• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • خانگی زنا, جنوبی پنجاب اور فرسودہ رسم ورواج۔۔۔بلال شوکت آزاد

خانگی زنا, جنوبی پنجاب اور فرسودہ رسم ورواج۔۔۔بلال شوکت آزاد

جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے کہ آج میرے نوک قلم پر ایک ایسا موضوع ایک ایسا مسئلہ بلکہ ہماری ترقی, شعور, تعلیم اور مذہبی عروج کے دعووں کی قلعی کھولتا ہوا ناسور ہے جسے منفی طاقتوں کی علمبردار این جی اوز نے بھی شہرت دولت اور مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر ہی اٹھایا باقی خلوص نیت سے آواز بلند کرنے کی جسارت کسی نے نہیں کی۔

جنوبی پنجاب جس میں تین ڈویژن ملتان, ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور شامل ہیں قدیمی ثقافت اور تہذیب کے گڑھ ہیں۔آزادی سے قبل ان میں سے بہاولپور سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور مہذب ریاست تھی جو قیام پاکستان کے بعد الحاق کرکے پاکستان کی تکمیل میں شامل ہوئی اور بعد از تکمیل ایک ڈویژن بنی۔

بہرحال میرا موضوع جغرافیائی اور سیاسی سے زیادہ اخلاقی اور مذہبی گراوٹ اور جہالت پر تنقید تک محدود ہے تو میں لمبی چوڑی فضول تفصیل میں اس وقت نہیں جاؤں گا۔

آج صبح جاگنے پر    فیسبک نیوز فیڈ میں میری نظر سے ایک چند سطری تحریر اور دو تین ویڈیوز کا پیکج گزرا جس میں یہ کہانی بیان کی گئی تھی کہ

“ڈیرہ غازیخان ۔۔۔۔۔ بستی سکھیرہ ارائیں تھانہ دراہمہ کی حدود میں سنگدل باپ اپنی ہی بیٹی کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا رہا جس کی ویڈیو میڈیا نے حاصل کر لی ہے۔
طاہرہ بی بی کے مطابق اس کے والد محمد رفیق نے اپنی بہو سے ناجائز تعلقات استوار کر لیے اور اسے طلاق لیکر اپنے ساتھ شادی کے لیے اکساتا تھا۔میں نے اپنے والد کو اس حرکت سے منع کیا تو اس نے مجھےاپنے بھائی عبدالمجید کے ساتھ ملکر میرے گھرمیں گھس کر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا اوربالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا رہا ۔اس کے خاوند اور سسر نے اسے بچانے کی کوشش کی تو انہوں نے پستول تان کر انہیں جان سے مار دینے کی دھمکی دی۔جبکہ پولیس تھانہ دراہمہ نے تشدد کو گھریلومعاملہ قرار دیکر کاروائی سے انکار کر دیا ہے۔”

اس تحریر کو پڑھنے کے بعد میں نے ویڈیوز چیک کی، واقعی وہ تحریر سے میل کھاتی تھیں۔

اب بات یہ ہے کہ میرا آبائی علاقہ دراصل جنوبی پنجاب کا ہی ایک شہر ہے جس کی وجہ سے میں ایسی خبروں اور ایسے واقعات سے اکثر واقف رہا ہوں اور اس طرح کے ایک دو واقعات کا عینی شاہد بھی رہا ہوں ماضی میں, اور کئی واقعات کے راویوں سے منسلک بھی ۔جنوبی پنجاب دراصل صرف سیاسی و شعور کی منازل میں ہی پیچھے نہیں رہ گیا بلکہ اخلاقی اور مذہبی حوالے سے بھی پسماندگی کا شکار ہے۔ہمارے حکمرانوں اور اکابرین کی غفلت اور بے حسی کہوں یا جنوبی پنجاب والوں کی بدقسمتی کہ وہ جائز توجہ اور ترقی سے محروم رہے۔

جنوبی پنجاب کے  ایک طرف سندھ کا بارڈر ہے لگتا ہے, ایک طرف بلوچستان کا اور ایک طرف کے پی کے کا۔ان تینوں صوبوں میں رائج جاہلانا رسم و رواج اور خود جنوبی پنجاب میں رائج رسم ورواج نے جنوبی پنجاب کو اب تک زمانہ جاہلیت کی اندھیری وادیوں سے نکلنے نہیں دیا اور یہ واحد خطہ پاکستان ہوگا جہاں سبھی صوبوں کے  عورت کش اور واہیات رسم و رواج رائج ہیں۔

خانگی زنا, آپ میں سے بہت سے لوگ اس اصطلاح سے نابلد ہونگے تو بتاتا چلوں یہ دراصل وہ زنا ہے جو مقدس اور محرم رشتوں کی عزت تارتار کرنے کا موجب ہے اور جو جنوبی پنجاب میں بہت زیادہ رپورٹ ہوتا ہے اور اب یہ زہر  ملک کے دیگر حصوں میں بھی سرائیت کررہا ہے۔

خانگی زنا کا شکار گھر کی بہو, بیٹیاں, بھانجیاں, بھتیجیاں, بھابھیاں اور بعض اوقات بہنیں بھی بنتی ہیں لیکن معاملات سرعام بیان اور رپورٹ ہونے سے اکثر رہ جاتے ہیں کہ وہاں بھی پنچائیت اور وڈیرہ شاہی سسٹم کا راج ہے۔اور جو واقعات رپورٹ ہوتے ہیں یا منظر عام پر آتے ہیں ان کے ساتھ دو طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔

ایک یہ کہ متعلقہ ادارے متاثرہ کی داد رسی اور مدد نہیں کرتے اور جاگیرداری دباؤ کا شکار ہوکر ایسے معاملات کو گھریلو معاملہ کہہ کر رفع دفع کردیتے ہیں۔

یا اگر متاثرہ کسی صورت باز نہ آئے تو پنچائیت کا انعقاد کیا جاتا ہے جہاں ذلیل پھر عورت ہی ہوتی ہے خواہ متاثرہ ہو یا ملزم و مجرم کے گھر کی کوئی عورت خواہ کسی بھی عمر اور رشتے سے ہو۔

اسی طرح کی ذلالت نے عورت کو باغی بنادیا ہے جو اب گھر کی دہلیز پار کرکے اپنا آپ خود نیلام کرنے پر تل گئی ہے۔

بہرحال پنچائیت میں تین سے چار قسم کے فیصلے ایسے معاملوں میں عام رائج ہیں جو زمانہ جاہلیت کی یاد تازہ کروادیتے ہیں۔

یہ پنچائتی فیصلے دراصل وہ قدیم جاہلانا رسم و رواج ہیں جو اب تک جنوبی پنجاب کے جاگیر دارانہ سسٹم اور دیہی علاقوں کی محرومی اور جہالت کے عکاس ہیں جیسے ونی, سوارہ اور کارو کاری عام رسمیں ہیں۔ان جیسی دیگر علاقائی رسمیں اور سزائیں بھی ہیں جن میں وٹہ سٹہ اور جبری نکاح بھی شامل ہیں۔

اب جیسے اسی واقعہ کو لے لیں کہ باپ جس پر بیٹی نے اس پر اپنی بہو سے خانگی زنا کا الزام لگایا،اس نے  بغاوت کی ہے وہاں کے  عورت کش روایات اور رسم ورواج  سے۔ تو باپ کیسے اپنی ہی بیٹی اور داماد کا دشمن بن گیا ہے کہ بیٹی پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے بجائے اپنے گناہ پر شرمندہ اور توبہ تائب ہونے کے۔

اب چونکہ یہ معاملہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر آگیاہے تو شاید حکومتی مشینری اور چند ڈھکوسلہ این جی اوز کی معاونت اور بیچ بچاؤ سے حتمی انجام تک چلا جائے لیکن اس وقت میرے قلم کی روانی کے دوران بھی کسی گھر کی بہو, بھابی وغیرہ اسی قسم کے کسی رویے اور خانگی زنا سے گزر رہی ہوں گی لیکن اسکی آواز چونکہ دبائی جائے گی تو کسی کو خبرنہیں ہونی۔

جنوبی پنجاب میں مخصوص مردانہ رویہ اور اجارہ داری کی حکومت ہے۔میں وہاں ایک لمبا عرصہ قیام کرچکا ہوں اور میرے مشاہدے میں یہ بات عام رہ چکی ہے کہ وہاں کا مرد جنسیت کا مارا ہوا بھیڑیا ہے جس کو اکثر رشتوں کی کوئی پرواہ نہیں۔

یاد رہے میرا ہدف تنقید دیہی و جاگیرداری نظام سے منسلک مرد حضرات ہیں ناکہ شہری عوام۔دور جدید کی ٹیکنالوجی کا بھی جس قدر فضول اور لغو استعمال آپ کو وہاں ملے گا اسکی مثال کم ہی سنی ہوگی۔

سب سے بڑا اور اہم مسئلہ وہاں کے اکثریتی ہر جوان ہوتے مرد سے لیکر جاتی عمر کے مرد کا پورنوں گرافی کا شیدا ہونا اور جنسی بھیڑیا بننا ہے۔جبکہ جنوبی پنجاب کی پڑھی لکھی اور باشعور اور باذوق عوام کا بھی کوئی ثانی نہیں پاکستان میں کہ ادب کے بڑے بڑے نام اسکی مثال ہیں۔

لیکن مجھے ان سے ایک ہی گلہ ہے کہ یہ لوگ خود اپنے متاثرہ عوام کی آواز بننے اور ایسی جہالت کاتدراک کرنے میں آلسی اور بخیل واقع ہوئے ہیں۔

برحال جنوبی پنجاب کو اب سوچنا اور آگے بڑھنا ہے تو ان خرافات اور زمانہ جاہلیت کے رویوں اور رسم و رواج کو ترک کرنا اور ان کا قلع قمع کرنا ہوگا ورنہ خالی خولی دعوے ہی رہیں گے ترقی اور خوشحالی اور عورت کے حقوق کے۔

اگر کسی ملک شہر یاعلاقے کی خوشحالی اور ترقی کا مشاہدہ کرنا ہو تو وہاں کی عورت کا حال اور آزادی دیکھو کہ آیا اسلام کے مروجہ اصولوں پر رہتے ہوئے کیا وہاں کی عورت خوشحال اور محفوظ و آزاد ہے کہ نہیں؟

اگر عورت ظلم کے شکنجے میں قید اور زمانہ جاہلیت کے جاہل علمبرداروں کے قدموں تلے ہے تو بیشک وہ نیویارک اور لندن جیسے شہر  ہی ہو ں،وہ شعور اور ترقی کی کسوٹی پر پورے نہیں اترتے۔

حکومت وقت کے ساتھ ساتھ مذہبی اکابرین اور علم دوست  افراد کو جنوبی پنجاب کی عورت کو تحفظ دینے کے لیئے آگے آنا ہوگا اور اس خطے کو عورت کے لیئے محفوظ بنانا ہوگا ورنہ خانگی زنا, کارو کاری, ونی, سوراہ, وٹہ سٹہ اور جبری نکاح کے ساتھ ساتھ ظلم کا شکار ہی رہے گی وہاں کی عورت اور یہ لہر اسی طرح برقرار رہی تو دیگر علاقوں کا بھی رخ کرسکتی ہے بیشک محدود اورمخفی بنیادوں پر ہی سہی۔

جنوبی پنجاب کی عورت کو بھی ترقی, عزت, شعور, تعلیم اور آزادی جو اسلام نے دی ہے کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی ملک کی دیگر خواتین کو۔اب وقت آچکا ہے کہ جنوبی پنجاب کو ان فرسودہ اور جاہلانا رسم و رواج اور ظلم کی چکی سے باہرنکالنا ہوگا۔

تھوڑا نہیں پورا سوچیے۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”خانگی زنا, جنوبی پنجاب اور فرسودہ رسم ورواج۔۔۔بلال شوکت آزاد

  1. مذکورہ ویڈیو میں عورت سے بدسلوکی صاف ظاہر ہے. اس معاملے کی اچھی طرح تحقیق ہونی چاہئے.

  2. ہم کراچی والوں کا اس تحریر سے تعلق اس طرح جڑتا ہے کہ ہمارے علاقوں میں کام کرنے والی ماسیاں زیادہ تر انہیں علاقوں سے آتی ہیں۔ جو چند ایک واقعات مختلف وقتوں میں سننے میں آئے ہیں (ظاہر ہے وائف کی معرفت۔ 🙂) ان کے مطابق تو ان صاحب نے کچھ اتنا غلط بھی نہیں لکھا۔ تنقید کرنے والوں کو یہ بھی دیکھنا چاہئیے کہ لکھنے والے نے، خاص دیہات کے ماحول کو ہی اتنا کرپٹ بتایا ہے پورے جنوبی پنجاب کو نہیں۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *