ماچس کی ڈبیا جتنی روشنی۔۔۔جاوید حیات

بازار اس وقت جاگتا ہے جب دکانیں بند ہونے لگتی ہیں، اس گلی کی چند دکانیں بازار کے ساتھ جاگتی ہیں اور بازار کی گود میں سو پڑتی ہیں.

اچانک گلی میں روشنی پھیل جاتی ہے تو لگتا ہے کسی راہ چلتے اجنبی مچھیرے نے بیڑی پینے کے لیے جلدی میں ماچس سلگائی ہو. پہلی گلی کی ان آخری روشنیوں میں بازار کسی مزدور کی طرح بڑھاپے کا بوجھ اٹھائے پھرتا ہے، مگر ان مختصر سی روشنیوں میں بازار آج بھی دولہے کی طرح سجتا اور سنورتا ہے.

سورج ڈوبتے ہی اس گلی میں جزیروں کی روشنی پھیل جاتی ہے اور مٹی کے مکانوں میں تتلیاں خواب بُننے لگتی ہیں.

یہ بازار بوڑھے پاگل کی طرح رات بھر پان چباتا رہتا ہے ساتھ میں چائے کی چسکیاں اور سگریٹ کے کش بھی لیتا ہے_ یہاں گزرنے والا ہر شخص جیسے گولڈ لیف سگریٹ کے پیکٹ میں رہتا ہو اور ماچس کی ڈبیہ جتنی یہ روشنی بازار کو جیوت رکھتی ہے.

میں یہاں شام کو ان سب کھلونوں سے ملتا ہوں، جن کے ٹوٹ جانے پر بچپن میں کتنا رویا ہوں. دیوار کے سوراخ میں چھپے چوہے نے میری ساری شرارتیں مجھے یاد دلا دیں. میں کالے چوہے کی دُم کے اوپر سفید دھاگہ کھینچتا تو وہ درزی کے ٹیبل کے نیچے گھس جاتے. وہ دن واپس کیوں نہیں آتے، بیس روپے میں سارے کھلونے مل جاتے تھے.

پتنگ، گوٹیاں، لٹو، دھاگے والا چوہا ذرا سی ضد کے آگے سب میری مٹھی میں آ جاتے تھے.

پھلجڑیوں جیسی ہنسی بکھیرتے ہوئے کچھ بچے ٹائر گھماتے ہوئے کھلونوں کی دکان کے سامنے سے گزر گئے تو دکان کے اندر سے وہ سب کھلونے باہر آ گئے جنہیں آج تک کوئی بچہ خریدنے نہیں آیا، کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد وہ بھی میری پلکوں پہ ٹھہرے آنسوؤں کی طرح واپس دکان کے اندر لوٹ گئے.

یہ بازار اس لیے بانجھ نہیں ہوتا کیونکہ یہ مسلسل کہانیاں جنتا رہتا ہے.

اس مکان کی کھڑکی سے آج بھی سو چکی اور مہندی کی خوشبو پھیلتی ہے اور تھکے ہوئے چراغوں کے سامنے گھنگرو بجنے کی آوازیں آتی ہیں، صبح ہوتے ہی وہاں ایک بوڑھی عورت شیشم کے دروازے کے سامنے لکڑی کے کارتوس بیچنے بیٹھ جاتی ہے.

یہاں گزرنے والا ہر شخص کچھ دیر کے لیے یہ ضرور محسوس کرتا ہے کہ جیسے اس بازار کے سارے لوگ ایک ہی گھر میں رہتے ہوں.

وقت کی چکی میں یہ لمحےایسے پس گئے ہیں یہاں کے مکانوں اور دکانوں کی اینٹیں بکھر گئیں ہیں، بس دیواروں پہ چمنیوں کا دھواں رہ گیا ہے، چند ادھ مٹے جملے باقی ہیں جن میں نا اہل امیدواروں کے انتخابی نشانات بنے ہوئے ہیں. بھاگتے ہوئے ایک بچے نے استری کے کوئلے سے دیوار پر کسی چابی والے کھلونے کی تصویر بنا دی تو میرے اندر سالوں سے بیثھی روٹھی ہوئی گڑیا ہنس پڑی. اتنے میں ایک بچہ سائیکل کی گھنٹی بجا کر تیزی سے گڑیا کی ہنسی نگل گیا، گھنٹی کی آواز سن کر ریڑھی پہ سوئے پاگل کی نیند ٹوٹ گئی.

ابھی تک گھنٹی کی آواز کانوں میں ہی رینگتی رہی کہ میرے سامنے ایک بوڑھا شخص بیساکیوں کے سہارے ہاتھ میں سائیکل کی گھنٹی بجا کر جا رہا تھا.

اس گلی کی روشنی دیواروں پہ بکھری پرچھائیوں کو یوں جوڑ لیتی ہے جیسے سالوں بعد کوئی بوڑھی عورت سینگار میز کے سامنے سفید بالوں کے پیچھے بے ساختہ مسکرا دے. اس گلی سے گزرنے والا ہر اجنبی شخص آنکھوں سے اوجھل ہونے کے بعد بھی کسی دکان کے صحن میں درخت کی طرح ٹھہر جاتا ہے، اور گلی کے آوارہ بچے اس پیڑ کے سارے پھل توڑ دیتے ہیں.

یہ روشنی اگر چہ بہت مختصر ہے لیکن زندگی کے ذائقوں سے لبریز ہے. ڈرتا ہوں لٹیرے اس گلی کی روشنی کو اپنے محل کے جھومر میں نہ سجا دیں. یہ سب دروازے بوڑھے ہو گئے ہیں لیکن حجام کی دکان کے دروازے کے پیچھے لگا آئینہ بوڑھا نہیں ہے.

آؤ جگنو بن کر اس گلی کی روشنیوں کو تعویذ کی طرح گلے میں پہن لیتے ہیں.

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *