاحب کو شریک حیات بھی ایسی ملی کہ جس نے زندگی سپرد کر دی اور کسی بھی موقع پر بھی اپنے خاوند کو شرمندہ نہیں ہونے دیا۔ پانچ بچوں کی کامیاب پرورش، کئی اخبارات اوراشتہاری کمپنیوں میں ۳۰ سال شبانہ روز محنت اور مالی استحکام حاصل کر لینےکے بعد مطمن ہو کر چودھری صادق واپس اپنے گاوں پہنچ گئے اور پھر اپنے خاندان کا ہی نہیں بلکہ گاوں کے سارے بچوں کی قسمت بدلنے کا ذمہ اٹھا لیا۔ گاوں میں اپنے ذاتی مکان میں بچوں کی مفت اور معیاری تعلیم کیلئے” کوشش” سکول کے نام سے کوشش شروع کر دی۔ ( گاوں میں کوئی سکول نہ  تھا اور محکمہ تعلیم نے بھی سکول قائم کرنے سے انکار کر دیا تھا) اس کوشش میں مشہور کالم نگار منو بھائی، اردو ڈائجسٹ کے مالک اعجاز قریشی، لنگ فنگ کے مالک بابو نذیر، اور گلاسگو (یو کے) میں مقیم درد دل رکھنے والے محمد آصف اور امریکہ میں مقیم محمد زاہد سمیت رشتہ داروں اور دوستوں  نے ان کی بھر پور حوصلہ افزائی کی۔ اب ۱۶ سال بعد اس سکول سے پڑھنے والے طلبا جب ماسٹرز کے بعد بر سر روزگار ہو رہے ہیں تو چودھری صادق اور انکے ساتھیوں کے اطمینان کی کوئی حد ہی نہیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ گاوں میں جنازگاہ کی تعمیر، مسجد و مدرسے کی تعمیر، مفت کفن دفن، سلائی سکول کا قیام، انتہائی غریب گھرانوں کی ۲۰ لڑکیوں کی شادی کے مکمل اخراجات، ہر سال رمضان میں گاوں کے تمام مستحق گھرانوں میں راشن کی تقسیم ، قریبی علاقوں سے بچوں کو سکول آنے کی مفت پک اینڈ ڈراپ کے ساتھ ساتھ غریب بچوں میں عید کے نئے کپڑے سلوا کر دینے جیسے کئی انسانی ہمدردی کے اقدامات میں مصروف ہیں۔
اس سب کیلئے جہاں کچھ دوست مالی امداد دے رہے ہیں وہاں مزید مدد کی ضرورت ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے عطیات اورزکوٰۃ ایمانداری سے اصل مستحق کو ملیں تو آپ اس رمضان میں چودھری صادق سے رابطہ کریں ۔
3329-4 اکاؤنٹ ٹائٹل : کوشش سکول
برانچ کوڈ: 0652
الائیڈ بنک مین بازار قلعہ دیدار سنگھ،ضلع گوجرانوالہ پاکستان IBAN#PK72ABPA0010013318580014
فون : 03334216802
ویب سائٹhttp://www.koshishschool.com:

عبیداللہ چودھری
عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *