• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • تحریک انصاف اور ایک غیر متوقع تبدیلی ۔ ثاقب الرحمان

تحریک انصاف اور ایک غیر متوقع تبدیلی ۔ ثاقب الرحمان

پچھلے دنوں بحث چل رہی تھی کہ لاہور میں جلسے کے باعث ایمبولینس میں ایک قیمتی جان ضائع ہو گئی. پی ٹی آئی کے سپورٹر دوستوں نے سارا ملبہ پنجاب حکومت پر ڈال دیا، گویا مہمانوں کے پیروں تلے اگر میزبان کا بچہ کچلا جائے تو غلطی سراسر میزبان کی ہے.

خیر ایک انسانی جان گئی تو اس کا کیا واویلا کرنا کیونکہ سیاست کے مشاہیر کے لئے خون منرل واٹر سے زیادہ سستا ٹھہرا ہے. اقتدار کا قانون یہ ہے کہ انسان اس لئے ہوتے ہیں کہ ان پر حکومت کرنے کے لئے انہی کا وجود پائمال کیا جائے، اور بار بار پائمال کیا جائے . صد افسوس کہ عوام بجائے غلط کو غلط کہنے کے، اپنے زمینی خداؤں کے لئے جواز تلاش لاتی ہے. کچھ دیوانے کہتے ہیں کہ “انقلاب خون مانگتا ہے”. ایک مستانہ یہاں تک کہہ گیا کہ “مستقبل سنوارنے کے لئے اگر چند جانیں قربان ہو گئیں تو کیا مضائقہ ہے”. علامہ اقبال نے اس فکر کو کیا خوب طریقے سے شعر میں ڈھالا ہے فرماتے ہیں…
ع
جادوئے محمود کی تاثیر سے چشم ایاز
دیکھتی ہے حلقہ گردن میں ساز دلبری

چند دن پرانی بات آج ایسے یاد آئی کہ کراچی کے شاہراہ فیصل پر میرا روز کا گزر ہوتا ہے، آج تحریک انصاف کے دھرنے کی بناء پر عمومی طور پر بیس منٹ میں طے ہونے والا فاصلہ ساڑھے چار گھنٹوں میں مکمل ہوا. ہم تو دیوانے ٹھہرے ہماری سانسیں اور خون ممکنہ طور پر آنے والے “سبز باغ” جیسے انقلاب اور ناچتی تبدیلی پر صد بار قربان لیکن اس “چھیپا ایمبولینس” کو کیا نام دوں جو تقریباً پون گھنٹہ میری گاڑی کے برابر رکی رہی. اس بلوچ خاتون کی آہ و زاری کس کے کھاتے میں ڈالوں جو بار بار آدھا دھڑ ایمبولینس سے باہر نکال کر تاحد نگاہ گاڑیوں کی قطار کو دیکھ کر کچھ زیر لب کہتی. کس مٹی میں جذب کروں وہ موتی جو وہ خاتون اپنے نقاب سے پونچھتی ہے کیونکہ اس کا بارہ سالہ بیمار بیٹا دھوئیں کی وجہ سے کھانستا اور بار بار الٹی کرتا ہے.

مناظر دل شکن تھے، لیکن کیا کیجئے کہ افسوس و تعزیت کے سستا ہو جانے کے بعد المیوں کا بیان زبانی جمع خرچ ہی لگتا ہے. سوچتا ہوں تحریک انصاف کی قیادت کو زمہ دار ٹھہرایا جائے یا نہیں!

ممکن ہے کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہو کہ یہ دھرنا اور روڈ بلاک وغیرہ محترم عمران خان صاحب کے کہنے پر نہیں ہوا تو پھر یہ لمحہ فکریہ ہے کہ آخر اس جماعت کو کون چلا رہا ہے. پشتو کے شاعر غنی خان کہتے ہیں کہ
“واک کیی چہ دہ بل وی، دہ دے نر نہ زنانہ خہ دہ”
(وہ جو کسی اور کے اختیار میں ہو اس مرد سے عورت ہونا بہتر ہے).
اور اگر ایسا محترم خان صاحب کی خواہش اور حکم پر ہوا ہے تو میں ایک عام آدمی ہونے کے ناطے خان صاحب سے سوال کرتا ہوں کہ

“آپ نے کینسر کا علاج کرنے کے لئے ایک عظیم ہسپتال قائم فرمایا آپ کا وطیرہ تو جان بچانا ہوا کرتا تھا، کہیں اقتدار کی ہوس نے آپ کے اندر چھپے انسان دوست اور غمخوار ‘عمران’ کی تخریب کر کے اس کے ملبے سے ‘وزیراعظم عمران خان’ کی عمارت تو نہیں کھڑی کر دی؟.”

ہم نے عمران خان کو دیکھا کہ انہوں نے کرکٹ کے میدان میں ہمیں عزت بخشی اور ایک خیراتی ہسپتال کے زریعے ہمیں ذندگی کی ایک کرن دکھائی. عزت اس لمحے فراموش ہوئی جب امپائر کی انگلی کا تذکرہ کیا گیا اور ہسپتال بنانے والے کے وجود پر سوال تب اٹھے جب ہسپتال تک پہنچنے والے راستے ہی بند کر دئے گئے. جن دو ستونوں پر محترم عمران خان صاحب کی شخصیت قائم ہے ان ہر روزانہ پی ٹی آئی کی طرف سے نقب لگائی جا رہی ہے خوف اس بات کا ہے کہ “امید” کی یہ کرن کہیں اپنے ہی سایہ تلے ہی خاموش نہ ہو جائے. عمران ایک توانا جسم ہے جس پر ایسے نسل کی جونکیں مسلط ہو چکی ہیں جو خون پیتے وقت پاک گندا نہیں دیکھتی سب پی جاتی ہیں.

محترم عمران خان صاحب کو کوریج دینے والا میڈیا کہتا ہے کہ چار ایمبولینس آج ٹریفک جام میں پھنسی تھیں… میڈیا کا بھروسہ نہ بھی کیا جائے تب بھی اپنی آنکھوں دیکھے کو کہاں لے جاؤں!
الٹی کرتا ہوا وہ بچہ پون گھنٹے کے ازیت ناک انتظار کے بعد اپنی ماں سے لپٹ گیا اور ایک موٹر سائیکل سوار انہیں اپنے ساتھ بٹھا کر فٹ پاتھ پر بائک دوڑانے لگا…. خدا جانے وہ کتنے وقت میں پہنچے ہونگے….

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *