فقہ اور آمریت ۔ صفتین خان

 قانون اور حکمران دونوں کا ساتھ لازم و ملزوم ہوتا ہے. دونوں کے اثرات معاشرے میں دیرپا ہوتے ہیں. مسلم معاشروں میں فقہ اور فقہا کے اثرات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کیوں کہ یہ اس وقت کی ریاست کا قانونی چہرہ تھے۔اسی فقہ کو قبول عام حاصل ہوا جسے حکمران وقت نے قبولیت بخشی۔ بلکہ یہ کلیہ تو مذہب میں بھی عام ہے۔ عیسائیت کی مثال سب کے سامنے ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت بادشاہ کا مذہب ہی عموما قوم کا مذہب ہوتا تھا. فقہا کی عظیم خدمات ناقابل فراموش ہیں اور اصول فقہ کے نام سے بنائی جانے والی علم کی شاخ بجا طور پر مسلمانوں کے لیے قابل فخر اور دنیا کے لیے قابل تقلید ہے. مگر اس کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا. وہ دراصل فقہ نہیں بلکہ حاملین فقہ کی کمزوریوں کا مظہر ہے.

تدوین قانون کی عدم موجودگی میں قاضی عدالتی و قانونی معاملات میں مطلق العنان ہوتے تھے اور بادشاہ قاضی کو مقرر کرنے میں بالکل آزاد تھا. قاضی کے اجتہاد و رائے قوت نافذہ رکھتے تھے. لہذا جتنی وسعت انکےفیصلے میں ہوتی تھی وہ اس وقت کے معاشرے کا عکس تھی۔ جہاں تک فقہا اور آمریت کے باہمی تعلق کا نظریہ ہے تو یہ یاد رہے کہ آمریت آزادی فکر اور عمل کی مخالفت کا نام ہے اور مسلم معاشروں میں علم کے زوال کے بعد جب فقہ محض متقدمین کے فیصلوں کے دفاع اور کتابوں کے شروح کا نام رہ گئی تو لازمی نتیجے کے طور پر مسلم سوسائٹی بھی جمود کا شکار ہوئی اور ریاست کا قانونی و انتظامی چہرہ ہونے کے بدولت بادشاہ وقت جو دراصل اس وقت ریاست کی واحد علامت ہوتا تھا، کے مزاج پر بھی لازمی طور پر اثرانداز ہوئی۔ یاد رہے ہمیشہ سیاست و ریاست علم کے تابع رہی ہے.

جب جب علم کا زوال و جمود اندھی تقلید کی شکل میں وارد ہوا تب تب معاشرے میں شدت پسندی بڑھی ہے. اس کا لازمی نتیجہ یہ نہیں کہ فقہ نے آمریت کو منطقی بنیادیں فراہم کیں بلکہ یہ دونوں کے غیر محسوس تعلق کو بیان کرنے کی کوشش ہے۔ اس وقت جو سیاسی نظام تھا بادشاہت کا اس میں آمریت اور جمہوریت کا تعق بادشاہ کے مزاج سے تھا اس کے طریقہ انتخاب سے نہیں۔ . سیاسی آمریت علمی آمریت کا براہ راست نتیجہ ہوتی ہے۔ تاریخ اس بات پر گواہ ہے۔ اور ایسا صرف مسلم معاشروں کے ساتھ خاص نہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جب اس طرف توجہ دلائی جائے تو لوگ ابتدائی صدیوں میں تشکیل فقہ کے لیے آزادانہ بحث کے مراحل کو دلیل کے طور پر اس کے خلاف پیش کرتے ہیں مگر بعد کی صدیوں میں اصولوں کی پیروی کے نام پر بدترین علمی آمریت کو بھول جاتے ہیں. اس کا سب سے بڑا ثبوت پاکستان میں آمریت کی تاریخ ہے جس کو ہمیشہ کندھا وقت کے علما و فقہا نے پیش کیا جو بدقسمتی سے اب ایک سیاسی اکائی بھی رکھتے تھے. ایوب کے دور میں علما کی سب سے بڑی جماعت جمیعت علمائے اسلام کے مفتی محمود اور مشرف دور میں فضل الرحمان اسی گٹھ جوڑ کی علامت ہیں. اس لیے کہ دونوں آزادی اظہار کے مخالف رہے ہیں. ایک دینی امور میں دوسرا سیاسی امور میں. اقبال نے اسی بات کو اپنے لافانی اسلوب میں امر کر دیا . اے کشتہ سلطانی و ملائی و پیری لہذا دونوں طرف کی انتہاوں سے بچتے ہوئے اس امر کی ضرورت ہے کہ اصولوں کی اہمیت کے باوجود سوچ کی آزادی کی حوصلہ افزائی کی جائے اور فقہ کی اصل روح جو تدبر کا بیاں ہے، کی نشاۃ ثانیہ کی کوشش کی جائے۔

فقہ حالات پر شریعت کے انطباق کا نام ہے اور یہ وسعت فکر کے بغیر ممکن نہیں۔ جیسے فقہ کے ابتدائی دور میں ہوا ویسے ہی اب کرنا پرے گا۔. فقہ اسلامی نے کسی حکمران کی اعانت کے بغیر قبولیت کے مراحل طے کئے ۔ ایسا نہیں کہ فقہ کی تشکیل حکومت کے مرہون منت رہی بلکہ میں نے اس کے عروج میں اس کے کردار کو بیان کیا ہے۔ فقہ کے ابتدائی دور میں بہت سے دوسرے عظیم فقیہ بھی تھے جن کے مستقل سکول آف تھاٹ تھے ۔ کیا ہوا ان کو ؟ کہاں گئی ان کی فقہ ؟ محض اس لیے معدوم ہو گئے کیوں کہ عوام میں فقہ حنفی مشہور ہو گئی تھی یا پھر حکومتی سرپرستی تھی ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں وجوہ تھیں ۔ سیاست ، حکومت اور قانون کا تعلق اتنا سادہ نہیں ہوتا۔ ہمیشہ سے حکومت اور عدلیہ کا ایک دوسرے کے فروغ میں گہرا تعلق رہا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ حنفی سکول آف تھاٹ زیادہ مربوط اور اجتہادی شان والا تھا مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ باقی بالکل ہی گئے گزرے تھے اور حنفی سکول ایسی مجبوری بن چکا تھا حکومت کی جس کے بعد اور کسی کی گنجائش نہیں نکل سکتی تھی۔ ایک وجہ جو ان کے حق میں جاتی ہے وہ ان کا قاضی القضاۃ کے منصب کو قبول کرنا تھا۔ قدرتی طور پر اس کے بعد ان کی فقہ کو زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی اور اس میں عباسی اور عثمانی خلفا کے کردار کو نظرانداز کرنا معاشرے اور قانون کے باہمی تعلق اور تاریخ کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ ابو یوسف کے اس منصب پر فائز ہونے کے بعد ہر وہ قاضی جو حنفی سکول سے متعلق نہیں تھا فارغ کر دیا گیا۔ اس کے بعد عثمانی سلطنت کے عروج کے دور میں بھی حنفی سکول آف تھاٹ کے قضا غالب تھے اور ایسے علاقوں میں بھی بھیجے جاتے تھے جہاں دوسرے مسلک کے لوگ ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں حنفی سکول ایک غالب انتظامی سکول کی صورت ابھر کر آیا اور اکثریت کا مذہب ٹھرگا جب کہ مالکی، جعفریہ، شافعی اور حنبلی سکول اپنے محدود علاقوں سے باہر نہ نکل سکا۔

حنفی سکول کی آج بھی اکثریت عباسی اور عثمانی خلافت کے علاقوں میں موجود ہے۔ اسی بات کو مشہور فقیہ ابن حزم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے ” دو سکول آف تھاٹس کو ریاست اور حکومت کی مدد حاصل رہی مشہوری اور پھیلاو میں۔ حنفی جب کہ ابو یوسف چیف جسٹس بنا اور اس نے صرف اپنے مذہب کے لوگوں کو عدالتی امور کا جج مقرر کیا اور مالکی سکول آف تھاٹ کو۔ ” وفیات الاعیان) ۔۔۔ آل دہلوی کہتے ہیں ” وہی سکول آف تھاٹس زیادہ مشہور ہوئے جن کے پاس قضا اور افتا کی طاقت تھی۔ باقی معدوم ہوتے چلے گئے۔ ” ریاست اور سیاست ہمیشہ علم کے تابع رہتی ہے مگر اس سے یہ کہاں اخذ ہوتا ہے کہ حکومت کا علم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بادشاہ وقت کے احساسات کو زبان عدالت ہی دیتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف مطلق العنانی کی نفی کی جاتی ہے اور دوسری طرف خود اس کی مثال بیان کی جاتی ہے مثلا اکبر کے دور میں قاضی کا اپنے فیصلے پر اصرار بادشاہ کی ناخوشی کے باوجود ۔ قاضی باالعموم بادشاہ وقت کے مقرر کردہ ہوتے تھے اور ان پر اس کا اثر نہ ہونا ناممکنات میں سے ہے۔ پھر میرا مقصود دونوں میں ایک تعلق کو بیان کرنا تھا کوئی لازمی منطقی کلیہ کا بیان نہیں۔ اوپر خود ابویوسف کی مطلق العنانی کی ایک جھلک پیش کر چکا ہوں۔ تدوین قانون کی عدم موجودگی میں قاضی کی مطلق العنانی پر قدغن محض ایک روایتی تصور بن کر رہ جاتا ہے جس کی نافرمانی پر اس کی کوئی گرفت کرنا ممکن نہیں۔

مغرب نے سماجی علوم کو جس طرح مدون کیا ہے اس کے بعد ایسی کسی روایت کو جاری رکھنا اتنا آسان نہیں رہا۔ اصولوں کی پیروی پر یہی بنیادی نقطہ اختلاف ہے کہ تقلید و جمود کو اصولوں کی پیروی کا نام دیا جاتا ہے جو ایک حد تک قانونی مجبوری بھی ہے ۔ اصولوں کی پیروی اور جمود میں بہت باریک لائن ہوتی ہے جس کو اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ اسی ناسمجھی کی بدولت ایک خاص وقت کے بعد اصولوں کی پیروی کے نام پر جمود و اندھی تقلید نے جنم لیا اور اس بات کو خود اقبال نے اپنے خظبات میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ سقوط بغداد کے بعد مسلمانوں میں معدومیت اور فکری انتشار کے اسی نفسیاتی خوف کی بدولت اصولوں کی پیروی کے نام پر اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد عملا تو کھلا رہا کہ بدلتے حالات میں اس کو بند کرنا ممکن نہ تھا مگر نظریاتی طور پر اس کی ترویج ناپسندیدہ قرار پائی۔ یہی وجہ ہے کہ جب مسلمانوں کو مغربی علمی یلغار کا سامنا کرنا پڑا تو ان کے پاس دفاع کے لیے وہ اذہان ہی نہ تھے جو فکری بلندی و وسعت کے اس مقام پر فائز ہوں۔ فقہ اپنے وجود میں ہی وسعت اور اجتہاد کی محتاج ہے اور جب سے اس کو ان ناگزیر عناصر سے محروم کرنے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش کی گئی ہے نقصان مسلمانوں کا ہی ہوا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *